رضا ابرار ندوی
امتِ مسلمہ کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ ایسے رجالِ کار پیدا فرماتا رہا ہے جو صرف علم کے امین نہیں ہوتے بلکہ علم کو زندگی کا عنوان بنا کر معاشرے کی فکری، دینی اور اخلاقی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہوتے ہیں جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں رہتی، بلکہ ان کے کردار، اخلاص اور خدمات خود ان کا تعارف بن جاتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں اگر ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کا ذکر کیا جائے تو حضرت مولانا مفتی قاضی ابو سلمان انور ندوی کا نام بڑی عزت، وقار اور اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
حضرت مولانا ان خوش نصیب اہلِ علم میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی فکرِ نبوی ﷺ کی ترویج، دینِ اسلام کی صحیح تعبیر، انسان سازی اور امت کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ان کی دعوت کا مرکز کسی فرد کی عظمت نہیں بلکہ اللہ کے دین کی عظمت، رسولِ اکرم ﷺ کی سنت اور سلفِ صالحین کا منہج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شخصیت پرستی سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں حق، حق ہوتا ہے، خواہ وہ کسی کے ذریعے ظاہر ہو، اور باطل، باطل ہوتا ہے، خواہ اسے کوئی بڑا نام پیش کرے۔
حضرت مولانا کی پوری زندگی "قدیم صالح، جدید نافع” کی بہترین عملی تصویر ہے۔ وہ ایک طرف قرآن و حدیث، فقہ، اصول، عربی ادب اور اسلامی علوم کے گہرے عالم ہیں تو دوسری طرف عصری تقاضوں، سماجی تبدیلیوں اور جدید مسائل سے بھی مکمل واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ قدیم علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید دور کے سوالات کا مدلل، معتدل اور حکیمانہ جواب پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک روایت اور تجدد میں تصادم نہیں بلکہ صحیح فہم کے ساتھ ان دونوں میں حسین امتزاج پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
حضرت مولانا ایک بےباک، جری اور باوقار مقرر ہیں۔ وہ حق گوئی میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتے۔ ان کی گفتگو میں جذباتیت کے بجائے دلیل، حکمت، اخلاص اور خیر خواہی نمایاں ہوتی ہے۔ جب وہ کسی دینی، سماجی یا ملی مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہیں تو سامعین صرف تقریر نہیں سنتے بلکہ فکر و بصیرت کا ایک نیا در وا ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ان کا خطاب دلوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور ذہنوں کو بھی روشن کرتا ہے۔
حضرت مولانا کی تدریس کا انداز ان کی شخصیت کی ایک منفرد پہچان ہے۔ جب وہ قرآنِ مجید کی تفسیر، احادیثِ مبارکہ یا فقہ اسلامی کا درس دیتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مشکل ترین علمی مباحث کو گھول کر پلا رہے ہوں۔ پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ بھی ان کی زبان سے اس قدر سہل، عام فہم اور دل نشیں انداز میں سامنے آتا ہے کہ طلبہ اور سامعین نہ صرف اسے سمجھ لیتے ہیں بلکہ مدتوں یاد بھی رکھتے ہیں۔ ہر نکتے پر ایسی جامع اور مدلل روشنی ڈالتے ہیں کہ تشنگی باقی نہیں رہتی۔
حضرت مولانا صرف ایک بہترین مدرس یا مقرر ہی نہیں بلکہ ایک بلند پایہ مصنف و مؤلف بھی ہیں۔ آپ نے دینی، فقہی، علمی اور اصلاحی موضوعات پر درجنوں کتابیں تصنیف و ترتیب دی ہیں۔ ان کی تحریروں میں تحقیق کی گہرائی، استدلال کی مضبوطی، زبان کی شگفتگی اور دعوت و اصلاح کا درد نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی کتابیں طلبہ، علماء اور عام مسلمانوں سب کے لیے یکساں مفید ہیں۔
حضرت مولانا کی خدمات کا ایک اہم پہلو ان کی افراد سازی ہے۔ انہوں نے صرف کتابیں نہیں لکھیں بلکہ ایسے افراد تیار کیے جو مختلف میدانوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا صرف علم حاصل نہیں کرتا بلکہ اخلاص، تقویٰ، اعتدال، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی اپنے ساتھ لے کر اٹھتا ہے۔ یہی ایک حقیقی مربی اور مصلح کی پہچان ہوتی ہے۔
ملکی اور ملی سطح پر بھی حضرت مولانا کی خدمات نہایت قابلِ قدر ہیں۔ آپ دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مایہ ناز قاضی کی حیثیت سے نہایت ذمہ داری، دیانت اور فقہی بصیرت کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے فیصلوں میں قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور عدل و انصاف کی روح نمایاں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے عوام اور خواص دونوں ان پر اعتماد کرتے ہیں۔
اسی طرح آپ آل انڈیا خدمتِ انسانیت بورڈ کے بانی اور صدر ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مذہب، ملت اور مسلک سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت، فلاحی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور سماجی اصلاح کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ حضرت مولانا کا یقین ہے کہ بہترین مسلمان وہی ہے جو اللہ کی عبادت کے ساتھ اللہ کی مخلوق کی خدمت کو بھی اپنا شعار بنائے۔
حضرت مولانا مدرسہ اصلاح البنات، لکھنؤ میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے حدیثِ نبوی کی تدریس کا عظیم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تدریس سے ہزاروں طالبات مستفید ہو رہی ہیں۔ وہ صرف اساتذہ کے استاد نہیں بلکہ تربیت، اخلاق اور کردار سازی کے بھی بہترین معمار ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ علم کے ساتھ عمل، اور تعلیم کے ساتھ تربیت بھی پروان چڑھے۔
حضرت مولانا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کئی دینی، تعلیمی، سماجی اور رفاہی اداروں کے مخلص مشیر ہیں۔ جہاں بھی ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ اخلاص، بصیرت اور حکمت کے ساتھ رہنمائی فرماتے ہیں۔ ان کی مشاورت میں ذاتی مفاد نہیں بلکہ دین، ملت اور معاشرے کا اجتماعی فائدہ مقدم ہوتا ہے۔
حضرت مولانا کی پوری زندگی حرکت، جدوجہد اور عمل سے عبارت ہے۔ وہ متحرک، فعال اور ہمہ وقت مصروفِ عمل رہنے والی شخصیت ہیں۔ تدریس، تصنیف، خطابت، قضاء، دعوت، اصلاح، ادارہ سازی، تربیت، خدمتِ خلق اور ملی امور—شاید ہی کوئی ایسا میدان ہو جہاں ان کی خدمات کی خوشبو محسوس نہ ہوتی ہو۔
آج جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، اخلاقی زوال، شخصیت پرستی، فرقہ واریت اور مختلف آزمائشوں سے دوچار ہے، ایسے وقت میں حضرت مولانا مفتی قاضی ابو سلمان انور ندوی جیسی شخصیات امید کی روشن کرن ہیں۔ وہ علم کو عمل سے، دعوت کو حکمت سے، شریعت کو رحمت سے اور قیادت کو خدمت سے جوڑنے کا عملی نمونہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی عمر، صحت، علم، اخلاص اور خدمات میں مزید برکت عطا فرمائے، انہیں دینِ اسلام کی سربلندی اور امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ سلامت رکھے، اور ان کے فیوض و برکات سے امت کو طویل عرصے تک مستفید فرماتا رہے۔ آمین۔
