محمد قاسم ٹانڈؔوی

دنیا اپنی قدیم ترین تاریخ کے اعتبار سے ہمیشہ خیر و شر کا مجموعہ رہی ہے، کبھی خیر شر پر غالب رہی تو شر مغلوب ہو گیا اور کبھی معاملہ اس کے برعکس رہا تو خیر مغلوب اور شر غالب آ گیا۔ الغرض کوئی دور اور کوئی زمانہ ان دو حالتوں سے خالی نہیں رہا؛ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جیسے  دنیا کے حالات رہے، لوگوں کے حالات و کردار، افکار و اذہان خیالات و نظریات اور ان کے عادات و اخلاق بھی ویسے ہی ان دو رنگوں میں سے کسی ایک رنگ کے ساتھ متصف رہے۔ چنانچہ جب لوگ خیر کو چھوڑ کر شر میں بڑھ جاتے، لوگوں کی ترجیحات نیکی کی بجائے بدی کے عناصر میں فوقیت لے جاتیں اور لوگ شیریں مزاج کی جگہ تلخ مزاجی کے زیادہ عادی ہو جاتے، حلال و حرام کے درمیان پائے جانے والے فرق کو مٹا کر من مرضی کے مالک بن جاتے اور مثبت و منفی اعمال کی تمیز و تفریق سے نا آشنائی برت کر ان کے خطرناک نتائج و اثرات سے لاپرواہی اور بےخبری کا ڈھٹائی کے ساتھ مظاہرہ کرتے تو تو ایسی نازک صورت حال میں دنیا کے پالنہار و پروردگار اور حقیقی خالق و مالک کا اپنی اسی عادت و سنت کو دہراتا، جو عادت و طریقہ ماقبل لوگوں کے ساتھ اپنایا تھا یعنی وہ لوگوں کی رہنمائی اور ان کی فوز و فلاح کے واسطے اپنے محبوب و برگزیدہ بندوں (کبھی تو انبیاء و رسل کو اور کبھی اولیاء و اتقیاء) کو مبعوث فرماتا، جو وحی الہی اور کشف و کرامات کی روشنی میں بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی تاکید، اعمال صالحہ کی پابندی اور بامقصد زندگی گزارنے کےلیے جہد مسلسل کی تعلیم دیتے، ان کے بگڑئے ہوئے اخلاق کو سنوارتے، طبیعتوں میں آنے والے فساد کی اصلاح کرتے اور عقائد میں جو خرابی یا کمزوری واقع ہو جاتی تھی، اس کو حکمت عملی اور وقتی مصلحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دور اور ختم کرتے ہیں۔
ایک بات اور اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے، اور وہ یہ ہے کہ ہم دنیا کی اس بھیڑ میں خود کو انسانی رشتے اور مرتبے تک ہی محدود نہ جانیں؛ بلکہ ہم اپنی اس شان امتیازی اور نعمت عظمی کو بھی خوب اچھی سمجھیں، جس نے ہمیں دنیا کے دیگر انسانوں سے ممتاز و جدا کرنے اور انسانی مرتبہ پر فائز کرنے کے بعد دولت ایمانی سے مشرف و مالا مال کیا ہے۔ اس لیے بہ حیثیت مسلمان ہم نہ صرف اپنی زندگی اور خدا داد صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہوئے دوسروں کے مقابلے فائق و برتر ہو کر گزاریں؛ بلکہ مجموعی طور پر ہم ان تمام لوگوں کو اس دولت و نعمت سے مالا مال کرنے اور ایمان و عمل کے اندر استحکام و استقرار پیدا کرنے کی کوشش و جستجو بھی کریں اور اس مشن و تحریک کو زندہ اور پائندہ کریں، جس کی بےشمار صفحات پر پھیلی وقیع تعلیمات اور قیمتی اسباق سے آج ہم میں سے اکثر و بیشتر کے اذہان و قلوب خالی ہو چکے ہیں اور ان کی طرف ہم نے لوگوں کو دعوت دینا اور ان پر لوگوں کی طبائع کو آمادہ اور برانگیختہ کرنا ترک کر دیا ہے۔ چنانچہ آج بھی اگر ہم خود کو دین اسلام کی اسی ڈگر و روش پر لے آئیں، جس ڈگر و روش کو ہم فراموش کر چکے ہیں اور جس کے حاصل کرنے کو ہم گمشدہ قرار دے چکے ہیں، آج ہم اسلامی تعلیمات کے جن روشن خطوط و سطور پر اپنے آپ کو چلانے میں عار و شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اور جو چند اشخاص و افراد اس سمت کچھ حرکت و سعی کرتے ہیں اور قوم کو قعر مذلت سے نکالنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ایک تو ہم ان کو قوم کے ذلیل و رسوا ہونے کا الزام اور اسلام کے پسپا ہونے کا طعنہ دیتے ہیں اور دوسری طرف ہم باطل و فرسودہ نظام رکھنے والوں اور تنگ نظری کی تعلیمات کو فروغ دینے والوں کی دیکھا دیکھی ان کے رنگ ڈھنگ کو اختیار کرنے میں عافیت و سلامتی کی امید رکھتے ہیں؛ جسے حماقت و بےوقوفی کے سوا کچھ اور نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔
یاد رکھیئے! آج کے پر فتن دور اور گئے گزرے حالات میں بھی دنیا بھر کے انسانوں کی نظریں مذہب اسلام کی طرف اٹھی اور جمی ہوئی ہیں۔ ہر چہار جانب پھیلی مایوسی کے عالم میں اگر انہیں امید کی کوئی کرن اور انسانیت کا بیڑا پار ہوتا نظر آ رہا ہے تو وہ ہمارا ہی صادق و برحق مذہب، مذہب اسلام اور اس کی مبنی بر صداقت تعلیمات ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود پہلے اسلام کے سانچے میں ڈھل جائیں اور روشنی کی امید رکھنے والوں کےلیے بہترین نمونہ بن کر سامنے آجائیں تو یقین جانئے! آج بھی مذہب اسلام کی شان و شوکت اپنے عروج کو پہنچتی ملےگی اور ہماری کھوئی ہوئی عظمت رفتہ نہ صرف بحال و مہمیز ہوتی نظر آئےگی؛ بلکہ اس وقت جو عالمی سطح پر افرا تفری کا ماحول برپا ہے، جس کی وجہ سے ہر سمت تباہی و بربادی کے شامیانے خیمہ زن ہیں، ملک در ملک باہمی نفرت و تشدد کی آگ میں عوام جھلس رہے ہیں اور جنگی حالات نے امن و امان کا نقشہ بدل کر جس طرح سے عوام کو بدامنی و بےچینی میں مبتلا کر رکھا ہے، ایسی صورت حال میں مذہب اسلام کے ماننے والوں کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، ان کو چاہیے کہ وہ اپنی ان اضافہ شدہ ذمہ داریوں کا احساس و ادراک کرتے ہوئے بخوبی ان سے نمٹیں اور افادۂ عام کی خاطر دنیا کو وہ مثبت و واضح پیغام دیں، جس کی طرف پریشان حال دل اول مرحلے میں متوجہ ہوں اور جب وہ اسلام کے رنگ میں رنگ جائیں تو انہیں قلبی اطمینان و سکون بھی محسوس ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے