مسلم معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ
از۔ عبد اللہ القاسمی
*+91 96515 29786*
رمضان المبارک کا آخری عشرہ عبادت، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا خاص موقع ہوتا ہے۔ اس مبارک وقت میں مسلمان شب بیداری، دعا اور استغفار میں مشغول ہو کر اپنے رب سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے دور میں اسی عشرے میں ایک مختلف منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ عید کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں غیر معمولی رش بڑھ جاتا ہے، فیشن اور مہنگے ملبوسات کی خریداری میں لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور کروڑوں روپے صرف ظاہری زیب و زینت پر خرچ ہو جاتے ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کا بہت سا سرمایہ فیشن اور دکھاوے پر خرچ ہو رہا ہے۔ عید کی خوشی اپنی جگہ جائز اور خوش آئند ہے، مگر جب یہ خوشی اسراف، بے پردگی اور اخلاقی کمزوری کا سبب بن جائے تو یہ لمحۂ فکریہ بن جاتی ہے۔
دوسری طرف معاشرے کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ لاکھوں مسلمان روزگار کی تلاش میں بیرونِ ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ برسوں اپنے والدین، بیوی اور بچوں سے دور رہ کر سخت محنت کرتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی مہیا کر سکیں۔ بہت سے لوگ اپنی کمائی سے گھر بناتے ہیں، زمین و جائیداد خریدتے ہیں اور اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں۔ مگر اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دولت کے باوجود گھریلو تربیت اور خاندانی رشتوں کی مضبوطی کمزور ہو جاتی ہے۔
بچوں کو اعلیٰ تعلیم تو مل جاتی ہے، مگر اخلاقی اور دینی تربیت کمزور رہ جاتی ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کے درمیان طویل جدائی بعض اوقات خاندانی نظام میں دوریاں پیدا کر دیتی ہے۔ انسان اپنی جوانی اور طاقت صرف دولت کمانے میں لگا دیتا ہے اور جب بڑھاپے میں گھر لوٹتا ہے تو اسے رشتوں کی محبت اور خلوص کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
معاشرے میں بے پردگی اور فیشن پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ ماضی میں ہمارے معاشرے میں سادگی اور حیا کو اہمیت دی جاتی تھی، مگر اب فیشن اور نمائش نے اس جگہ کو کافی حد تک لے لیا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشة وساء سبيلا”
یعنی زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔
علمائے کرام کے مطابق بے پردگی، بدنگاہی اور غیر ضروری اختلاط ایسے اسباب ہیں جو معاشرے میں اخلاقی کمزوری کو بڑھاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الحیاء شعبة من الإيمان”
یعنی حیا ایمان کا ایک اہم حصہ ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک باپ، بھائی اور شوہر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کی تربیت اور حفاظت کا اہتمام کریں اور انہیں اسلامی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ عید کی خوشیوں کو ضرور منائیں، مگر اسراف، فیشن پرستی اور بے پردگی سے بچیں۔ اپنی اولاد کو صرف دولت اور آسائشیں دینے کے بجائے انہیں دینی اور اخلاقی تربیت بھی فراہم کریں، کیونکہ یہی چیز ایک مضبوط اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح عقیدہ، نیک اعمال اور حیا و تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

