صفی الرحمن صفی
نیپال کی دھرتی کا عجب حال ہوا ہے
ہر سمت تباہی ہے ہر اک دل بھی دُکھا ہے
کل تک جو ہنستے کھیلتے رہتے تھے وہاں پر
اب ان کے لیے جینا بھی مشکل سا ہوا ہے
ماؤں کی نگاہوں میں وہ تارے نہیں دکھتے
ہر باپ کا چہرہ بھی غموں سے ہی بھرا ہے
پانی نے اجاڑے ہیں کئی گھر کئی رستے
کیا جانے کسی دل پہ ابھی کیا کیا بپا ہے
کچھ لوگ مصیبت میں مدد کرنے کو نکلے
انسان کے دل میں ابھی انسان بچا ہے
جو مال پہ نازاں تھے وہ سب دیکھ رہے ہیں
دنیا میں نہ دولت ہے نہ طاقت ہی سدا ہے
ہم دوسروں کے دکھ کو ذرا اپنا سمجھ لیں
یہ وقت محبت ہے فقط لب پہ دعا ہے
ہم سب ترے بندے ہیں مدد کر مرے اللہ
ہر گھر میں سکوں دے یہی بس دل کی صدا ہے
ہم سب کو مصیبت سے بچا لے مرے مولیٰ
یہ کیسی وبا ہم پہ ہے یہ کیسی سزا ہے
ہر وقت صفی تیری ثنا میں یہی کہتا
مَولَا ہے کل جہان کا تُو سب کا خدا ہے
