از: مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظم تعلیمات:دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر (راجستھان)
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے جلو میں بے شمار رحمتیں، برکتیں اور مغفرتیں سمیٹے ہوئے اہلِ ایمان پر سایہ فگن ہے۔ یہ وہ بابرکت ساعتیں ہیں جن میں آسمانِ رحمت سے انوار و تجلیات کی موسلادھار بارش برستی ہے اور بندگانِ خدا کو اپنے رب کی طرف رجوع کا سنہرا موقع فراہم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس مہینے کے مقصد کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” (البقرہ: 183)
یعنی روزوں کی فرضیت کا اصل ہدف “تقویٰ” کا حصول ہے۔
رمضان لفظی اعتبار سے عربی مادہ “رَمَضَ” (ر م ض) سے ماخوذ ہے جس کے معنی شدید گرمی، تپش اور جلانے کے ہیں۔ عربی لغت کی معتبر کتابوں میں “الرَّمَضُ: شِدَّةُ الحَرِّ” یعنی سخت گرمی بیان کیا گیا ہے۔ اہلِ لغت کے مطابق جب عربوں نے مہینوں کے نام مقرر کیے تو یہ مہینہ سخت گرمی کے زمانے میں واقع ہوا تھا، اسی مناسبت سے اس کا نام “رمضان” رکھا گیا۔ اسی اصل معنی کی مناسبت سے بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ رمضان گناہوں کو جلا دیتا ہے اور مومن کے باطن کو معاصی کی آلودگی سے پاک کر دیتا ہے۔
بعض اہلِ لغت کا یہ بھی کہنا ہے کہ “رمضا” اس بارش کو بھی کہتے ہیں جو موسم سے پہلے برس کر زمین کو گرد و غبار سے صاف کر دیتی ہے۔ اس مناسبت سے کہا گیا کہ جس طرح بارش زمین کی گرد وغبارکو دھو کر صاف کردیتی ہے، اسی طرح رمضان کی عبادات روح کو معاصی و گناہوں کی گرد وآلودگی سے پاک وصاف کر دیتی ہیں۔ اگرچہ یہ تعبیر وعظی و معنوی توجیہ کے طور پر نہایت بلیغ ہے، تاہم اصل لغوی تحقیق شدید گرمی اور تپش ہی کو قرار دیتی ہے۔
گویا یہ ماہِ مقدس گناہوں کو جھلسا دینے اور دلوں کی گرد دھو ڈالنے دونوں معنوی پہلوؤں کا جامع ہے۔
روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خود کو تربیت دینے کا نام ہے۔ عربی میں “صوم” کے معنی رک جانے کے ہیں، یعنی بندہ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک صرف کھانے پینے سے ہی نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور دل کو بھی برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔ یہی حقیقی صوم ہے جو انسان کے اندر حیوانیت کو کم اور انسایت و نورانیت کو بڑھاتا ہے۔
تقویٰ کیا ہے؟ اس کی بہترین تشریح سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد میں ملتی ہے کہ جیسے خاردار جھاڑیوں سے دامن سمیٹ کر گزرا جاتا ہے، اسی طرح گناہوں سے بچتے ہوئے دنیا کی راہ طے کرنا تقویٰ ہے۔ رمضان ہمیں یہی شعور دیتا ہے کہ ہم اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کریں، آنکھ، کان، زبان اور دل کو گناہوں سے محفوظ رکھیں اور زندگی کو اطاعتِ الٰہی کے سانچے میں ڈھال دیں۔
یہ مہینہ قرآنِ کریم سے خصوصی نسبت رکھتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ” (البقرہ: 185)۔
اسی ماہ میں پہلی وحی “اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ” نازل ہوئی اور اسی میں شبِ قدر جیسی عظیم رات رکھی گئی جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق قرآنِ کریم لوحِ محفوظ سے لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا اور پھر تدریجاً نازل ہوتا رہا۔ لہٰذا رمضان قرآن سے تعلق جوڑنے، اس کی تلاوت، تدبر اور عمل کا عملی مظاہرہ کرنے کا مہینہ ہے۔
رمضان المبارک کو باقی مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے۔ اسی ماہ میں انبیائے کرام علیہم السلام کی کتابوں کا نزول ہوا، صحیفۂ ابراہیم، تورات اور انجیل کا نزول اسی ماہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی ماہ کی بیس تاریخ کو فتح مکہ جیسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے: “الصوم جنة” یعنی روزہ ڈھال ہے، جب تک اسے گناہوں سے پھاڑا نہ جائے۔ مگر یاد رہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنا مقصود نہیں؛ اگر زبان جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ نہ ہو تو روزے کی روح مجروح ہوجاتی ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا: “من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه”۔
رمضان کی پہلی رات سے ہی رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، جنت کے دروازے وا ہو جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ اس ماہ کی ابتدا رحمت، درمیان مغفرت اور آخر جہنم سے نجات ہے۔ افطار کے وقت روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
یہ مہینہ محض انفرادی عبادت کا نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ اس میں رزق میں برکت ہوتی ہے، نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اہلِ ثروت زکوٰۃ و صدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، غربا و مساکین کی خبر گیری ہوتی ہے، صلہ رحمی اور خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
رمضان دراصل ایک تربیتی کیمپ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کھانے میں اعتدال اختیار کریں، اسراف سے بچیں، راتوں کو موبائل اور فضول مشاغل میں ضائع نہ کریں بلکہ تہجد، تراویح، تلاوتِ قرآن اور ذکر و دعا سے اپنی روح کو منور کریں۔ افسوس کہ ہم نے افطار کی رنگینیوں کو بڑھا لیا مگر سجدوں کی لذت کم کر دی، مجلسوں کو آباد کیا مگر دلوں کو ویران چھوڑ دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کی اصل روح کو سمجھیں۔
رمضان ہمیں چند بنیادی پیغامات دیتا ہے:
تزکیۂ نفس: خواہشات کو قابو میں رکھ کر روحانیت کو جِلا بخشنا۔
کثرتِ عبادت: نماز، تراویح، تہجد اور نوافل کے ذریعے رب سے تعلق مضبوط کرنا۔
تلاوتِ قرآن: رمضان کو قرآن کا مہینہ بنا کر اپنی زندگی کو اس کے نور سے منور کرنا۔
استغفار و دعا: افطار کے لمحات میں گڑگڑا کر مغفرت طلب کرنا۔
ایثار و سخاوت: محتاجوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی خبر گیری کرنا۔
اخلاقی اصلاح: جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضولیات سے مکمل اجتناب۔
ہمیں چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، گزشتہ گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں، آئندہ کے لیے سچی توبہ کا عہد کریں اور گیارہ مہینوں کے لیے تقویٰ کی پونجی جمع کر لیں۔ اگر رمضان گزرنے کے بعد بھی ہماری نمازیں سنور جائیں، ہماری زبان محفوظ ہو جائے، ہمارے معاملات درست ہو جائیں اور ہمارے کردار میں اخلاص و دیانت پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے رمضان کا مقصد پا لیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کی صحیح قدر کرنے، اس کے مقاصد کو سمجھنے، تقویٰ و تزکیہ کی دولت سے مالا مال ہونے اور تعمیرِ کردار کی حقیقی راہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور اس ماہِ مبارک کو ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ۔
