عبدالغفارصدیقی
پانچ ریاستوں۔۔مغربی بنگال ،کیرالہ ،تملناڈو،پانڈیچری اور آسام۔۔ کے نتائج نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ملکی سیاست میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت اور وزن نہیں رہ گیا ہے ۔اب ان کے ووٹ بے قیمت ہوگئے ہیں ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جو قوم آٹھ سو سال حکمراں رہی ،ایک سونوے سالہ غلامی کے دور(1757سے1947) میں اقتدار بچانے کی جنگ لڑتی رہی ،آزادی کے بعد تقریباً چالیس سال انتخابی نتائج پر اثر انداز رہی،کچھ دن کنگ میکر کے حسن ظن میں مبتلا رہی ۔آج وہی قوم سیاست کے حاشیہ پر اس طرح چلی گئی ہے کہ کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہے۔
ملک کو آزادی کے ساتھ تقسیم کی اذیت بھی ملی ۔اس طرح مسلمانوں کے لیے یہ آزادی تکلیف دہ حادثہ بن کر رہ گئی ۔اس تقسیم کے نتیجہ میں مسلمانوں کا بہت کچھ لٹ گیا۔بہت سے اعلیٰ دماغ اور انتظامی امور کے ماہرین ملک چھوڑ کرچلے گئے ۔لاکھوں انسانی جانیں تلف ہوگئیں ۔کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔باقی رہ جانے والوں کے حوصلے پست ہوگئے ۔تقسیم کا داغ مسلمانوں کے دامن پر لگ گیااور انھیں مطعون کیا جانے لگا۔ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تو بچی کچھی عزت و آبرو بھی پامال ہوگئی ۔تقسیم نے ملک کے ایک طبقہ کے اندر مسلمانوں کی حصہ داری پر سوالیہ نشان لگادیا۔حقوق کی بات تو درکنارمطالبات تک قابل اعتنا نہیں سمجھے گئے۔باقی ماندہ مسلمان قیادت جناح اور اس کی ٹیم کو مجرم گردان کر پاکستان چلے جانے والے مسلمانوں کو ہی مطعون کرتی رہی اور عملاًپوری قیادت بیک فٹ پر آگئی ۔کانگریس کو اپنے لیے غنیمت جان کر اس کا ساتھ دیتی رہی ۔مسلمانوں کو ہر لمحہ کنارے لگایاجاتا رہا اور قیادت حکمت و مصلحت کے نام پر ’’ہنوزدلی دوراست کا وظیفہ پرھتی رہی ‘‘۔جان گئی تو کہا گیا کہ ابھی ایمان سلامت ہے ،نوکریاں گئیں تو کہا گیا ابھی بازار قائم ہیں ،زبان پر قلم چلا تو کہا گیا کہ ہمارے مدارس اردو کو زندہ رکھیں گے ،پرسنل لاء میں مداخلت کا سرکاری دروازہ کھل گیا مگر ہم اپنے مسلک سے نہیں ہٹے ۔بہر حال مسلمان لٹتے رہے ،ان کا وقار کم ہوتا رہا اور رفتہ رفتہ ہماری قیادت احساس زیاں سے بھی محروم ہوتی چلی گئی۔
مسلم سیاسی جماعت کی افادیت و ضرورت پر کون بات کرتاجب مسلم مذہبی قیادت نے سیاست سے یہ کہہ کر کنارہ کرلیا کہ اسلام میں سیاست ہی نہیں ہے ۔جب ایک مفکر نے اسلامی نظام حکومت اور حکومت الٰہیہ کی وکالت کی تو اسے ضال ومضل کے القاب سے نوازا گیا ۔کانگریس پر اندھے یقین نے آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کی منصوبہ بندی اور پروگرام بھی دیکھنے سے محروم رکھا ۔انگریزوں کی دشمنی میں انگریزی زبان کی مخالفت تو کسی قدر سمجھ میں آتی تھی مگر ہندی زبان کوکس بنا پر داخل مدرسہ نہیں ہونے دیا گیا یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی ۔ دینی علوم کی اہمیت سے کس مسلمان کو انکار ہوسکتا تھا ،لیکن رازی ،ہیثم،سینا اور عمر خیام کی قوم نے عصری علوم کی تعلیم پر کیوں قدغن لگادیے تھے؟ آج تک مذہبی گروہ کی طرف سے عصری علوم کی تعلیم پر کسی نہ کسی درجہ میں مخالفت جاری ہے۔ خواہ یہ کہہ کر ہی سہی کہ عصری علوم حاصل کرنے والے طلبہ کی مدد زکوٰۃ و صدقات کی مد سے نہیں کی جاسکتی ۔
سیاست کو اسلام سے خارج کرنے کا نتیجہ یہ ہواکہ مسلمان سیاست کو غلیظ اور غیر دینی عمل سمجھنے لگے اور صالح عناصر اس سے دورہوگئے ۔عصری علوم کی مخالفت کا انجام پسماندگی کی شکل میں ہمارے سامنے موجودہے ۔برٹش راج میں بیشتر اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے والے مسلمان آج حاشیہ پر آگئے ہیں۔
ایک تیسرا فیکٹر مسلمانوں کا اپنے دین پر عمل نہ کرنا ہے ۔یہ کوئی معمولی خطا نہیں ہے ۔بلکہ یہ وہ جرم عظیم ہے جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو عبرتناک سزائیں دی ہیں ۔اس ضمن میں آج جو صورت حال ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔نوے فیصدمسلمان اپنے دینی علوم سے صفر کی حد تک ناواقف ہیں ۔وہ نماز ،روزے کے مسائل سے بھی کماہ حقہٗ واقف نہیں ۔ان کا امام اگر ایک وقت غیر حاضر ہوجائے تو امامت کے لیے موزوںفرد میسرنہیں ۔پوری پوری بستیاں ایسے لوگوں سے خالی ہیںجو اپنے میت کا جنازہ اور اپنے بچوں کے نکاح پڑھا سکیں ۔بیشتر مسلمان یہی نہیں کہ دین و شریعت سے ناواقف ہیں بلکہ جن کو واقفیت بھی ہے ان میں سے بیشتر لوگ آدھی ادھوری جانکاری لییخطرہ ایمان ہیں ۔
میں اپنی تحریروں میں کئی مرتبہ یہ بات واضح کرچکا ہوں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ایک بنیادی فرق ہے ۔مسلمان وہ قوم ہیں جو اس زمین پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے آخری پیغمبر کی تعلیمات کے امین ہیں اور اس بار امانت کا تقاضا ہے کہ وہ اس پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی یہ دین پہنچائیں ۔اگر وہ ایسا نہیں کریںگے تو اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے اور انھیں دنیا میں ذلت و رسوائی اور ہزیمت وپسپائی سے دوچار ہونا پڑے گا ۔مسلمانوں کی اس ناسمجھی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بہت سے اہل علم و دانش اس کنفیوزن کا شکار ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو ہی کیوں ستایاجارہا ہے ؟جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مسلمان اس لیے ستائے جارہے ہیں کہ وہ بدعملی کا شکار ہیں تو وہ جواباً کہتے کہ ہندوکون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں ۔ان کی یہ بات اس لیے درست نہیں کہ ان کے اپنے عقیدے کے مطابق مسلمان ہی خیر امت ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے پابند ہیں ۔
مسلمانوں کے حاشیہ پر چلے جانے کا ایک اہم فیکٹر یہ ہے کہ منتخب مسلمان سیاسی نمائندوں نے اپنے فرائض ادا کرنے میں کوتاہی کی ہے،بلکہ اپنے سیاسی اقتدار اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کیا ۔ان میں سے بیشتر لوگوں نے خواہ وہ گرام پردھان رہے ہوں یا کیبنٹ وزیر اپنی ذمہ داریوں سے فرار کی راہ اختیار کی ہے۔ان کی اکثریت نے زمینوں پر ناجائز قبضے کیے ،سرکاری پیسوں میں کرپشن کیا ،پولس کی دلالی کی ۔میں جنوب کی ریاستوں سے واقف نہیں لیکن شمال کی ریاستوں خاص طور پر اتر پردیش کی اگر بات کریں تو مسلمان منتخب نمائندوں نے نہ تعلیم کے میدان میں کوئی نمایاں کام کیا ،نہ بے روزگار ی دور کرنے کے لیے کوئی جتن کیا ،نہ سرکاری اسکیموں کو عوام تک پہنچانے کی کامیاب کوششیں کیں،یہاں تک کہ صفائی اور سڑک کے امور بھی ایمانداری سے انجام نہیں دیے ۔اس صورت حال کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے لگائیے ۔ ہمارے ایک سیاست داںجو الحمد للہ باریش بھی تھے اور کرتا پئجامہ پہنے تھے اور نماز کے بھی حد درجہ پابند تھے اور پانچ بار ایم ایل اے رہے اور چار بار ایم پی ،یعنی تقریباً45سال انھوں نے اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کی ،کئی بار وہ حکمراں جماعت سے بھی منتخب ہوئے ،جب ان کا انتقال ہوا،تو میں نے ان پر ایک تعزیتی مضمون لکھنے کا ارادہ کیا ۔میں نے ان کے حلقہ انتخاب کے سیاسی شعور کے حامل ایک رفیق کو فون ملایا اور ان سے معلوم کیا کہ مرحوم کے کچھ رفاہی فلاحی کام بتادیجیے تاکہ میں مضمون میں لکھ سکوں اور عوام ان کی وسیع تر ملکی و ملی خدمات سے آگاہ ہوسکے ۔تو موصوف کا جواب تھا :۔’’ مرحوم کا ایک ہی کارنامہ تھا ۔وہ اسمبلی و پارلیمنٹ میں بے باک بولتے تھے ۔اس کے علاوہ انھوں نے کوئی قابل ذکر رفاہی و فلاحی کام نہیں کیا اور اسی سے قوم خوش تھی ۔‘‘ ایک مرحوم ہی کیا (اللہ ان کی مغفرت فرمائے )آج بھی جن صاحب کو مسلمانوں کے قائد ہونے کا بھرم ہے اور ایک بڑی تعداد ان کی مداح ہے ،اگر ان کے اپنے حلقہ انتخاب سے باہر نکل کر دیکھیں تو ان کا کون سا ایسا کارنامہ ہے جس سے عوام یا مسلمانوں کو فائدہ پہنچا ہو ۔پارلمنٹ میں بل کی کاپی پھاڑدینے سے کس کا بھلا ہوتا ہے اوراسٹیج سے موڈی موڈی کہنے سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے؟ اس کا نظارہ ہم تقریباًپندرہ سال سے کررہے ہیں۔
مسلمانوں کو سیاسی حاشیہ پر دھکیلنے میں نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے۔ کئی مواقع پر انہوں نے ایسے مسلمان لیڈروں کو ترجیح دی جو پارٹی وفاداری میں آگے تھے، جب کہ وہ افراد نسبتاً کم سامنے آ سکے جو اپنی قوم کے لیے ٹھوس اور دیرپا کام کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کے حلقوں میں اکثر تملق پسندوں، خوشامدیوں یا محض جذباتی نعرے لگانے والوں کو زیادہ جگہ ملتی رہی۔ اس طرح مسلمانوں کے جذبات کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور بعض اوقات مخالف قوتوں کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کیے گئے۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے سلسلے میں مختلف سروے اور رپورٹس تو پیش کی گئیں، مگر ان پر مؤثر عمل درآمد کم دیکھنے میں آیا۔
بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ بھارت کے موجودہ حالات میں ہمیں اپنی داخلی کمزوریوں پر زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہیے، اس سے قوم کا حوصلہ پست ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک اگر مسلم قیادت میں بدعنوانی پائی جائے اور اس کے خلاف کارروائی ہو تو اس کارروائی کو یکسر ظلم قرار دے کر بدعنوان قیادت کی حمایت کی جانی چاہیے۔ تاہم یہ نقطہ نظرعدل و قسط کی علمبردارامت کے لیے معقول نہیں معلوم ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اپنی کمزوریوں کا دیانت داری سے احتساب نہیں کرتی، وہ پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی طرح جو اپنے اندر موجود خرابیوں اور کرپشن کے خلاف کھڑی نہیں ہو سکتی، وہ بیرونی ظلم کے مقابلے میں بھی مضبوط موقف اختیار نہیں کر پاتی۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب کے نام پر ہونے والی ناانصافی اور امتیاز کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ دراصل حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی ذات اور اپنے معاشرے کی اصلاح سے ہوتا ہے—یہی فطری اور الٰہی ضابطہ ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ آج کل مسلم مذہبی طبقہ کی جانب سے عصری علوم کی مخالفت کچھ کم ہورہی ہے (اتنی اب بھی ہے کہ عصری تعلیمی اداروں کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی ۔)بلکہ علماء و ائمہ کے نسلیں عصری تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔مگر یہ ہوش بہت تاخیر سے آیا ہے ۔اس وقت آیا ہے جب چڑیاں کھیت چگ چکی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرے میں تعلیم کا فروغ ہو ۔ہونہار اور غریب طلبہ کی زکوٰہ سے مدد کرنے کے دروازے شرعی طور پر کھولے جائیں ۔ایسے تعلیمی ادارے بڑے پیمانے پر قائم کیے جائیں جہاں انٹر میڈیٹ تک تعلیم کا معقول اور معیاری نظم ہو۔مسلمانوں کو تجارت ،صنعت و حرفت کی تربیت دی جائے ۔مسلکی اور فقہی موشگافیوں اور بحثوں سے گریز کیاجائے ۔آپسی انتشار سے بچا جائے ۔
مسلمان مجموعی طور پر یہ عہد کریں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے پولس کو مداخلت کا موقع ملے اور جیلوں میں ہماری آبادی کا تناسب بڑھے۔ ہم نکاح و شادی کو آسان بنائیں گے اور تمام فضول اور لایعنی رسموں کا خاتمہ کریں گے۔ صفائی و صحت کا اہتمام کر کے بیماریوں اور استحصال سے خود کو بچائیں گے۔ اپنے معاملات میں شفافیت اور دیانت داری اختیار کر کے تجارت اور معاشرے میں اپنا وقار قائم کریں گے۔
ہم جس منصب پر بھی فائز ہوں گے، اس کا حق ادا کریں گے اور اپنے کردار و عمل سے خود کو قیادت کا اہل ثابت کریں گے۔ اپنے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ بلا تفریق مذہب و ملت پیدا کریں گے، اور برادرانِ وطن کے ساتھ خیرخواہی اور حسنِ سلوک کا رویہ اختیار کریں گے۔ سیاسی میدان میں جذبات کے بجائے بصیرت، حکمت اور دور اندیشی سے کام لیں گے۔ اپنے اور اپنی نسلوں کے کردار کو ایسا بنائیں گے کہ وہ واقعی ’’ خیر امت ‘‘کی عملی تصویر بن سکیں۔
اگر ہم نے یہ راستہ اختیار کر لیا تو یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے گا، زمین و آسمان کی برکتیں نازل ہوں گی، اور تمکن فی الارض—یعنی عزت، استحکام اور سربلندی—کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔
