ممبئی (2مارچ): عروس البلاد ممبئی میں ماہِ رمضان کے دوسرے عشرے کے اختتام کے ساتھ ہی چھ اور دس روزہ تراویح کے ادوار بھی مکمل ہوچکے ہیں۔ شہر کی مساجد میں روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے جہاں نوعمر حفاظِ کرام نے خوش الحانی سے قرآنِ کریم سنا کر سامعین کے دل موہ لیے۔ اسی روحانی فضا کے ساتھ ایک اور مثبت رجحان نمایاں ہورہا ہے—دینی اور عصری تعلیم کا حسین امتزاج، جو ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں تیزی سے فروغ پارہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ممبئی میں سرکاری منظوری کے تحت متعدد اسلامی اسکولوں کا قیام عمل میں آیا ہے، جہاں عصری مضامین کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی باقاعدہ نظم ہے۔ ان اداروں میں اردو زبان کو بطور مضمون شامل کیا گیا ہے، جب کہ حفظِ قرآن اور عالم و عالمہ کورسز بھی نافذ ہیں۔ اس تعلیمی ماڈل نے مسلم گھرانوں میں ایک نئی فکری بیداری پیدا کی ہے۔ والدین اب اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹر، انجینئر یا تاجر بنانے پر اکتفا نہیں کررہے بلکہ انہیں دینی شعور اور مذہبی اقدار سے بھی آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ رجحان صرف اسلامی مدارس یا اسکولوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام اسکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم طلبہ بھی اپنی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ممبئی جیسے مصروف اور ترقی یافتہ شہر میں یہ تبدیلی ایک خوش آئند علامت سمجھی جارہی ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اس امتزاج سے نوجوان نسل میں خود اعتمادی، اخلاقی پختگی اور سماجی ذمہ داری کا احساس مضبوط ہورہا ہے۔
اسی مثبت رجحان کی ایک نمایاں مثال معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر عمران صابر شیخ کے دو صاحبزادے ہیں، جنہوں نے عصری اور دینی تعلیم کو یکجا کرکے ایک مثالی راستہ اختیار کیا ہے۔ بڑے صاحبزادے محمد سَعْدان عمران شیخ کی پرورش ممبئی ہی میں ہوئی۔ انہوں نے لٹل اینجل ہائی اسکول سے ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک مقامی کالج سے بی ای (بیچلر آف الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ) کی ڈگری حاصل کی۔ انجینئرنگ جیسے مشکل اور وقت طلب شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ہی وہ دینیات کے زیر اہتمام ایک مدرسہ میں حفظِ قرآن کی تکمیل میں مصروف ہیں۔
امسال رمضان المبارک میں محمد سَعْدان نے نوجوانوں اور بچوں کی تراویح جماعت میں قرآنِ کریم سنا کر اپنی دینی وابستگی اور محنت کا عملی ثبوت پیش کیا۔ اہلِ محلہ اور اساتذہ نے ان کی اس کاوش کو بے حد سراہا اور اسے نئی نسل کے لیے قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔ انجینئرنگ کی ڈگری کے ساتھ حفظِ قرآن کا سفر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو عصری اور دینی علوم کو یکجا کرنا ناممکن نہیں۔
ڈاکٹر عمران صابر شیخ کے دوسرے صاحبزادے مفتی محمد ایان عمران شیخ نے بھی تعلیمی میدان میں متنوع کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم اشرفیہ عربیہ
 سے افتاء کی تکمیل کی، جب کہ ممبئی یونیورسٹی  سے بی کام (گریجویشن) مکمل کیا۔ اس سے قبل وہ دارالعلوم مظاہرالعلوم  سے تفسیرِ قرآن کی تعلیم بھی حاصل کرچکے ہیں، جو علمی و دینی میدان میں ایک نمایاں مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں انہوں نے حکومتِ ہند کے زیرِ اہتمام منعقدہ ڈپلومہ کورس اِن فنکشنل عربک کامیابی سے مکمل کیا، جس سے ان کی لسانی مہارت میں اضافہ ہوا۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے انہوں نے حکومتِ مہاراشٹر کے زیرِ اہتمام ایم ایچ سی ای ٹی کمپیوٹر امتحان بھی کامیابی سے پاس کیا۔ فی الحال وہ دینیات مدرسہ سے حفظِ قرآن کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے علم کے ہر پہلو کو اپنانے کا عزم کر رکھا ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق اس نوعیت کی مثالیں معاشرے میں ایک مثبت پیغام دیتی ہیں۔ ایک طرف عصری علوم میں مہارت نوجوانوں کو معاشی طور پر مستحکم بناتی ہے تو دوسری طرف دینی تعلیم ان کے کردار اور اخلاق کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہی توازن مستقبل میں ملت کے لیے باوقار قیادت اور باصلاحیت افرادی قوت تیار کرسکتا ہے۔
ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر شہروں میں ہزاروں مسلم نوجوان اسی راستے پر گامزن ہیں۔ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے مدارس اور دینی مراکز سے بھی وابستہ ہیں۔ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں جب یہ نوجوان تراویح میں قرآن سناتے یا دینی خدمات انجام دیتے نظر آتے ہیں تو یہ منظر اس بات کا ثبوت بن جاتا ہے کہ جدید تعلیم اور دینی شعور ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان اسی طرح فروغ پاتا رہا تو آنے والے برسوں میں ایک ایسی نسل سامنے آئے گی جو علم، اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت—تینوں میدانوں میں نمایاں ہوگی۔ ممبئی کی سرزمین پر پروان چڑھنے والا یہ تعلیمی ماڈل نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک کے دیگر حصوں کے لیے بھی قابلِ تقلید بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے