مسلم آبادی پر شدت پسند افراد کے  مسلسل حملے گہری سازش کا نتیجہ !

سہارنپور( احمد رضا): دیکھنے میں آرہا ہے کہ ملک میں 2014 کے بعد سے مسلم طبقہ کے خلاف” مارو اور  بے گھر کرو ” والی گھنونی سازش عمل میں لائی جا رہی ہے اسی گہری پلاننگ کے تحت شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مسلم طبقہ کے خلاف حکمت عملی پر کام انجام دیا جا رہا ہے سرکار ،سرکاری مشینری اور سیاسی جماعتیں سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں, دہلی کے نند نگری علاقہ میں تین ہندو شدت پسند افراد نے گولی مار کر ایک مسلم شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا ابھی تک پولیس اصل مجرم کو گرفتار نہی کر سکی وہیں نماز کے نام پر مسلم افراد کو زرد کوب کرنے والے شدت پسند افراد کو اتراکھنڈ پولیس گرفتار نہی کر سکی وہیں بدا یوں میں مسلم بزرگو ں پر جانلیوا حملہ کرنے والے اکشے کمار کے خلاف بھی کچھ کروائی نہی کی گئی اسی وجہ سے کل پھر جبل پو ر کے علاقہ  سی ہو ر ہ ۔میں ہندو شدت پسند افراد نے لاٹھی اور لوہے کی را ڈ یں ہاتھوں میں لیکر جلوس نکالا مسلم طبقہ کو تشدد کا شکار بنایا مسلم طبقہ کو زبردست نقصان پہنچا یا اور پولیس نے ظالموں جابروں کو چھوڑ کر الٹے ساٹھ سے زائد مسلم افراد کو ہی فساد کا زمہ دار قرار دے دیا سارا تماشا پولیس کے سامنے پیش آ یا اور پولیس اہلکار تماشائی بنے رہے  اسی دوران ایک دیگر واردات میں بدایوں کے ایک محلہ میں ہندو بجرنگ دل کے شدت پسند اکشے کمار نے تین بزرگ مسلم افراد پر جاں لیوا حملہ کیا اسکے علاوہ مراد آباد کے تھانہ بھوجپور علاقہ میں سو سال پرانی درگاہ کو انتظامیہ نے بلاوجہ بلڈوزر چلا کر زمین میں ملادیا ہے جگ ظاہر ہے کہ شدت پسند تنظیموں کے لوگوں نے یاترا کے نام پر مسلم آبادی کے خلاف زہر اگلنے اور زہر پھیلانے کا گندہ مدارس اسلامیہ، مزارات ، مساجد کے باہر تیز آواز سے ڈی جے پر ناچ گا نا ، نفرت اجاگر کرنے والے گیتوں کو لگاتار بجانا ،جگہ جگہ مسلم افراد پر حملوں میں اضافہ ، ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ پہلے گجرات کے علاقہ انگلیشور کے قریب ٹرین میں ایک مسلم بزرگ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے تبھی تین ہندو شدت پسند افراد آئے اور بزرگ کو گالیاں دیتے ہوئے مار نے پیٹنے لگے بھری ٹرین میں کسی بھی مسافر نے مسلم بزرگ کو نہی بچایا اسی طرح سے دوسرا شرمناک واقعہ اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ میں پیش آیا کہ جہاں اپنے مکان میں نماز ادا کر رہے مسلم افراد کو ہندو شدت پسند افراد نے گالیاں دیتے ہوئے بھگا دیا اور پولیس نے مسلم افراد کے خلاف معاملہ درج کر لیا اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مسلم افراد پر حملے کرتے ہیں ہندو شدت پسند مسجدوں اور مدرسوں پر حملے کرتے ہیں ہندو شدت پسند اور سرکاری بلڈوزر مگر مقدمات درج ہوتے ہیں مسلم افراد کے خلاف کیا پوری دنیا میں اس ظلم اور جبر کو کوئی سننے یا دیکھنے والا نہیں ہے کہ آخر مسلم آبادی کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے مسلم افراد کی پٹائی ، جانی اور مالی تباہی اور مسلم طبقہ کے گھروں کی بربادی اعلانیہ طور سے کی جا رہی ہے آزان نماز حجاب اور داڑھی کے نام پر مسلم آبادی کو زرد کوب کرنے کے ساتھ ساتھ بلاوجہ فرضی مقدمات میں الجھایا جا رہا ہے جبکہ چار روز قبل ہی قابل قدر سپریم کورٹ نے کل ہی نماز ادا کرنے کے خلاف ایکشن لینے والے کلکٹر اور ایس پی کو لتاڈ۔ لگائی ہے مگر اسکے باوجود بھی مسلم افراد پر حملہ مسلسل جاری ہیں ، ملک کے آئینی تانے بانے کو سرکار میں بیٹھے مٹھی بھر مفاد پرست اقتدار کے بھوکے افراد نے اس قدر نقصان پہنچا دیا ہے کہ آج پوری دنیا میں ہمارے وطن عزیز کی قیادت کا مزاق اڑایا جا رہا ہے یہاں نفرت اور دہشت پھیلانے والے خطرناک وائرس کو پالا اور پن پا جا رہا ہے تاکہ ملک کے امن اور استحکام کو تار تار کرنے کے بعد دو قوم کے درمیان کھائی بنا دی جا ئے اور نفرت کی آڑ میں مسلم آبادی کو جانی اور مالی نقصان پہنچا کر اقتدار پر من مانے طور سے قابض رہا جا سکے سیاست کے اس گندے کھیل میں بھلے ہی ملک کا آئین شرمسار ہو کہ پوری دنیا میں ہمارا مزاق اڑایا جا ئے اسکی کچھ بھی فکر یا پرواہ نہیں ؟ موجودہ سماجی اور سیاسی تناظر میں یہ تشویش مزید گہری ہو جاتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی بنیادوں پر تشدد، نفرت انگیز بیانات ہجومی کارروائیاں اور عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات آج تلخ حقیقت بن چکے ہیں گورکشا، نماز ، آزان ،لو جہاد اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر خاص فرقہ کو تشدد کا شکار بنایا جا نا در حقیقت ان دنوں اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا ہے ایسے ماحول میں عدالت ہی وہ واحد ادارہ رہ جاتی ہے جس سے مظلوم طبقے انصاف اور تحفظ کی امید باندھتے ہیں۔ اگر اسی ادارے سے مذہبی جھکاؤ یا جانبداری کا تاثر ملنے لگے تو یہ آئینی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، محسوس بھی ہونا چاہیے۔
عدالتی روایت ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ جج نہ صرف غیر جانب دار ہو بلکہ اس کی گفتار، طرزِ عمل اور عوامی موجودگی سے بھی غیر جانب داری جھلکتی ہو۔ اسی اصول کے تحت ماضی میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے ججوں کے سیاسی تبصروں، نظریاتی اظہار اور مذہبی نوعیت کے عوامی بیانات کے حوالے سے احتیاط کو لازمی قرار دیا ہے۔ جج کے الفاظ عام شہری کے الفاظ نہیں ہوتے، وہ پورے عدالتی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری دوہری ہوتی ہے—قانونی بھی اور اخلاقی بھی۔
یہ معاملہ کسی ایک بیان یا ایک جج تک محدود نہیں۔ یہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام کو کس سمت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا عدالتیں محض قانونی تنازعات سلجھانے کا ادارہ بن کر رہ جائیں گی یا وہ واقعی آئینی قدروں کی محافظ بنیں گی؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی ادارے اپنے اخلاقی معیارات کو مزید واضح کریں، ججوں کے عوامی بیانات کے لیے مضبوط روایت اور حد بندی قائم رکھیں، اور عدالتی تربیت میں سیکولرازم کو محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک عملی قدر کے طور پر شامل کیا جائے۔ آخرکار، اگر واقعی کسی جج کے دل میں کوئی “دھرم” ہونا چاہیے تو وہ انصاف سے غیر مشروط وابستگی کا دھرم ہو۔ ایسا دھرم جو ثبوت پر یقین رکھے، دلیل کو جذبات پر فوقیت دے اور ہر شہری کو بلا تفریق برابر سمجھے ملک ہندوستان کے گندے سیاسی کھیل سے قبل یہی پختہ نظریہ آئین کی روح ہے اور یہی جمہوری ہندوستان کی بنیاد بھی رہا ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے