بیدر ۔ 5 /اگست ۔(محمدیوسف رحیم بیدری ): ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (SIR) کے نام پر لاکھوں غریب شہریوں، مہاجر مزدوروں، خانہ بدوش برادریوں اور کرائے کے مکانات میں رہنے والے افراد کو ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ الزام ایس آئی آر عوام مخالف کمیٹی اور شہری ووٹ نگرانی کمیٹی کے کنوینر اوم پرکاش روٹے نے عائد کیا۔چہارشنبہ کے روز بیدر کے ضلعی پتریکا بھؤن میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کیASDDO (Absent, Shifted, Dead, Duplicate, Others) درجہ بندی غیر سائنسی اور ناقص ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بوتھ لیول آفیسر (BLO) کے دورے کے وقت کوئی ووٹر گھر پر موجود نہ ہو یا روزگار کے سلسلے میں عارضی طور پر کسی اور مقام پر منتقل ہو گیا ہو تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔اوم پرکاش روٹے نے بتایا کہ 4 اگست 2026 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بیدر ضلع میں 14 لاکھ 16 ہزار ووٹر رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 12 لاکھ 14 ہزار ووٹروں کی معلومات ڈیجیٹلائز کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ عمل کے نتیجے میں ضلع کے تقریباً 16.88 فیصد یعنی تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہونے کا اندیشہ ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بوتھ لیول افسران کو مناسب تربیت فراہم نہیں کی گئی، جبکہ خانہ بدوش برادریوں، کچی آبادیوں کے مکینوں اور مہاجر مزدوروں تک ضروری معلومات بھی نہیں پہنچائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی خاطر نقل مکانی کرنا یا کرائے کا مکان تبدیل کرنا کوئی جرم نہیں، اس لیے محض بی ایل او کے دورے کے وقت گھر پر موجود نہ ہونے کی بنیاد پر کسی اہل ووٹر کا نام فہرست سے حذف کرنا ناانصافی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض اضلاع میں سو فیصد ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک متعدد ووٹروں کو اینومریشن فارم بھی موصول نہیں ہوئے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ سو فیصد ڈیجیٹلائزیشن کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بی ایل او ایپ میں موجود "لاجیکل ڈسکریپنسی سافٹ ویئر” کے بارے میں بی ایل ایز (BLA) کو تربیت کیوں نہیں دی گئی، اس کی بھی وضاحت کی جائے۔کمیٹی کے صدر شریکانت سوامی ہیڈگاپور نے کہا کہ ASDDO کی "Others” کیٹیگری میں کن افراد کو شامل کیا گیا ہے اور اب تک کتنے غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کی مکمل تفصیلات الیکشن کمیشن عوام کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی ووٹر کا نام حذف کرنے سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جائے، سماجی تنظیموں کو اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع دیا جائے، اور جو ووٹر دوسرے مقام پر منتقل ہو چکے ہیں، انہیں براہِ راست حذف کرنے کے بجائے فارم نمبر 8 کے ذریعے نئے پتے پر ووٹر رجسٹریشن منتقل کرنے کی سہولت دی جائے۔انہوں نے اینومریشن مہم کی مدت کم از کم ایک ماہ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ابتدائی ووٹر فہرست شائع ہونے کے بعد 2023 کے دستی دستورالعمل کے مطابق ہر پولنگ بوتھ، گاؤں اور وارڈ کی سطح پر عوامی جانچ کی جائے۔ گرام سبھا اور محلہ اجلاسوں میں اعتراضات وصول کرنے کے بعد ہی ووٹر لسٹ کو حتمی شکل دی جانی چاہیے۔کمیٹی کے رکن پروفیسر وٹھل داس پیاگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر کسی بھی اہل شہری کے حقِ رائے دہی پر ضرب نہیں لگنے دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 10 اگست سے ضلع بھر میں "شہری ووٹ نگرانی کمیٹیاں” تشکیل دی جائیں گی اور "ہمارا گاؤں، ہماری پنچایت، ہمارا حق” کے نعرے کے تحت عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔کمیٹی کے ایک اور رکن عبدالمنان سیٹھ نے کہا کہ گاؤں اور پنچایت کی سطح پر ووٹر لسٹ کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کی جائے گی اور اس بات کی نگرانی کی جائے گی کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے بلاجواز خارج نہ ہو۔پریس کانفرنس میں کمیٹی کے دیگر ارکان محمد نظام الدین، مہیش گورنا لکر، جگدیشور بیرادار سمیت متعدد سماجی کارکن بھی موجود تھے۔
