محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں تحریکِ آزادی ایک ایسا طویل، پرخار اور جاں گسل باب ہے جس کے صفحات پر خون سے لکھی گئی قربانیوں کی داستانیں رقم ہیں۔ جب بھی اس ملک کی آزادی کی بات کی جاتی ہے، عام طور پر اس کا آغاز 1857ء کی جنگِ آزادی یا انیسویں صدی کے وسط سے سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن تاریخی حقائق، سند یافتہ دستاویزات اور علمائے حق کی قربانیوں کا گہرا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ آزادی کی یہ جنگ دراصل اس وقت شروع ہو چکی تھی جب ایسٹ انڈیا کمپنی محض ایک تجارتی ادارے سے نکل کر سیاسی غاصب کی شکل اختیار کر رہی تھی۔ اس طویل اور همہ گیر جدوجہد میں علمائے کرام، صوفیائے عظام، مدارسِ اسلامیہ اور دینی تنظیموں کا کردار اتنا نمایاں، گہرا اور فیصلہ کن ہے کہ اس کے بغیر برصغیر کی جنگِ آزادی کا تذکرہ ادھورا بلکہ بے معنی ہو جاتا ہے۔
یہ مضمون اسی تاریخی پس منظر، علمائے دیوبند کی مجاہدانہ خدمات، تحریکِ ریشمی رومال، شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور جمعیۃ علماء ہند کے تاریخی و آئینی کردار کا ایک تفصیلی اور جامع احاطہ کرتا ہے۔ غلامی کی آہٹ اور علمائے کرام کا بیدار ضمیر (1799ء تا 1857ء)
ہندوستان میں برطانوی تسلط کا عمل کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گھناؤنی سازش کے تحت قدم بہ قدم آگے بڑھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب 1799ء میں سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سرنگاپٹم کے قلعے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، تو ان کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش پر کھڑے ہو کر ایک برطانوی فوجی نے کہا تھا: "آج سے ہندوستان ہمارا ہے!” یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب انگریزوں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے چھوٹے چھوٹے نوابوں اور راجاؤں کو شکست دے کر پورے ملک کو اپنے شکنجے میں کسنا شروع کیا۔ ۱۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا تاریخی فتویٰ
ٹیپو سلطان کی شہادت اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد جب 1803ء میں انگریزوں نے دہلی پر تسلط جمانا شروع کیا اور اعلان کیا کہ "خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا، لیکن حکم ہمارا ہے”، تو اس نازک ترین موڑ پر دہلی کے عظیم عالمِ دین اور خدارسیدہ بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے فرزندِ ارجمند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے وہ جرات مندانہ قدم اٹھایا جس نے پوری تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے دلی میں یہ تاریخی فتویٰ صادر کیا کہ: "آج ہمارا ملک دارالحرب (غلام ملک) بن چکا ہے، اور اس غاصب و ظالم انگریزی اقتدار سے اس وطن کو آزاد کرانے کے لیے جہاد کرنا ہر مسلمان اور ہر باشعور شہری کا دینی و ملی فریضہ ہے۔”
یہ اعلان اس دور میں کیا گیا جب ہندوستان کے اندر ایسٹ انڈیا کمپنی کے مقابلے میں زبان کھولنے کی جرات کسی میں نہیں تھی۔ اس فتویٰ کی پاداش میں حضرت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کو زہر دیا گیا جس کی وجہ سے آپ کی بینائی چلی گئی، آپ کی جائیدادیں قرق کر دی گئیں اور آپ کو دہلی سے بدر کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن آپ کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ ۲۔ تحریکِ مجاہدین اور بالاکوٹ کی مقدس قربانیاں
حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے اپنی زندگی ہی میں ایسے روحانی شاگرد اور مجاہد پیدا کر دیے تھے جو اس طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کر سکتے تھے۔ ان میں سرِفہرست حضرت سید احمد شہید رائے بریلوی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کے نام آتے ہیں۔ ان دونوں بزرگوں نے پورے ہندوستان کا طویل دورہ کیا، عوام میں بیداری کی لہر دوڑائی اور مسلمانوں سے جہادِ آزادی کی بیعت لی۔
یہ مجاہدین بالآخر شمال مغربی سرحد کے رخ پر بڑھے اور بالاکوٹ کے میدان میں برطانوی سامراج اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف تاریخ کی پہلی باقاعدہ منظم عسکری جنگ لڑی۔ ہزاروں مجاہدین نے اس معرکے میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اگرچہ عسکری اعتبار سے یہ تحریک وقتی طور پر ناکام ہو گئی، لیکن اس نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی جو چنگاری سلگائی تھی، وہ کبھی بجھ نہ سکی۔ بالاکوٹ کا یہ معرکہ دراصل 1857ء کی جنگِ آزادی کا سب سے بڑا فکری اور عملی مقدمہ ثابت ہوا۔1857ء کی جنگِ آزادی اور علمائے صادق پور کا کردار
اکثر مورخین 1857ء کی جنگِ آزادی کو اچانک پھوٹ پڑنے والا ایک غصہ قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے نصف صدی کی وہ مسلسل محنت اور آبیاری تھی جو علماء اور مجاہدین نے کی تھی۔
۱۔ شاملی کا میدان اور علمائے حق 1857ء کی جنگ میں دہلی سے لے کر لکھنؤ اور سرحد تک علمائے کرام نے پیش پیش ہو کر قیادت کی۔ علامہ فضل حق خیرآبادیؒ، مفتی صدرالدین آزردہؒ اور ان کے رفقاء نے فتاویٰ جاری کیے جن پر ہزاروں علماء اور عوام نے دستخط کیے۔ عسکری محاذ پر حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ، مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ (بانیِ دارالعلوم دیوبند) اور مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے شاملی کے میدان میں انگریزوں کے خلاف براہِ راست مسلح جنگ لڑی۔
۲۔ صادق پور کے مجاہدین اور کالاپانی کی سزائیں
بہار کے خطے سے مولانا ولایت علی صادق پوری رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا عنایت علی صادق پوری رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں ایک ایسی تحریک چلی جس کے تحت انگریزوں کی سپلائی لائنز کو کاٹا گیا اور انہیں معاشی و عسکری دونوں محاذوں پر مفلوج کیا گیا۔ انگریز اس قدر خوفزدہ تھے کہ انہوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے سیکڑوں علماء کو پھانسی پر لٹکا دیا یا بحرِ ہند کے جزیرہ انڈمان (کالا پانی) کی ایسی ہولناک جیلوں میں بھیج دیا جہاں سے واپسی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام: فکری اور تعلیمی محاذ کی تعمیر (1866ء) 1857ء کی جنگِ آزادی کو خون میں نہلا دینے کے بعد انگریزوں نے انتقامی کارروائیوں کا بازار گرم کیا۔ چوٹی کے علماء کو شہید کر دیا گیا، جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور مدارس کو بند کر دیا گیا۔ اس تباہ کن صورتحال میں انگریزوں نے ایک نئی چال چلی۔ وہ یتیم بچے جن کے آباؤ اجداد جنگِ آزادی میں شہید ہو چکے تھے، سڑکوں پر بے یار و مددگار تھے۔ عیسائی مشنریز اور چرچ کے لوگ آگے بڑھے اور ان بچوں کو مفت کھانا، رہائش اور تعلیم دینے کا جھانسہ دے کر فکری طور پر انگریز کا ذہنی غلام بنانے کی سازش کی۔
۱۔ دوراندیش علماء کا تاریخی فیصلہ
ان ہولناک حالات کو دیکھ کر مجاہدِ ملت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء سر جوڑ کر بیٹھے۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ: "فزیکل یا عسکری شکست سے بھی زیادہ خطرناک فکری شکست ہوتی ہے۔ اگر آنے والی نسلیں دینی اور فکری اعتبار سے غلام بن گئیں، تو ہندوستان کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔”
اس گہرے احساس کے تحت 30 مئی 1866ء کو اتر پردیش کے چھوٹے سے قصبے دیوبند میں ایک انار کے درخت کے سائے میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ ادارہ کوئی عام درس گاہ نہیں تھی، بلکہ یہ غلامی کی زنجیریں توڑنے اور حریت پسند مجاہدین تیار کرنے کی ایک عظیم فیکٹری تھی۔
۲. فقر و استغناء کا انوکھا نظام دارالعلوم دیوبند کے بانیوں نے حکومت کی امداد لینے سے صاف انکار کر دیا اور عامتہ المسلمین کے چندے (چونی، اٹھنی اور ایک روپیہ) پر اس کی بنیاد رکھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس ادارے کی فکری آزادی پر کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء (فضلاء) نے برصغیر کے کونے کونے میں جا کر نہ صرف قرآن و سنت کی روشنی پھیلائی بلکہ دلوں میں انگریز دشمنی اور حب الوطنی کی آگ کو بھی روشن رکھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ اور تحریکِ ریشمی رومال
دارالعلوم دیوبند کی آغوش سے نکلنے والے سپوتوں میں سب سے روشن ستارہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ کا تھا۔ آپ وہ جلیل القدر عالمِ دین تھے جن کی جراَتِ ایمانی سے انگریز حکومت لرزہ براندام رہتی تھی۔ متحدہ صوبہ جات کے برطانوی گورنر مسٹن نے ایک بار کہا تھا: "اگر شیخ الہند کو جلا کر راکھ بھی کر دیا جائے، تو ان کی راکھ کے ذروں سے بھی انگریز دشمنی کی بو آئے گی۔”
۱۔ تحریکِ ریشمی رومال کی تنظیم
حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے محسوس کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کو اندرونی اور بیرونی طاقتوں کے تعاون سے ایک ہی ضرب میں آزاد کرایا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے اپنے قابلِ اعتماد شاگردوں کی ایک خفیہ جماعت تیار کی۔ اس تحریک کو تاریخ میں "تحریکِ ریشمی رومال” (Silk Letters Movement) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس تحریک کے اہم خد و خال درج ذیل تھے:
داخلی تنظیم: مولانا عبیداللہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ کو اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کابل روانہ کیا گیا، جہاں انہوں نے عبوری حکومتِ ہند کی بنیاد رکھی اور مجاہدین کو منظم کیا۔
خارجی تعاون: حضرت شیخ الہندؒ خود حجازِ مقدس تشریف لے گئے تاکہ وہاں خلافتِ عثمانیہ (ترکی) اور جرمنی کے حکام سے رابطہ کر کے انگریزوں کے خلاف عسکری مدد حاصل کی جا سکے۔
ریشمی خطوط کا راز: یہ تمام خفیہ خط و کتابت ریشمی رومالوں پر لکھی جاتی تھی تاکہ انگریز کسٹم یا جاسوسوں کی نظروں سے بچی رہے۔
۲. مالٹا کی اسیرانہ زندگی
بدقسمتی سے شریفِ مکہ (حجاز کا غدار حاکم) کی غداری کی وجہ سے یہ خطوط انگریزوں کے ہاتھ لگ گئے، اور مدینہ منورہ میں حرمِ نبویﷺ کے اندر سے حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے رفقاء سمیت گرفتار کر لیا بحیرہ روم کے جزیرہ مالٹا کی سخت ترین قید میں ڈال دیا گیا۔
مالٹا کی قید میں شیخ الہندؒ نے جسمانی اور قلبی مشقتیں جھیلیں، لیکن ان کا عزم متزلزل نہیں ہوا۔ ان کے ساتھ ان کے جانثار شاگرد حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ بھی رضاکارانہ طور پر قید میں رہے تاکہ وہ اپنے مرشد اور استاد کی خدمت کر سکیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا قیام اور فکری بلوغت (1919ء)
جب حضرت شیخ الہندؒ مالٹا کی قید سے 1920ء میں رہا ہو کر وطن واپس آئے، تو ہندوستان کا سیاسی منظرنامہ یکسر بدل چکا تھا۔ خلافتِ عثمانیہ خطرے میں تھی اور برصغیر کے مسلمان انتشار کا شکار تھے۔ شیخ الہندؒ نے دہلی میں اپنے آخری ایام میں یہ محسوس کیا کہ اب علماء کو محض حجروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک باضابطہ سیاسی اور ملی پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنی چاہیے۔ ۱. جمعیۃ علماء ہند کا قیام (1919-1920ء)
اس مقصد کے پیشِ نظر 1919ء میں امرتسر اور دہلی میں ملک بھر کے جید علماء جمع ہوئے اور "جمعیۃ علماء ہند” کی بنیاد رکھی۔ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے، جبکہ شیخ الہندؒ کی سرپرستی حاصل رہی۔
شیخ الہندؒ نے اپنے آخری خطبۂ صدارت میں علماء کو جھنجھوڑتے ہوئے تاریخی جملے کہے: "جو لوگ مدرسوں میں بیٹھ کر صرف پڑھانے کو کافی سمجھتے ہیں، وہ اسلام کے پاک صاف دامن پر داغ لگا رہے ہیں۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ تم میدانِ عمل میں آؤ اور اس ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرو۔”
۲. کانگریس سے اتحاد اور عدم تشدد کی حکمت عملی
جمعیۃ علماء ہند نے فراستِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ چونکہ ہندوستان ایک کثیر المذہب ملک ہے، اس لیے انگریز کے خلاف لڑائی کسی ایک مذہب کی نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی مشترکہ جنگ ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے جمعیۃ نے مہاتما گاندھی، موتی لال نہرو اور جواہر لعل نہرو کی قیادت والی انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا اور عدم تشدد (Non-violence) کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی مجاہدانہ حیات
اگر تحریکِ آزادی کے دوسرے مرحلے میں کسی شخصیت نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، تو وہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی ذات گرامی ہے۔ آپ شیخ الہندؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی استعماری طاقتوں کے خلاف برسرِ پیکار رہتے ہوئے گزاری۔ ۱. جیل کی صعوبتیں اور تاریخی ریکارڈ
مولانا مدنیؒ نے اپنی تقریبا 80 سالہ زندگی میں سے لگ بھگ 9 سال انگریز کی تاریک جیلوں میں کاٹے۔ یعنی آپ کی زندگی کا ہر آٹھواں دن سلاخوں کے پیچھے گزرا۔ سابرمتی جیل (گجرات) کی سخت ترین بامشقت قید کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا کہ وہاں قیدیوں پر جو مظالم ڈھائے جاتے تھے وہ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں۔
۲. "متحدہ قومیت اور اسلام” کا نظریہ
جب مسلم لیگ کے کچھ حلقوں کی طرف سے دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ وطن کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا، تو مولانا مدنی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بات پر زور دیا کہ انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کے تمام باشندے (مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی) ایک مشترکہ قومیت کی بنیاد پر اس ملک کے نگران ہوں گے۔ آپ کا موقف تھا کہ مذہب الگ ہونے سے قومیت کا تصور تبدیل نہیں ہوتا، اور آزادی کے بعد مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک سیکولر اور عادلانہ نظام ہی سب سے بہترین ڈھانچہ ہے۔ سیکولر دستور کی تشکیل اور جمعیۃ علماء ہند کا فیصلہ کن کردار 1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا اور ایک طرف پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو دوسری طرف جو حصہ ہندوستان کے پاس رہا، وہاں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہو گیا۔
۱. ہندوتوا عناصر کا دباؤ اور سیکولر ازم کا مطالبہ
جب ملک آزاد ہوا، تو ہندو قوم پرست اور قدامت پسند رہنماؤں (جن میں سردار ولبھ بھائی پٹیل اور دیگر حلقے شامل تھے) کی طرف سے یہ آواز اٹھائی گئی کہ:”چونکہ مسلمانوں نے اسلام کے نام پر ایک الگ ملک (پاکستان) حاصل کر لیا ہے، اس لیے اب جو ہندوستان بچا ہے، اسے باقاعدہ طور پر ایک ‘ہندو اسٹیٹ’ (Hindu State) قرار دیا جانا چاہیے۔”
یہ ایک ایسا انتہائی خطرناک لمحہ تھا جب ہندوستان میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا تھا، کیونکہ اگر ہندوستان ایک ہندو ریاست بن جاتا، تو مسلمانوں کے دینی تشخص، مساجد، مدارس، قبرستانوں اور ثقافتی اداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاتا۔
۲. جمعیۃ علماء ہند کا تاریخی دباؤ اور معاہدات
اس نازک ترین موڑ پر مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین نے کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں (پنڈت جواہر لعل نہرو اور مہاتما گاندھی) کو ان وعدوں کی یاد دہانی کرائی جو انہوں نے تحریکِ آزادی کے دوران مسلمانوں سے کیے تھے۔
جمعیۃ کے اکابرین کا موقف انتہائی دوٹوک اور مضبوط تھا:
وعدہ خلافی کا بائیکاٹ: انہوں نے واضح کر دیا کہ تقسیمِ ہند کے ذمہ دار وہ مسلم لیگی رہنما تھے جنہوں نے اس پر دستخط کیے تھے؛ ہندوستان کے عام مسلمان یا علماء اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ لہٰذا، انگریزوں اور کانگریس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق آزاد ہندوستان کا دستور مطلقاً سیکولر اور جمہوری ہونا چاہیے۔
مذہبی آزادی کی ضمانت: دستور میں یہ بات درج کی گئی کہ ہندوستان کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوگا، اور ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اپنے تعلیمی و رفاہی ادارے چلانے کی مکمل آزادی ہوگی۔
جمعیۃ علماء ہند کے اس آہنی موقف اور سیاسی بصیرت کے سامنے قدامت پسند عناصر کی ایک نہ چلی، اور بالاآخر ہندوستان کا آئین ایک سیکولر اور ڈیموکریٹک دستور کی شکل میں نافذ ہوا، جس نے آج تک اس ملک کے مسلمانوں، اقلیتوں اور ان کے مذہبی اداروں (مساجد و مدارس) کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ تاریخی و فکری اسباق اور مشعلِ راہ
برصغیر کی تحریکِ آزادی میں علماء اور اکابرینِ دیوبند کی یہ لازوال خدمات محض کتابی تاریخ نہیں ہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہیں۔ ان تمام حقائق کا خلاصہ چند بنیادی نکات کی صورت میں درج ذیل ہے:
وطن دوستی اور ایمان کا رشتہ: علماء نے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی مسلمان ہونا اور اپنے وطن سے محبت کرنا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے دین کی حفاظت اور وطن کی آزادی کو لازم و ملزوم قرار دیا۔
فکری تربیت کی اہمیت: محض عسکری جدوجہد کافی نہیں ہوتی جب تک کہ قوم فکری اور تعلیمی اعتبار سے مضبوط نہ ہو۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اتحاد و رواداری: تحریکِ آزادی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہو، تو مسلک، ذات اور مذہب کی دیواریں گرا کر ایک مشترکہ انسانی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا پڑتا ہے۔
جمہوری اور آئینی حقوق کی پاسداری: آزادی کے بعد ملک کے سیکولر ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں علماء کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ نہ صرف جنگ لڑنا جانتے تھے بلکہ ریاست چلانے اور آئین بنانے کی گہری بصیرت بھی رکھتے تھے۔
نتیجہ
آج جب ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے یومِ آزادی کا جشن مناتے ہیں، تو یہ ہمارا اخلاقی اور ملی فریضہ ہے کہ ہم اپنے ان اسلاف کو یاد رکھیں جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی صلاحیتیں، اپنی جائیدادیں اور اپنی جانیں اس ملک کی آزادی کے لیے قربان کر دیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے فتوے سے لے کر بالاکوٹ کے میدانوں تک، شاملی کے مورچوں سے لے کر دارالعلوم دیوبند کی بنیادوں تک، تحریکِ ریشمی رومال کے خفیہ تاروں سے لے کر مالٹا کی کال کوٹھریوں تک، اور جمعیۃ علماء ہند کے سیاسی پلیٹ فارم سے لے کر سیکولر آئین کی تشکیل تک—علماء کرام کا یہ شاندار کارنامہ تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے اخلاص، اتحاد، قربانی اور حب الوطنی کے جذبے کو اپنائیں اور ایک ایسے منصفانہ، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا۔ ***
