میرؔبیدری، بیدر
روشنی میں روشنی ڈھل سی گئی
گویا مٹی ماتھے پر مل سی گئی
نکلے بچے سب کمانے کے لئے
زندگانی میں تھی ہلچل سی گئی
جس کو ہم کہتے ہیں رسی ، ساتھیو!
دیکھتے ہی دیکھتے جل سی گئی
یاراچانک ہی چلاتے ایک کار
تم نے دیکھا لڑکی کومل سی گئی
اک نوجوانی، کھوٹ تھا جس میں بھرا
سکّے کی مانند وہ چل سی گئی
ریل گاڑی کے سفر کے بیچ میرؔ
ڈاکوؤں کی وادی چنبل سی گئی
