شبِ قدر کی تلاش، اعتکاف اور دعا و استغفار کی کثرت کی تلقین
مہراج گنج: رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی مساجد میں عبادت اور روحانیت کا ماحول مزید بڑھ گیا ہے۔ علما و ائمہ کرام مسلمانوں کو اس بابرکت عشرے کی قدر کرنے اور زیادہ سے زیادہ عبادت، تلاوتِ قرآن اور دعا کا اہتمام کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں مدرسہ فاطمۃ الزہراء للبنات کے ناظمِ اعلیٰ مولانا کمال احمد قاسمی بستوی نے اپنے بیان میں کہا کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اس کے آخری دس دن خصوصی فضیلت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں عبادت کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے، راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی عبادت کے لیے بیدار فرماتے تھے۔
مولانا کمال احمد قاسمی بستوی نے کہا کہ رمضان کے آخری عشرے کی سب سے بڑی فضیلت شبِ قدر ہے، جس کے بارے میں قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس عشرے کی طاق راتوں میں عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ اس عظیم رات کی برکتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے اعتکاف کی سنت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اعتکاف دراصل دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہونے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے انسان کے دل میں تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں مولانا کمال احمد قاسمی بستوی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں، صدقہ و خیرات کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک عشرے کی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
