اردو غزل میں بلند مقام پانے کیلئے کڑا امتحان ضروری!
سہارنپور(احمد رضا): بزمِ عزیزانِ سخن سہارنپور کے زیرِ اہتمام "عزیز ہاؤس واقع وردھمان کالونی "چلکانہ روڈ سہارنپور میں عہدِ حاضر کے عظیم شاعر، جدید اُردو غزل کے امام اور عالمی شہرت یافتہ ادبی شخصیت ڈاکٹر بشیر بدرؔ کی یاد میں ایک نہایت شاندار، معیاری اور باوقار تعزیتی و برائے خراجِ عقیدت سنجیدہ نشست کا انعقاد کیا گیا اس ادبی محفل میں شہر و اطراف کے ممتاز شعراء، ادباء، دانشوران اور ادب نواز حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی معیاری نشست کی صدارت معروف دینی و ادبی شخصیت مفتی محمد صادق مظاہر ی نے فرمائی جبکہ سنجیدہ اور طنز و مزاح کے ممتاز شاعر ڈاکٹر عاصم پیرزادہ صاحب مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ محفل کی کامیاب اور دلنشین نظامت کے فرائض معروف شاعر، سینئر صحافی اور ادبی شخصیت ڈاکٹر رئیس کمال صاحب نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے یہ نشست دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلے حصے میں مقررین نے ڈاکٹر بشیر بدرؔ کی شخصیت، فن، ادبی خدمات اور اُردو شاعری میں اُن کے گراں قدر کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
صدرِ محفل مفتی صادق مظاہری صاحب نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر بشیر بدرؔ کے طویل ادبی سفر، اُن کی شاعرانہ عظمت اور اُردو غزل کو دیے گئے انمول سرمایہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بشیر بدرؔ نے اپنی منفرد طرزِ فکر، سادہ مگر اثر آفرین زبان اور دل میں اتر جانے والے اشعار کے ذریعے اُردو ادب کو نئی جہت عطا کی۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عاصم پیرزادہ صاحب نے ڈاکٹر بشیر بدرؔ کی غزلیات کے فنی محاسن پر گفتگو کرتے ہوئے اُن سے اپنے دیرینہ تعلق اور متعدد ادبی یادوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بدرؔ کی شاعری محبت، انسانیت، رشتوں کی نزاکت اور زندگی کے لطیف احساسات کی ترجمان ہے، جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔
ناظمِ محفل ڈاکٹر رئیس کمال صاحب نے ڈاکٹر بشیر بدرؔ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدرؔ بین الاقوامی شہرت کے حامل، اُردو زبان کے ممتاز اور محبوب شاعر تھے جن کے انتقال سے پوری اُردو دنیا سوگوار ہے۔ انہوں نے 91 برس کی عمر میں بھوپال میں آخری سانس لی۔ ڈاکٹر بشیر بدرؔ جدید اُردو غزل کی ایک توانا اور منفرد آواز تھے۔ اُنہوں نے اپنی سادہ، دلنشین اور احساسات سے بھرپور شاعری کے ذریعے لاکھوں دلوں کو مسخر کیا۔ اُردو غزل میں اُن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور اسی بنا پر انہیں نئی اُردو غزل کا امام بھی کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر اُستاد الشعراء سکندر حیات کیلاشپوری، اسلم محسن، طاہر امین، انور صابری، فراز احمد فراز اور افضال امیر اصحاب سمیت دیگر شعراء و ادباء نے بھی اپنے مختصر مگر پُرمغز خطابات میں ڈاکٹر بشیر بدرؔ کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اُن کے انتقال کو اُردو ادب کا ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
نشست کے دوسرے حصے میں مشاعرے کا انعقاد ہوا جس میں شریک شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعراء کے عمدہ اشعار کو حاضرین نے خوب سراہا اور داد و تحسین سے نوازا۔ قارئین کی خدمت میں شعراء کے منتخب اشعار الگ سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
جسے ہم بھلا نہیں پائینگے
وہ بشیر بدر کی ذات ہے
(سکندر حیات کیلاشپوری)
ہم نے کہیں ایسا کوئی دفتر نہیں دیکھا
لیتا نہ ہو رشوت جہاں افسر نہیں دیکھا
(عاصم پیرزادہ)
کمال اہل غزل آج یتیموں سے لگے
بشیر بدر کی رخصت پہ ہنر رویا ہے
(ڈاکٹر رئیس کمال)
لبوں پہ جھوٹی ہنسی سجاکر وہ اپنے غم کو جھپا رہا ہے
گذر رہی ہے جو اُس کے دل پر ہر ایک آنسو بتا رہا ہے
(اسلم محسن)
کوئی جب لوٹ آنے کا اشارہ چھوڑ جاتا ہے
مریضِ غم کے جینے کا سہارا چھوڑ جاتا ہے
(سیّد انور صابری)
سیدھے سادے لوگوں کا یہ جہاں ہوتا ہے
تھوڑی روٹی اور کپڑا ایک مکان ہوتا ہے
(ڈاکٹر عابد وفا)
زندگی موت سی جب شکل بنا لیتی ہے
اچھے اچھوں کو اشاروں پہ نچا لیتی ہے
(محمود اثر)
جشنِ جمہوریت ہے مگر
بولنے کی اجازت نہیں
(طاہر امین)
کسی کے پاس کہاں وقت فون کرنے کا
دِلوں کا حال ہمیں فیس بک بتاتی ہے
(فراز احمد فراز)
آرزو حسرت ارادے سب فنا ہو جائیں گے
پڑھو گے جو تم واقعات اللّٰہ کے قرآن میں
(افضال امیر)
دیر رات تک چلی اس شاندار تقریب کے آخر میں مرحوم ڈاکٹر بشیر بدرؔ کے ایصالِ ثواب کے لیے مفتی صادق مظاہری صاحب نے خصوصی دعائے مغفرت فرمائی۔ بعد ازاں میزبان ڈاکٹر رئیس کمال صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ بلقیس بیگم کی جانب سے تمام مہمانانِ گرامی کے لیے پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔
یہ یادگار ادبی نشست ڈاکٹر بشیر بدرؔ کی شخصیت و فن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو زبان و ادب سے وابستگی اور محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت نمونہ ثابت ہوئی۔
