سدھارتھ نگر
منگل کی شب سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن "نئی آواز” کے بینر تلے ہولی اور عید ملن کے موقع پر ١٥٦ویں شعری نشست کا انعقاد ڈاکٹر جاوید کمال کی رہائش کا پر ہوا جس میں ضلع اور اس پاس کے کویوں اور شاعروں نے شرکت کیا۔ نشست کا آغاز ڈاکٹر نوشاد اعظمی کے اس شعر سے ہوا:

سبھی ہیں ایک صف کے نمازی، کوئی کمتر کوئی برتر نہیں ہے۔ تمہیں چاہا ہے اس سے مانگتا ہوں، مگر یہ دل تمہارا گھر نہیں ہے۔
سنگھشیل جھلک
ایسے ایسے لوگ ہوئے ہیں دفلی جیسے لوگ ہوئے ہیں
اونچا نیچا کرنے والے کتنے گندے لوگ ہوئے ہیں۔
شیو ساگر سحر
ہماری ہو رہی چاروں طرف ہے کرکری شاید
خوشی سے چوم بیٹھا جب تمہاری اوڑھنی شاید۔
شیلیندر شرما
دعا پہنچتی ہے ہر عبادت کی انجام تک
کیونکہ دن کے اجالے کی عمر ہوتی ہے شام تک.
مولانا طیب
سکوں کسی کو میسر نہیں زمانے میں
تڑپ رہے ہیں سبھی اپنے آشیانے میں۔
شاداب شبیری
وہ ادا اور وہ غمزہ وہ اشارہ توبہ

ناز و انداز سے جب اس نے پکارا توبہ۔
ڈاکٹر فضل الرحمن
دل ناشاد کو پھر شاد کیا ہے میں نے
ہاں تجھے یاد کیا یاد کیا ہے میں نے۔
اکمل رامپور
طنز کرتے ہیں جو چھوٹوں پہ بہت ہنستے ہیں
وہ بڑے لوگ بڑے ہو کے بہت سستے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید کمال
جب سے فضائیں گرم سیاست کی ہو گئیی
دکھتی نہیں ہے شام کوئی اب جواں جواں۔

نشست کی صدارت سوہانس بازار سے تشریف لائے جناب عبارت علی نے کیا اور مہمان خصوصی کے طور پر بانسی کے لیکچرر شیلیندر شرما موجود رہے۔
اپنے صدارتی تقریر میں گفتگو کے دوران عبارت علی نے سبھی شاعروں کویوں اور موجود سامعین کو ہولی اور عید کی مبارکباد دیتے ہوئے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی درخواست کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک تبھی ترقی کر سکتاہے جب ہم بنا کسی تفریق کے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہر مصیبت کا سامنا کریں اور ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
نشست کی نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر دیا شنکرپٹیل، ڈاکٹر شہنشاہ عالم اور محمد سیف سامعین میں شامل رہے۔ آخر میں سوشل ویلفیئر فاؤنڈیشن” نئی آواز ” کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر جاوید کمال نے سبھی کو بولی اور عید کی مبارک باد دیتے ہوئے سبھی سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے