مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ
آج کا دن پندرہ اگست یوم آزادی کے نام سے متعارف ہے، آج پورے ملک میں جشن کا سماں ہے، ترنگالہرارہاہے، آزادی کے شادیانے بج رہے ہیں، ملک کے غیور وفاداروں کی قربانیوں کو یاد کیا جارہاہے، پورے ملک میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک یہ سلسلہ پوری آن با ن اورشان وشوکت کے ساتھ جاری وساری ہے، ہندوستان کی آزادی پر ۷۰؍سال گذر گئے، گویا ہم اور ہمارے اسلاف سال سے آزاد ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں ۔
آج کادن جب آتاہے تو اپنے پیچھے ایک طویل تاریخ کی یاد دلاتاہے ، اس کا ماضی نہایت شاندار ، حال نہایت کربناک اور مستقبل نہایت ہولناک ہے، زندہ قوموں کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ صرف ماضی کا تذکرہ کرکے اپنی بات ختم کردیں، بلکہ وہ ماضی کی روشنی میں اپنے حال کو بنانے اور مستقبل کو سنوارنے کا ہنر جاتنی ہیں ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب
جب تک نہ زندگی کی حقائق پہ ہو نظر
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریفِ سنگ
ہندوستان پر ناجائز قبضے:
ہندوستان ایک زرخیز،شاداب اور معدنیاتی ذخائر سے مالامال ملک ہے، اس پر انگریزوں سے پہلے دیگر قوموں کی ناپاک نظر پڑ چکی ہے۔ایران کے بادشاہ ڈاریس نے سب سے پہلے چھٹی صدی قبل مسیح اس پرحملہ کیا،اور ایک حصہ پر قبضہ کیا،سکندرمقدونی نے بھی اس کو اپنی یلغار کا موضوع بنایا،لیکن ان حملوں کو سیکھتے ہوئے یہاں کے لوگوں نے ایک متحدہ محاذ قائم کیا،چندر گپت موریہ اس کا پہلا بادشاہ بنا،اس کے بعد اس کے بیٹوں نے اقتدار سنبھالا، ان میں اشوکہ بھی تھا،یہ تین صدی قبل مسیح تھا،اسی کی طرف منسوب اشوکہ چکر ہے،اس کے بعد گپتا خاندان نے حکومت کی،اور دوسو سال تک اس کی حکومت قائم رہی۔
اسلامی دور حکومت:
اسی درمیان اسلام کا سورج طلوع ہوا، اس کی کرنیں ہندوستان کی سر زمین پر بھی چمکیں،میر عرب کو ہندوستان سے ٹھنڈی ہوا محسوس ہوئی،معجزہ شق القمر کا مشاہدہ کیرالہ کے ایک بادشاہ زمورن سامری نے کیا تھا،اور اس واقعہ سے متاثر ہوکر اس نے اپنے بڑے قافلہ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا ۱۵ھ میں عہد فاروقی میں حضرت حکم بن ابی العاص کی قیادت میں مسلمانوں نے پہلا حملہ کیا،پھر ۹۳ھ میں حجاج بن یوسف کے حکم سے ان کے داماد اور بھتیجے محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا اور حکومت قائم کی،اور تین سو سال تک عربوں کی حکومت رہی۔
ساس الرجال لسبع عشرۃ حجۃ
ولداتہ عن ذاک فی أشغال
اس کے بعد غزنوی خاندان کی حکومت قائم رہی، پھر غوری ،پھر غلام خاندان، پھر خلجی،پھر تغلق،پھر لودھی اور مغلیہ خاندان کی حکومتیں قائم ہوئیں۔اس طرح مسلمانوں نے محمد بن قاسم ۷۱۱ سے لے کر ۱۸۵۷ء تک حکومت کی۔ان کا دور حکومت دیگر ادوار کے مقابلہ میں مثالی رہا۔
پہلی مرتبہ ایسٹ انڈیا کمپنی ۱۶۰۱ء میں ہندوستان میں اپنا جال بچھایا،اس وقت جہانگیر حکمراں تھا، سورت،احمدآباد،اور آگرہ میں اپنی تجارتی کمپنیوں کے ذریعہ اور مدراس ، کلکتہ اور ممبئی میں ۱۵۱۰ء میں پرتگالیوں نے گوا پرا ور فرانسیسیوں نے ۱۶۶۴ء نے پانڈیچری پر قبضہ کرلیا،اور آہستہ آہستہ ملک کے وسائل پر قابض ہوئے،نواب سراج الدولہ نے ۱۷۵۷ء میں کچھ کوشش کی ،لیکن میر جعفرکی غداری کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست ہوئی،دوسری طرف سلطان ٹیپونے انگریزوں سے مورچہ لیا،اور میر صادق کی بے وفائی سے ۱۷۹۹ء میں شہادت ہوئی،اور انگریز ملک کے دیگر صوبوں پر قابض ہوگئے،حضرت سید احمد شہید کی قربانیاں تو آزادی کی راہ ہموار کرنے میں سر فہرست ہیں۔
۱۸۵۷ء میں ایک متحدہ محاذ قائم کیا گیا،تاکہ انگریزوں کو اس ملک سے نکالا جائے،مسلمانوں نے اس کو انقلاب کا نام دیا تو انگریزوں نے اس کو بغاوت سے تعبیر کیا،اس انقلاب میں ہزاروں علماء کی شہادت کا واقعہ پیش آیا،۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک انگریزو ں کی حکومت رہی،اس درمیان ان کے اصل دشمن کون تھے،یہ بتانے کی بالکل ضرورت نہیں کہ مسلمان ان کا اصل نشانہ تھے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی تحریر فرماتے ہیں:’’ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا حصہ قدرتی طور پر بہت ممتاز و نمایاں رہا ہے،ان کا جنگ آزادی میں نمایاں کردار اور پارٹ رہا ہے،اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا اور رفتہ رفتہ ایک ایک صوبہ اور ریاست ان کے زیر نگیں آنے لگی اس وقت مسلمان ہی ہندوستان کے فرمانروا تھے‘‘۔(ہندوستانی مسلمان: ایک تاریخی جائزہ:۱۶۶)
انگریز وائسرائے کہتا ہے: ہندوستان کی جنگ آزادی صرف مسلمانوں نے لڑی ہے اور جب تک ان کے دلوں میں جذبہ جہاد موجود ہے، ہم اس وقت تک مسلمانوں پر حکومت نہیں کر سکتے،اس لئے ان کے جذبۂ جہاد کو ختم کرنا ضروری ہے،اور اس سے پہلے یہاں کے علماء اور ان کی کتاب قرآن کو ختم کرنا ضروری ہے،چنانچہ انگریزوں نے تین لاکھ قرآن کریم کے نسخے جلائے اس کے بعد علماء کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں کی نگاہوں میں سب سے زیادہ معتوب علماء کی جماعت تھی،صرف پندرہ دنوں میں تقریبا دو لاکھ افراد شہید ہوئے،جن میں اکیاون ہزار علماء کرام تھے،ایک انگریز ایڈورڈٹامس نے شہادت دی کہ صرف دلی میں ۵۰۰ علماء کو پھانسی دی گئی۔(اٹھارہ سو ستاون فاروق ارگلی:۵۳۵۔۵۳۶)۔
آزادی کے متوالے،حریت کے دیوانے ملک کی آزادی کے لئے اپنا خون جگر پیش کرتے ہے،جان اور مال کی قربانیاں دیتے رہے، یہاں تک یہ ملک انگریزوں سے آزادہ ہوا ۔
اردو صحافت اور جنگ آزادی : جنک آزادی میں اردو صحافت نے غیر معمولی حصہ لیا، انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگانے میںیہ صحافت پیش پیش رہی، مولانا حسرت موہانی اردوئے معلی ، مولانا شوکت علی کی خلافت، مولانا ظفر علی خان کا اخبار زمیندار ، مولانا محمد علی جوہر کا کامریڈ، مولانا آزاد کا الہلال، البلاغ، معارف،الندوہ، احرار ، الصدق وغیرہ پیش پیش رہے .
جنگ آزادی کی تحریکات: (۱) ہوم رول لیگ (داخلی خودمختاری)
۱۹۱۶ء میں انگریزوں سے داخلی خود مختاری کا مطالبہ کرنے کے لئے موتی لال کی سربراہی میں یہ تحریک قائم کی گئی۔
(۲) ستیہ گرہ (ناانصافی کے خلاف لڑنے کا عدم تشدد کا پر امن ہتھیار اور راستہ )
یہ تحریک موہن داس کرم چند مہاتما گاندھی نے شروع کی تھی، ۱۸۶۹ء میں وہ گجرات کے مقام پور بند ر میں پیداہوئے، برطانیہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی، وہاں سے جنوبی افریقہ گئے، تاکہ نسلی امتیاز کو ختم کرکے ظلم کے خلاف آواز اٹھاسکیں، پھر وہاں سے ہندوستان آئے اور جنگ آزادی میں حصہ لیا ۔
(۳) تحریک عدم تعاون گاندھی جی نے ۱۹۲۰ء میں انگریزوں سے کسی بھی معاملہ میں تعاون نہ کرنے کی تحریک چلائی، جس کے تحت عدالتوں اور اسکولوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔
(۴) تحریک عدم موالا ت ۔
اس تحریک کا یہ مقصد کہ غیر ملکی چیزوں کا بائیکاٹ کریں اور ان کو استعمال نہ کریں ۔
(۵) گول میز کانفرنس
مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ۱۹۳۰ء میں یہ کانفرنس بلائی گئی ۔
(۶) ریشمی رومال ۱۹۰۵ء میں تحریک ریشمی رومال حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی نے شروع کی، ریشمی رومال پر انگریزوں سے بچنے کے لئے افغانستان ، ترکی اور جرمن کے حکمرانوں کو خفیہ خطوط لکھے جاتے تھے،او راخلاقی اور فوجی مدد طلب کی ، ۱۹۱۶ء میں شیخ الہند نے اس کے لئے حجاز کا سفر کیا، انگریزوں نے آپ کوگرفتار کیا، مولانا عبید اللہ سندھی بھی پیش پیش رہے، مولانا حسرت موہانی ، مولانا آزاد،مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا برکت اللہ بھوپالی، راجہ مہندر، ڈاکٹر مختار انصاری اس کے نمایاں ارکان ہیں۔
علمی وفکری ادارے: انگریزوں نے ۹۰؍سال تک اس ملک پر حکومت کی، فکری اعتبار سے یہاں کی فضاء پر غیر معمولی اثرڈالا، لارڈمیکامے نے ایک نصاب تعلیم بنایا تھا کہ اس نصاب کو پڑھ کر بچوں کا ذہن مغربی، اور جسم مشرقی ہو، اس کے بالمقابل ہمارے اسلاف نے مدارس کا جال بچھایا، جو فکری اور علمی رہنمائی کے ساتھ حفاظت دین کے مشن میں مصروف ہیں ۔
دار العلوم دیوبند : ۱۸۶۶ء میں قائم کیا گیا، اس کے ذریعہ فکری رہنمائی کا کام ہوا۔
مدرسہ رحمانیہ دہلی: یہ اہل حدیث مکتب فکر کا مدرسہ تھا، اس سے بھی خاطر خواہ تعداد میں لوگ فارغ ہوئے ۔
دار العلوم ندوۃ العلماء:۱۸۹۲ء میں اس کا قیام عمل میں آیا، اس کے ذریعہ بھی ذہن سازی اور آزادی کے جذبہ کو تیز کرنے کا کام کیا گیا ۔
ہندوستانی پرچم: ہمارا قومی پرچم سفید، زعفرانی اور ہرے رنگ کاہے، اس کو ۱۹۴۷ء میں تسلیم کیا گیا، حکومت کے مطابق سفید رنگ زندگی کے پاک اور بے لوث ہونے پر، زعفرانی رنگ ہمت وبہادری پر، اور ہرا رنگ ملک کی زرخیزی اور شادابی پر دلالت کرتاہے۔ اس کے درمیان دھرم چکر ہے، ۲۴؍لکیریں اس میں ہیں جو ہر لمحہ زندگی کے رواں دواں ہونے پر دلالت کرتاہے، سرکاری نوٹوںپر چند شیروں کی ایک ساتھ تصویر ہوتی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چار خون خوار جانور آپس میں جس طرح ملے ہوئے ہیں ، اسی طرح اس ملک کے باشندوں کوآپس میں مل کر رہنا چاہئے۔
