ڈاکٹرعبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
ماہ محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت غیر معمولی ہے- یہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور بابرکت مہینہ ہے- اسلامی کیلنڈر کی ابتدا اسی ماہ محرم الحرام سے ہوتی ہے- یہ اشہر حرم میں سے ہے- یہ اصلا محاسبہ کا مہینہ ہے-اس میں ہمیں پورے سال کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے – اس مہینے میں ہمیں لغویات اور خرافات سے کوسوں دور رہنا چاہیے – زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے اور گناہوں سے بچنا چاہیے کیوں کہ اشہر حرم میں گناہ کرنے کا جرم دیگر مہینوں کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے-حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا : حرمت والے مہینوں میں ظلم( یعنی گناہ) کرنا دوسرے زمانوں کے مقابلے میں زیادہ بڑا گناہ ہے اور زیادہ وبال والا ہے- اگرچہ ظلم ہر حال میں بڑا ہی ہوتا ہے لیکن اللہ اپنے جس حکم کو چاہتا ہے عظمت عطا فرماتا ہے”-
اس ماہ میں خاص طور پر روزے کا اہتمام کرنا چاہیے – یوم عاشورہ کے روزے کے علاوہ ایام بیض یعنی 13، 14اور 15 تاریخ یا ہفتے کے ایام میں پیر اور جمعرات کو خاص طور پر روزے کا اہتمام کرنا چاہیے –
حضور پاک صلی الله عليہ وسلم نے فرمایا :افضل الصیام بعد رمضان صیام شھر اللہ المحرم” یعنی رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں-
ماہ محرم الحرام کی فضیلت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کے سورہ توبہ آیت نمبر 36 میں ارشاد فرمایا ” بے شک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک بارہ ہی مہینے ہیں کتاب الہیٰ میں اس روز سے جس روز کہ اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ،یہی دین مستقیم ہے ،سو تم ان مہینوں کے باب میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور لڑو مشرکوں سے مل کر اور متحد ہوکر جیسا کہ وہ لڑتے ہیں تم سب سے متحد ہو کر اور جانے رہو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے-” بلا شبہ یہ آیت کریمہ کئ اہم نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سال کے مہینے کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت طے کیا جب اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اس میں چار مہینے ایسے ہیں جو حرمت والے ہیں-حضور پاک صلی الله عليه وسلم نے ان چار حرمت والے مہینوں کی تشریح کی یعنی ذو قعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب- اللہ کے رسول نے مزید اس محرم الحرام کی نسبت اللہ کی طرف کی یعنی شہر اللہ المحرم یعنی محرم اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے یہ نسبت کسی اور مہینے کی طرف نہیں کی یہاں تک کہ رمضان المبارک کو بھی یہ نسبت حاصل نہیں-
اس سے بھی اس مہینے کی فضیلت اور اہمیت کا پتہ چلتا ہے- دوسری بات اللہ نے فرمایا کہ اپنے اوپر ظلم نہ کرو – چنانچہ نوحہ کرنا، سینہ کوبی کرنا، منھ پر طمانچے مارنا، زیب و زینت کی تمام چیزوں کو ترک کر دینا، تعزیہ نکالنا ،ماتم کرنا- اسی طرح اس ماہ میں شادی بیاہ کرنے کو منحوس جاننا یہ تمام اعمال شریعت اسلامی کے خلاف ہیں اور گویا اپنے اوپر ظلم کرنا ہے- اللہ کا ارشاد ہے ” وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ” یعنی تم لوگ مشرکوں سے مل کر مقابلہ کرو جیسے وہ تم سے جم کر مقابلہ کرتے ہیں-اس میں ایک بہت بڑا پیغام ہے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کا-آج پوری دنیا کے لوگ چاہے وہ عیسائی ہوں یا یہودی ،ہندو ہوں یا بدھسٹ جب اسلام کو پامال کرنے یا اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات آتی ہے تو وہ تمام قومیں متحد ہو جاتی ہیں- لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ مذہب اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے شیعہ و سنی اور دیگر مسالک کے لوگ کبھی متحد یو کر کھڑے ہوتے ہوئے دیکھائی نہیں دیتے ہیں-
یقیناً محرم الحرام کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں اور مذہب اسلام کے صحیح متبعین بننے کی حتی المقدور کوشش کریں-آج ہم گاجر مولی کی طرح کاٹے اور مارے جا رہے ہیں اس کی اصل وجہ ہمارے آپسی اختلافات اور انتشار ہے- اور اس کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق کا فقدان بھی ہے- آج ہمارے اندر سب سے بڑی کمی تو کل علی اللہ کی ہے یعنی الله تعالیٰ پر مکمل بھروسہ نہ کرنا -آج ہم نے اپنے خالق حقیقی پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے – معمولی سے معمولی کام کے لئے ہم غیر اللہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں- یہ اسلامی عقیدے کے بالکل منافی ہے-اس موقع پر ہم موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کو یاد کر سکتے ہیں-موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم فرعون اور اس کے متبعین کے ظلم و زیادتی سے اکتا جاتے ہیں اور جب سرکشی اور مظالم کے حدور پار کر جاتے ہیں اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لیکر سرزمین مصر سے ہجرت کرنے کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں-ابھی حدود مصر میں ہی ہوتے ہیں کہ خبر ملتی ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر پیچھے سے حملہ کرنے کے لیے آرہا ہے- اتنے میں موسی علیہ السلام کی قوم یعنی بنی اسرائیل ان سے کہتی ہے کہ آپ ہمیں کہاں لے جارہے ہیں – آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر ہم پر حملہ کرنے کے لئے آرہا ہے – آج ہمارا بچنا مشکل ہے- آج ہم مار دیئے جائیں گے – آج ہم ہلاک ہو جائیں گے ، بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے- موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے فرمایا الله پر بھروسہ کرو،ہمت نہ ہارو اور فرمایا” کلا ان معی ربی سیھدین” اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے وہ ہمیں عنقریب راستہ دکھائے گا ”
اس قصہ کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے-” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا،پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم و زیادتی کے ارادہ سے ان کا پیچھا کیا،یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں بجز اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ،اور میں مسلموں میں داخل ہوتا ہوں-یہ اب!حالانکہ تو تو اس سے قبل سر کشی ہی کرتا رہا اور تو مفسدوں ہی میں شامل رہا- سو آج ہم تیرے جسم کو نجات دے دیں گے تاکہ تو ایک نشان( عبرت)پیچھے آنے والوں کے لئے رہے اور بلا شبہ بہت سے لوگ ہماری ایسی نشانیوں سے غافل ہیں( سورہ یونس،آیت،90-92)
بلا شبہیہ بلکل یقینی بات ہے کہ یر حال میں ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اسی پرمکمل بھروسہ بھی کرنا چاہیے-آج سماج میں خودکشی کی وبا عام ہو گئی ہے-ذرا ذرا سی باتوں پر خودکشی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں- اس کی اصل وجہ اللہ پر کامل ایمان و یقین اور بھروسہ نہ کرنا ہے-آج ہمارے پاس ہر چیز ہے لیکن ہماری زندگی میں سکون وآرام نہیں ہے-ہر چیز ہوتے ہوئے بھی ہم اضطراب والی زندگی گزار رہے ہیں-اگر ہم واقعی سکون کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں چار چیزوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا:(1) ایک اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنا چاہیے- ہمیں جو بھی مانگنا اور سوال کرنا ہے اسی سے کرنا ہے غیر اللہ کے سامنے کسی بھی قیمت پر جھکنا نہیں چاہیے –
(2) دوسرا ہمیں تکبر سے بچنا چاہیے- کبریائی اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے- اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو بالکل پسند نہیں کرتا ہے – جس نے بھی تکبر کیا اس کا خمیازہ اس کو اسی دنیا میں بھگتنا پڑا-
(3) تیسرا والدین کی اطاعت و خدمت کرنا ہے-
والدین کو ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے-
لہذا والدین کو اف تک نہ کہیں-
(4) چوتھا خوف خدا پیدا کرنا چاہیے – خوف خدا ہی ہمیں بے شمار برے کاموں اور گناہوں سے روکتا ہے-
آج ہمارا پورا معاشرہ گناہوں میں اور مختلف قسم کے جرائم میں ڈوبا ہوا ہے- اس کی اصل وجہ صرف اور صرف ہمارے اندر خوف خدا کا فقدان ہے -بات ماہ محرم الحرام کے تعلق سے ہو رہی تھی- دراصل عاشورہ کو عاشورہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ محرم کا دسواں دن ہے-حدیث میں اس دن کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے-حضور پاک صلی الله عليہ وسلم جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی لوگ یوم عاشورہ کو روزہ رکھتے ہیں- آپ نے ان سے پوچھا تو جواب ملا کہ وہ لوگ حضرت موسی عليہ السلام کی سنت سمجھ کر اس دن روزہ رکھتے ہیں تو الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تو تم لوگوں سے زیادہ موسی علیہ السلام کے حقدار ہیں- چنانچہ آپ نے خود روزہ رکھا اور اصحاب کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا اور مزید فرمایا کہ ہم یہود کے مقابلے دو روزہ رکھیں گے تاکہ ان سے مشابہت نہ ہو-
مندرجہ ذیل احادیث سے یوم عاشورہ کی فضیلت و اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے-عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ۔ترجمہ: عاشوراء کے دن کے روزے کے بارے میں مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس کے ذریعے پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا۔(ترمذی ثانی، حدیث نمبر 752)
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ؛ ذَكَرُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ حَثَّ عَلَى صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ.ترجمہ: عبداللہ بن زبیرؓ نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو یومِ عاشوراء کے روزے پر ابھارا ہے۔(ترمذی ثانی، حدیث نمبر 752)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ یومِ عاشوراء کے روزے کا حکم فرمایا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(بخاری: 1885، مسلم: 2639)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَى، قَالَ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.ترجمہ: نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک مبارک دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی، تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے زیادہ موسیٰ کا حق دار ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم بھی فرمایا۔(بخاری: 1888، مسلم: 2654)
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنَّ مَنْ كَانَ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ.
ترجمہ: سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے کچھ کھا لیا ہو وہ بھی باقی دن کچھ نہ کھائے، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھ لے، کیونکہ آج یومِ عاشوراء ہے۔(بخاری: 1891)
عَنْ حَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا، قُلْتُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ترجمہ: حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباسؓ کے پاس پہنچا، وہ زمزم کے پاس اپنی چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے عرض کیا: عاشوراء کے روزے کے بارے میں مجھے بتائیے۔ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھو تو دن شمار کرتے رہو اور نویں تاریخ کی صبح روزہ دار بنو۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔(مسلم: 2662)
اس مہینے میں ایک عظیم سانحہ اور واقعہ پیش آیا جسے واقعہ کر بلا کہتے ہیںاسلامی تاریخ میں کربلا کا واقعہ صرف ایک حادثہ ہی نہیں بلکہ حق و باطل اور عشق الہی کی اعلیٰ ترین مثال ہے- یہ واقعہ 10 محرم الحرام سن 61 ہجری کو پیش آیا تھا- انسان تاریخ کا مطالعہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ ماضی کو پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں، اپنے حال اور مستقبل کو سنواریں۔چنانچہ کربلا کا واقعہ کئی جہتوں سے بڑی اہمیت کا حامل ہے-قصہ یوں ہے کہ جب حضرت امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کر نے سے انکار کیا اور اُنہوں نے صاف طور پر یہ کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دین کی اصل روح اور اسلامی اساس اور اقدار کا مسئلہ ہے-دوسری بات یہ ہے کہ حضرت امام حسین کی نظر میں خلافت علی منھاج النبوت کا نقشہ گھوم رہا تھا آپ کی یہ دلی خواہش تھی خلافت راشدہ ہی کی طرز پر پھر دوبارہ اسلامی حکومت قائم ہو اور اس طرح کی حکومت کی توقع یزید سے کبھی بھی نہیں کیا جا سکتی تھی ۔
کوفہ والوں نے حضرت امام حسین کو سیکڑوں خطوطِ لکھے اور آپ کو کوفہ تشریف لانے کی بھی دعوت دی اور کہا کہ ہم لوگ آپ سے بیعت کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں- چنانچہ انہوں نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو حالات کا جائزہ لینے کے لئے کوفہ بھیجا – مسلم بن عقیل نے وہاں سے اطلاع دی کہ یہاں حالات سازگار ہیں- کئی ہزار لوگ بیعت بھی کر چکے ہیں- ان کی یہ خبر سن کر امام حسین مع اہل بیت تقریبا 72 لوگوں کو لیکر کوفہ جانے کے لئے روانہ ہو گئے-دوران سفر ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا – یہ خبر سن کر آپ دل برداشتہ ہو گئے-
لیکن آپ اپنے پاکیزہ جذبات اور محرکات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے سفر سے پیچھے نہیں ہٹے- یہاں تک کی کوفہ پہونچ گئے- یاد رہے کہ امام حسین کو لانے کے لئے کوفہ سے تقریبا 60 لوگ مکہ آئے تھے – انہیں لوگوں نے غدّاری کی اور امام حسین اور ان کے جانثار رفقاء کو میدان کر بلا میں شہید کر دیا-بلا شبہ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی سخت اور مشکل کیوں نہ ہوں ہمیں حق اور انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ نا چاہیے –
ماتم حسین کی ابتدا کب اور کیسے؟
مقام افسوس یہ ہے کہ محرم الحرام میں جو نیک اعمال کرنے کے ہیں اس کی طرف ہماری توجہ کم ہوتی ہے اور ہم طرح طرح کی بدعات و خرافات میں مشغول ہو جاتے ہیں- حادثہ کر بلا اور اس سے متعلق ہونے والی بدعات کا تین سو برس بعد تک کوئی پتہ نہیں چلتا البتہ اس بات پر تمام شیعہ و سنی مؤرخین اتفاق کرتے ہیں کہ حادثہ کربلا کے تین سو برس گزر جانے کے بعد ۳۵۲ھ میں ایرانی نسل اور شیعہ مذہب کے امیر الامراء معز الدولہ دیلمی نے جو وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھا اپنے حکم سے ” ماتم حسین” کی ابتدا بغداد میں اس وقت کی تھی جب طوائف الملوکی کے سبب سے سلطنت کمزور ہو چکی تھی ۔ مؤرخ شہیر علامہ ابن کثیر البدایہ والنہایہ جلد۱۱صفحہ ۲۳۲/ ۳۵۲ ھ کے احوال و کوائف کے ضمن میں لکھتے ہیں:۳۵۲ھ اس سال ماہ محرم کی دسویں تاریخ کو معز الدولہ نے یہ حکم دیا کہ بازار سارے بند رہیں۔ عورتیں ماتمی لباس کمبل کا پہن کر چہرے اپنے کھولے، بال سر کے بکھیرے نکلیں اور منھ اپنا پیٹتی ہوئی حسین بن علی کا بازاروں میں ماتم کرتی پھریں۔“( بحولہ بدعات محرم اور تعزیہ داری،ص،37)
اس میں کوئی شک نہیں اس وقت سے محرم الحرام میں اس طرح کے غیر اسلامی رسم و رواج اور مختلف قسم کی بدعات و خرافات ہنوز جاری و ساری ہیں-ہمارے لیے اشد ضروری ہے کہ ہم اس مبارک مہینہ میں وہ کام کریں جس سے اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہوں اور ہم رضائے الہیٰ حاصل کر سکیں-اس کے ساتھ ساتھ واقعہ کربلا جو دراصل صبر و استقامت اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے اور حق و باطل کی کشمکش میں جمے رہنے اور رضائے الٰہی کی خاطر قربانی پیش کرنے کا جذبہ پیدا کرنے اور عشق الہی کی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے اس سے بھی سبق لیں اور اپنے زندگی کو ایک مثالی زندگی بنائیں-آج وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ہم حضرت امام حسین اور ان کے جانثار رفقاء کی طرح دین کی خاطر عظیم قربانیاں پیش کرنے اور اعلا ئے کلمۃ اللہ اور اسلام کی سرخروئی کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہیں یہی محرم الحرام اور کربلا کی تعلیمات کا ابدی پیغام ہے۔
