میربیدری، بیدر، کرناٹک
ہم ملے اور پھر جداہوئے ہیں
اس قدر دیکھئے خفا ہوئے ہیں
کوئی پید اکبھو ذرا ہوئے ہیں
ہر محبت کا سلسلہ ہوئے ہیں
ناشتے کو وہ گھرسے نکلے تھے
کچھ پرندے ہی ناشتہ ہوئے ہیں
جن کی باتیں تھیں رہنما میری
قلبی بے حدسکوں تھا کیا ہوئے ہیں
ڈھونڈ کر کون لائے گا ہم کو
خواب سے اپنے لاپتہ ہوئے ہیں
بلبلاتے ہوئے چلے ہیں ہم
بے بسی کی کوئی صدا ہوئے ہیں
ہم ٹہرنے کے واسطے نہیں ہیں
آگے چلنے کاراستہ ہوئے ہیں
طلبہ پڑھتے ہیں جن کی خدمت سے
لوگ ایسے کہاں بھلا ہوئے ہیں
ایسی انسانیت تھی ان میں میرؔ
فاصلوں میں بھی ناخدا ہوئے ہیں
