گیس ملنے کے پہلے ہی موبائل پر ڈیلیوری کے میسیج آ جا رہے ہیں۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر
منفی عالمی حالات کے تناظر میں گیس، ڈیزل اور پیٹرول جیسی ضروری اشیاء کے حوالے سے بڑے پیمانے پر لوگوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گیس اور تیل کی کوئی قلت نہیں ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے عوام سے بھی اپیل کی جارہی ہے کہ گھبرانے کے ضرورت نہیں گیس اور پیٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے۔ تاہم گیس ایجنسیوں پر لوگوں کا ہجوم ایک الگ ہی کہانی بیاں کر رہی ہے۔
دریں اثنا نام نہاد "کورونا وائرس” جیسی صورتحال پیدا ہو نے کے بیانات کے مدِ نظر گیس ایجنسیوں اور پٹرول پمپوں پر عوام کا ہجوم کم ہونے کا کوئی آثار نظر نہیں آ رہا ہے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے گیس ایجنسیوں پر لمبی لمبی لائنیں لگ رہی ہیں جس سے لوگ صبح سے شام تک پریشاں حال نظر آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ گیس بکنگ میں فراڈ کے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ان کے موبائل فون کے ذریعے گیس کی بکنگ کے بعددوسرے یا تیسرے دن ڈیلیوری کا میسج آجاتا ہے وہ بھی گیس حاصل کیے بغیر۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ انہیں جبکہ گیس ملی ہی نہیں رہتی ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گیس کمپنیاں اور ایجنسیاں بلیک مارکیٹنگ کر رہی ہیں۔
بعض لوگوں نے تو یہاں تک الزام لگایا کہ گیس سلنڈر مہنگے قیمتوں میں بلیک میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ کچھ گیس ایجنسیاں مناسب اور پکی رسیدیں بھی جاری نہیں کرتیں۔ کچھ ایجنسیاں سلنڈر کی فراہمی سے پہلے غیر قانونی طور پر 200 روپے فی پائپ وصول کر رہی ہیں۔ کچھ ایجنسیاں سادہ کاغذ پر رسیدیں جاری کرتی ہیں جس میں ایجنسی کی مقرر کردہ قیمت شامل نہیں ہوتی ہےاور اس سے بھی زیادہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں جس سے عوام کو خاصی پریشانی اور دقّتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کچھ گیس ایجنسیاں پاس بک میں اندراج بھی نہیں کرتی ہیں۔ اس طرح گیس ایجنسیاں مختلف طریقوں سے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔
جب کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں تو معاملے کو افسران اور ملازمین کی ملی بھگت سے دبا دیاجاتا ہے۔
حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ڈی ایس او آفس میں رات کے وقت گیس سلنڈر اتارے جا رہے تھے۔ خفیہ طور پر ڈی ایس او آفس میں سلنڈر پہنچانے کی وجہ عوامی بحث کا موضوع بن گئی۔
انتظامیہ کے مطابق کہیں بھی گیس کی کمی یا قلت نہیں ہے۔جس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام صبح سے لیکر شام تک ایجنسیوں پر لمبی لمبی لائنوں میں کیوں کھڑے رہتے ہیں؟
دوسری جانب شہر کے ڈاکٹروں اور صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایجنسیوں میں ڈاکٹروں اور صحافیوں کے لیے گیس کی تقسیم کا الگ انتظام کیا جائے کیونکہ ان کے لیے صبح سے شام تک لمبی لمبی لائنوں میں کھڑا ہونا ناممکن ہے۔ شہر میں ڈاکٹر اور صحافی اپنا کام چھوڑ کر لائنوں میں کھڑے ہونے سے قاصر ہیں۔
اس مسلے پر کھل کر ایک آر ٹی آئی رکن اور ایڈووکیٹ سراج احمد نے بتا یا کہ ریاست میں کئی مقامات پر چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں گیس سلنڈر بھی ضبط کیے گئے ہیں آخر اس کا کنیکشن کہاں سے جڑا ہے اس پر ضلع انتظامیہ کے طرف سے کوئی صفائی پیش ابھی تک پیش نہیں کی گئی۔
آخر عام عوام کو لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے ہونے پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے۔
ایسے میں گیس ایجنسیوں اور پیٹرول پمپ مالکان اور انتظامیہ اور عوام کے درمیان شفاف ہم آہنگی قائم کرتے ہوئے انتظامیہ گیس، پیٹرول اور ڈیزل کی ہموار اور موثر تقسیم کو یقینی بنانے اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے عوام کو ان مشکلات سے نجات دلائے نہ کہ صرف لفّاظی بیانات جاری کر عوام کو گمراہ کرے۔
