بنگلور۔۸؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): کرناٹکا کی مختلف تنظیموں اور وفاقوں، جن میں یددیلو کرناٹکا، کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ، کسان و دلت تنظیموں کے فیڈریشن، پچھڑے طبقات کے وفاق، خواتین، آدی واسیوں، طلبہ اور نوجوان تنظیموں کے ذمہ داران شامل تھے، پر مشتمل ایک موقر وفد نے کرشنا کورپا میں وزیرِ اعلیٰ شری سدارامیا اور نائب وزیرِ اعلیٰ شری ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی۔
وفد نے مطالبہ کیا کہ SIR دراصل CAA اور NRC کا متبادل ہے۔ وفد کے مطابق اب تک جن ریاستوں میں SIR نافذ کیا گیا، وہاں 6.5 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ مغربی بنگال میں 96 لاکھ ووٹروں کے نام حذف ہوئے، جن میں سے 36 لاکھ افراد نے مکمل دستاویزات کے ساتھ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا، مگر انہیں ووٹ دینے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔
ماہرِ معاشیات پرکالا پربھاکر نے موجودہ SIR کی کمزوریوں اور اس کے ممکنہ خطرات پر روشنی ڈالی۔ بنگال، تمل ناڈو اور راجستھان کے نمائندوں نے اپنی ریاستوں کی حقیقی صورتِ حال بیان کرتے ہوئے کرناٹکا کو ایک مثالی ریاست بنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر ریاستی وزراء سنتوش لاڈ، پریانک کھرگے، کے جے جارج، این ایس بھوس راج، تنگڈگی، شرن پرکاش پاٹل، لکشمی ہبالکر اور ایچ کے پاٹل بھی موجود تھے۔
وفد نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت “STOP SIR” کے حق میں ایک قرارداد منظور کرے۔ مزید یہ کہ اگر SIR کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے تو مقامی پنچایت کی سطح پر ووٹر لسٹ تیار کی جائے، وارڈ سطح پر ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں، اور پنچایت سے لے کر تحصیل و ضلع کلکٹر سطح تک تمام ذمہ داران کو ووٹروں کی مدد کی ہدایت دی جائے۔
وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر کسی مرحلے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جائیں تو ٹریبونل سے رجوع کرنے کے لیے کم از کم چھ ماہ کا وقت فراہم کیا جائے۔ ریاست کے تمام منتخب نمائندوں کو میدان میں رہتے ہوئے عوام کی رہنمائی اور مدد کرنے کی تلقین کی جائے۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ، نائب وزیرِ اعلیٰ، پریانک کھرگے، سنتوش لاڈ اور ایچ کے پاٹل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹکا کے ووٹروں کی رہنمائی اور مدد کی اشد ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
وفد کے ذمہ داران نے کرناٹکا حکومت کے اس اقدام کو قابلِ ستائش قرار دیا کہ پنچایت انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے اور اس موقع پر ووٹر لسٹ کو ازسرِنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں جناب محمد یوسف کنی (جوائنٹ کنوینر، کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ)، بڈکل پور ناگیندر (صدر، کرناٹکا ریت سنگھا)، نور شری دھر (صدر، جن شکتی کرناٹکا)، تارا راؤ (یددیلو کرناٹکا)، ایڈوکیٹ وِنئے شری نواسن (مائی ووٹ، مائی رائٹ)، کے ایل اشوک (چکمنگلور ہوراٹ)، ویر سنگھیاجی، انجینئر حبیب اللہ خان (نائب صدر، ویلفیئر پارٹی کرناٹکا)، للیتا نائک، شری ایس جے دیو راج (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، فادر ارون لوئس، کے وی بھٹ، امجد پاشا، شری رام (SUCI) سمیت دیگر ذمہ داران شریک تھے۔
