ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ناظم جامعۃ الفیصل۔ تاج پور ،بجنور
ماہِ رمضان اسلامی سال کا وہ مبارک اور مقدس مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضائل و برکات سے نوازا ہے۔ یہ محض دنوں اور راتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، روح کی بالیدگی اور اعمال کی اصلاح کا عظیم موقع ہے۔ اسی مہینے میں بندہ اپنے رب سے خصوصی قرب حاصل کرتا، گناہوں سے توبہ کرتا اور نیکیوں کے ذریعے اپنی آخرت سنوارتا ہے۔ قرآن کے نزول، شبِ قدر کی عظمت، روزوں کی فرضیت اور بے حساب اجر و ثواب کی بشارتوں نے اسے دیگر مہینوں پر امتیاز بخشا ہے۔ ذیل میں رمضان المبارک کی انہی نمایاں خوبیوں اور خصوصیات کا مختصر تذکرہ پیش کیا جاتا ہے، جن کی بنا پر اسے اللہ تعالیٰ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔
۱۔رمضان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اللہ کی کتاب قرآن مجید نازل ہوئی۔قرآن اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ذرا سوچئے اللہ تعالیٰ ہمیں سب کچھ دیتا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ بتاتا یا اپنی نعمتوں کے استعمال کا طریقہ نہ بتاتا تو کیا ہوتا؟ ایسا ہی ہوتا کہ ایک شخص کسی بیابان میں راستہ بھول جائے حالانکہ اس کے پاس اسباب زندگی موجود ہوں۔اللہ کا ارشاد ہے۔
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ۔(البقرۃ: 185)
’’ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ، وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ اس میں ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی نشانیاںہیں۔‘‘
قرآن کتاب ہدایت ہے ،اس سے رہنمائی حاصل کیجیے ۔اس سے خصوصی شغف اور تعلق رکھیے۔زیادہ سے زیادہ تلاوت کیجیے۔اس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔اس کو پڑھتے ہوئے اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے اور دیکھیے کہ آپ قرآن کی کن باتوں پر عمل کرتے ہیں اور کن باتوں پر عمل نہیں کرتے۔جن پر عمل کرسکتے ہیں ان پر عمل کیجیے۔
۲۔رمضان کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک رات ہے جسے شب قدر کہتے ہیں۔بلکہ اگر کہاجائے کہ رمضان کا سب سے بڑا تحفہ شب قدر ہے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا، شب قدرمیں قرآن پاک نازل ہوا، قرآن جیسی انمول اور بیش قیمت کتاب کے نزول کے سبب اس کوتمام راتوں پر فضیلت حاصل ہے۔علماء کہتے ہیں کہ اس رات میں اللہ تقدیر لکھتا ہے اس لیے یہ شب قدر ہے ،کچھ علماء کہتے ہیں کہ یہ رات محترم و مقدس رات ہے اس لیے قدر والی رات ہے ،خیر جو بھی ہو شب ِ قدر میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ دعائیں قبول ہونے کا اہتمام ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ کی خوب تسبیح کرے، اس سے خوب دعائیں مانگے اور امید رکھے کہ اس کی دعائیں ضرور سنی جائیں گی۔ قرآن پاک میں شب قدر کے بارے میں فرمایا گیا ہے:
لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ (القدر: ۳)’’شب قدر ایک ہزار مہینہ کی راتوں سے بہتر ہے۔‘‘
ذرا سوچیے کہ ایک رات ایک ہزار مہینوں کی رات سے افضل ،یعنی اس رات کی عبادت اسی سال کی عبادت کے برابر۔اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ایسی رات عطا فرمائی ۔
۳۔رمضان کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ رمضان میں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔دس گنا دینے کا تو اللہ نے عام دنوں میں وعدہ فرمایا ہے مگر رمضان کے ایام میں یہ پیمانہ بدل جاتا ہے اور سات سو گنا تک چلا جاتا ہے۔یہ بندے کے خلوص اور نیت پر منحصر ہے کہ وہ کتنے اجر کا مستحق قرار پاتا ہے۔اللہ کا کھلا دربار ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔وہ خود اجر دینے والاہے ،وہ اپنے بندے سے بے انتہا محبت کرتا ہے ،وہ بندے کی نیتوں سے واقف ہے اس لیے وہ جتنا چاہے اجر دے سکتا ہے ۔ہمارا کام تو نیکیاں کرتے رہنا ہے اور مغفرت کی طرف دوڑنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَسَارِعُوٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ (آل عمران133)
’’اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور جنت کی طرف جس کا عرض (وسعت)آسمان اور زمین ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
جس قدر آپ سے نیکیاںکی جاسکیں اس ماہ مبارک میں کیجیے،لوگوں سے مسکرا کر ملیے ،خوب سلام کیجیے،ضرورت مندوں کی مدد کیجیے ،قرآن پڑھیے ،دوسروں کو سکھائیے ،درس قرآن کی محفلیں سجائیے،غرض جو نیک عمل کرسکتے ہوں کیجیے اس لیے کہ ہر نیکی کا اجر سات سو گنا تک ملنے والا ہے ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کمپنی کہے کہ سترہزارروپے والی موٹر سائکل صرف ایک سوروپے میں اور سات لاکھ والی کار صرف ایک ہزار روپے میں مل رہی تو آپ اندازہ کیجیے ہم میں سے کون ہوگا جو کمپنی کے اس آفر کو چھوڑ دے گا ۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ کمپنی دھوکا دے لیکن رمضان میں نیکیوں کے اجر پر جس ذات نے وعدہ کیا ہے وہ کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔
۴۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں فرشتوں سے کہا جاتا ہے کہ روزے دار بندوں کے لیے جنت کو آراستہ کرو۔جنت کے ایک دروازے کو صرف روزے داروں کے لیے مخصوص کردیا جائے گا ۔حدیث میں ہے کہ۔
’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’’باب ریان‘‘ کہا جاتا ہے اوراس میں روز قیامت صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ کوئی اورداخل نہیں ہوسکتا، کہا جائے گا :۔روزہ دار کہاں ہیں؟ تووہ اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے ۔ ان کے علاوہ کوئی اورداخل نہیں ہوگا جب روزے دار داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا۔‘‘( بخاری ، مسلم )
۵۔اس مہینے کی خوبی یہ ہے کہ روزے دار کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں ،کائنات کی ہر شئی اس کے لیے حاضر رہتی ہے۔روزے دار کے منھ کی بو بھی اللہ کو مشک سے زیادہ پسند ہے ۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریمؐ کا فرمان ہے :۔
’’میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملیں۔ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو(جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے)اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔ تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اورہر دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ:۔ ’’میرے (نیک) بندوں کے لیے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پا ئیں گے‘‘۔پانچویں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے،قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ ؐ!کیاوہ لیلۃ القدر ہے؟ارشاد فرمایا:نہیں،کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کام سے فارغ ہوجاتے ہیں تو اْنہیں اجرت دی جاتی ہے‘‘(شعب الایمان )۔
۶۔رمضان کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اپنے بندوں کے رزق میں کشادگی فرما دیتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس مہینے میں جن گھروں میں روزے رکھے جاتے ہیں وہاں عام دنوں کے مقابلے زیادہ اچھے کھانے بنائے جاتے ہیں ،شربت کا اہتمام ہوتا ہے ،دسترخوان پر پھل ہوتے ہیں ،عام دنوں میں ہم کبھی کبھار ہی پھل لاتے ہیں ۔مگر رمضان میں ہمارے یہاں بلا ناغہ پھلوں کا اہتمام ہوتا ہے ،یہ صرف امیروں کے یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ غریبوں کے دستر خوان پر بھی پھل اور شربت ہوتا ہے،لوگ صرف اپنے لیے ہی اہتمام نہیں کرتے بلکہ اپنے ہمسایوں اور دوستوں کے لیے بھی کرتے ہیں ،پھر یہ سارا خرچ انسان خوشی خوشی کرتا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مہینے میں اللہ اپنے بندوں کا رزق بڑھا دیتا ہے۔
’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا:’’ اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہو ا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور راتوں کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے وہ دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔‘‘(بیہقی فی شعب الایمان)
۷۔اس مہینے کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا عشرہ ہے ۔یعنی بندہؐ مومن کے لیے اس مہینے میں یہ موقع ہے کہ اللہ کی رحمتوں سے اپنا دامن بھر کر مغفرت کا مستحق ہو اور جہنم سے نجات حاصل کرے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
وَہُوَ شَہْرٌ اَوَّلُہُ رَحْمَۃٌ وَ اَوْسَطُہُ مَغْفِرَۃٌ وَآخِرُہُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ(بیہقی فی شعب الایمان)
’’یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت،درمیان کا مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا عشرہ ہے۔‘‘
مولانا منظور نعمانی ؒ فرماتے ہیں :
’’ اللہ کے کچھ بندے وہ ہوتے ہیں جو اتنے نیک ہوتے ہیں کہ اللہ کی رحمت کے پہلے سے ہی مستحق ہوتے ہیں انھیں باقی دو چیزیں پہلے ہی عشرے میں مل جاتی ہیں اور کچھ بندے وہ ہوتے ہیں جو رمضان میں نیکیاں کرکے دوسرے عشرے میں مستحق مغفرت و نجات ہوتے ہیں اور کچھ گناہ گار بندے وہ ہوتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ ان کی عبادت کے بدلے آخری عشرے میں نجات عطا کرتا ہے ۔‘‘
۸۔رمضان المبارک کے خاص اعمال میں سے ایک عمل روزہ دار کو افطار کرانا بھی ہے۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے یہ بڑی فضیلت اور اہمیت کا حامل ہے۔ بعض علاقوں کی مساجد میں افطارکا اہتمام کیا جاتاہے، لوگ اپنے گھروں سے مختلف کھانے لے کر محلہ کی مسجد میں جمع ہوجاتے ہیں اور تمام لوگ مل جل کر افطار کرتے ہیں۔ مسافر اور پردیسی کو بھی اس سے آسانی ہو جاتی ہے، لیکن بہت سے لوگ جن کو اللہ نے دولت بھی دی ہے وہ افطار کرانے کا بالکل اہتمام نہیں کرتے، خود بھی اپنے گھروں سے نہیں نکلتے اور نہ اس عملِ خیر میں حصہ لیتے ہیں۔ جب کہ نبی کریم ﷺ افطارکرانے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے اس پر ملنے والے تین طرح کے اجر و ثواب کا تذکرہ کرتے ہیں :
۱-’’ کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃٌ لِذُنُوْبِہٖ‘‘ جس نے ماہِ رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
۲-’’ وَعِتْقُ رَقْبَتِہٖ مِنَ النَّارِ‘‘ افطار کرانے والے کو جہنم سے آزادی دے دی جائے گی۔
۳-’’ وَکَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ‘‘ افطار کرانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا ۔ گویا افطار کرانے والے کو اپنے روزہ کا بھی ثواب ملے گا اور جس کو افطار کرایا ہے اس کے روزہ کا بھی اجر و ثواب ملے گا، ہاں روزہ دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
۹۔رمضان کی ایک خصوصیت اس میں قیام لیل کا ہونا ہے ،قیام لیل کو تہجد بھی کہتے ہیں اور ہمارے یہاں تراویح بھی اسی کے لیے بولا جاتا ہے ۔یہ اللہ کا بڑا انعام ہے کہ اس نے ہمیںایسا مہینہ عطا فرمایا جس کے سجدوں میں اللہ نے برکت رکھی۔
تراویح اور قیام اللیل کا اہتمام کیجیے ،آپ چاہیں تو ساری رات عبادت کرسکتے ہیں ،لیکن حسب استطاعت رات کا کچھ حصہ عبادت میں ضرورگزاریے۔اللہ کے حضور ضرور کھڑے ہوئیے،اس کے سامنے رکوع کیجیے اور اس کے سامنے سرجھکائیے۔اس سے گڑ گڑا کر دعائیں کیجیے ۔
رمضان نیکیوں کاموسم بہار ہے۔ اس موسم میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں سے اپنے دامن کو مالا مال کیجیے۔ فرض کے ساتھ نوافل واذکار کا بھی اہتمام کیجیے۔ اس مہینے میں ہر نفل کا ثواب فرض کے برابر کردیا جاتا ہے۔اس لیے کثرت سے نوافل پڑھیے تاکہ وہ آپ کی لغزشوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بن سکیں۔ خاص طور سے رات کے آخری حصے میں نوافل کا اہتمام کیجیے۔ جب ہر سو سناٹا ہو، لوگ میٹھی نیند کے مزے میں مست ہوں تب آپ اپنے مالک وخالق کے سامنے مسکین بن کر اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار کیجیے۔ جبین نیاز جھکاکر اس کے سامنے گڑ گڑائیے، ہاتھ پھیلا کر اس سے عفو وکرم کی بھیک مانگیے۔ یقین مانیے کہ رات کے آخری حصے کی عبادت آپ کے قلب کو پاکیزگی عطا کرے گی۔ رسول ِ خدا ﷺ راتوں کو اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پائے مبارک پر ورم آجاتاتھا۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ؐ کو اس کی کیا ضرورت ؟ آپؐ کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے ہیں‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ (متفق علیہ)
پس اس مہینہ کی قدر کیجیے ،اس سے بھرپور استفادہ کیجیے۔ یہ مومن کی زندگی میں سنہرا موقع ہے کہ وہ اس مہینے کو پائے تو اپنی نجات کا سامان کرلے۔
