بیدر۔ 5؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): دودن قبل ایک ویڈیو دیکھنے کوملی جس میں ہیلنگ ٹری اسپتال یاایسے ہی کسی نام کے ملٹی سوپر اسپیشالٹی اسپتال کے ذمہ دار سوشیل میڈیا کے نمائندوں کے ساتھبات  کررہے تھے۔ اور بتارہے تھے کہ ان کا اسپتال عنقریب شروع ہونے جارہاہے۔ اسپتال جہاں صحت ملتی ہے یاپھر موت کادھڑکالگارہتاہے۔ ایسے میں مریض کی صحت یابی کیلئے جان توڑ کوشش کرنے والے ہی کومسیحاکہتے ہیں۔ان ہی چند مسیحاؤں میں ڈاکٹر اِرشاد نوید، ڈاکٹرسید ابرار قادری ، اور مسٹر سراج الدین ایس کے بھی شامل ہیں ۔ کہاجاتاہے کہ ان کاایک اور اسپتال’’ہیلنگ ٹری ملٹی سوپراسپیشالٹی اسپتال ‘‘ کے نام سے 7؍جولائی کو شروع ہونے جارہاہے۔ جسکے دعوت نامے میں 12چیف گیسٹ ، 10گیسٹ آف آنر ، Hounered Dignitariesکی تعداد 12، اوراسپیشل مدعوئین کی تعداد21ہے۔ یعنی سیاسی ، سماجی ، طبی ، اورتعلیمی ومذہبی جماعتوں کے 55؍افراد مدعوکئے گئے ہیں۔ مسیحاؤں کایہ کام (اورکاروبار) اجتماعی ہے اور بہت سارے افراد کو مدعو کرناغیردرست بالکل نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مینارٹی اسپتال کا انتظامیہ خود مینارٹی صحافت یعنی اردو صحافت سے کس درجہ قریب اور واقف ہے ؟دعوت نامہ دیکھنے سے پتہ نہیں چلتاکہ اس نے کسی اردو اخبار کے ایڈیٹر کو بھی مدعو کیاہو۔ کیوں کہ بیدرشہر سے تین اردو اخبارات روزنامہ حیدرآباد کرناٹک ، روزنامہ ادبی عکاس اور روزنامہ سرخ زمین نکلتے ہیں۔ ان اخبارات کی تاریخ 66سال پر محیط ہے۔ یہ اخبارات حالیہ شوق میں نکالے گئے اخبارات نہیںہیں۔ نصف صدی سے زائد ان اردو اخبارات کی خدمات ہیں۔اور مشکل ترین مواقع پر ان اردو اخبارات نے بیدر کی مسلم مینارٹی کا ساتھ دیا ہے ، اسکی آواز بن کر حکومت کے ایوانوں میں واضح اور شفاف وکامیاب نمائندگی کی ہے۔  اسی طرح 9-10اردو صحافی ہیں ، جو حیدرآباد، گلبرگہ ، اور دہلی کے اخبارات کے لئے روزانہ کی بنیادوں پر خبریں روانہ کرتے ہیں اور ان کی خبریں روزانہ شائع ہوتی ہیں۔بیدر کے مذکورہ تین اردو اخبارات اور دیگر ریاستوں کے اردو اخبارات کے9-10 نمائندے برائے بیدر کواطلاع دئے بغیر سوشیل میڈیا کے نمائندوں سے اپنے اسپتال کے افتتاح کی اطلاع دینا کہاںتک درست ہے ؟دوسری بات یہ ہے کہ آپ مسلم ڈاکٹر س اورایک حدتک مسلم کاروباری ہیں ۔آپ کو اگر یہ پتہ نہ ہوکہ کون معروف شخص شہر میں کس عہدے یا واقعی ٹیاگ کے ساتھ ہے اور اگر اپنے اسپتال کے افتتاح کے دعوت نامہ میں وہ عہدہ یاٹیاگ غلط طریقے سے لکھاجاتاہے تواس کے ذمہ دار کون ہوں گے ؟مثال کے طورپر چار ایسے افراد ہیں جو کارپوریٹر نہیں ہیں لیکن انھیں اپنے دعوت نامہ میں ’’بیدر کارپوریٹر‘‘ لکھاگیاہے ۔ ایسا عمداً کیاگیاہے یاسہواً یہ مسٹیک سرزد ہوگیاہے ؟ ہمیں یقین ہے ایسا سہواً ہواہوگا لہٰذا خیال رکھیں کہ آئندہ ایسا سہونہ ہو۔ غلط اطلاعات لوگوں تک نہ پہنچیں۔ اسی طرح بیدر جنوب اسمبلی حلقہ کے بی جے پی پارٹی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر شیلندربیلداڑے اورجنتادل (یس) کے سابق رکن اسمبلی بنڈپاقاسم پور بھی مدعو ہیں۔ لیکن بیدر جنوب سے کانگریس پارٹی کے لیڈر اشوک کھینی سابق ایم ایل اے ،اورسابق وزیراعلیٰ دھرم سنگھ کے اکلوتے داماد چندراسنگھ کے علاوہ مسلمانوں کی معروف شخصیت اور سابق وزیر مرحوم معراج الدین پٹیل کے چھوٹے بھائی جناب محمدنسیم الدین پٹیل،سابق صدر ضلع پنچایت بیدر کو بھی مدعونہیں کیاگیاہے جب کہ منااکھیلی میں کلینک لگائے ہوئے مؤظف ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالجبار البتہ مدعو ہیں۔ اسی طرح جماعت اسلامی ہندبیدرکے امیرمقامی تو مدعو ہیں لیکن جماعت اسلامی ہند ضلع بیدر کے ناظم ضلع جو بید رجنوب کے بگدل سے ہیں انہیں مدعو نہیں کیاگیاہے۔ بی جے پی سٹی پریسیڈنٹ مدعو ہیں لیکن بیدر بلاک کانگریس صدر محمدیوسف مدعو ئین خصوصی میں نظر نہیں آئے۔
بہرحال آخرمیں یہی توجہ دلانا ہے کہ اردو صحافیوں کی اپنی تنظیمیں بھی ہیں اور اخبارات کے ایڈیٹرس کی تنظیمیں بھی بیدرمیں ہیں۔ صرف ایک ہی تنظیم کو صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نہ سمجھاجائے۔ اطلاعات سبھی صحافیوں کو ایک ساتھ دیجئے، انہیں مختلف دھڑوں اور زمروں میں تقسیم کرکے اطلاع نہ دیں تاکہ مینارٹی طبقہ کا یہ اسپتال شروع دن ہی سے بیدر کی مسلم مینارٹی کی شان اورضلع بیدر کانمایاں خدمت کرنے والا اسپتال بنارہے۔ بلکہ کوشش کریں کہ آپ کے اسپتال کے PRO کے پاس تمام صحافیوں اور خصوصاً اردو اخبارات کے ایڈیٹرس اور صحافیوں کے فون نمبرس اور ای میل آئی ڈی ہوں ۔ ایک اور مینارٹی اسپتال’’گرونانک اسپتال‘‘ انتظامیہ کی طرح حسب ِ ضرورت صحافیوں سے رابطہ کرتے رہیں ۔ اتحاد میں برکت اور اتحادہی میں کامیابی ہے ۔نظرانداز کرنے سے کاروبار اورتعلقات پر اثر نہیں پڑتا، ایسا نہ سوچا جائے تو بہتر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے