میربیدری، بیدر،کرناٹک
اب کہاں ہوگی بات آپس کی
چھوڑ دی ہم نے رات آپس کی
روئیں گے مانالوگ اپنے مگر
کچھ ہنسے گی ممات آپس کی
مژدہ کوئی سنانے آیانہیں
نہ ہی نکلی برأت آپس کی
قبضے کاہے مزاج کیسے کہیں
بانٹ لیتے فرات آپس کی
اس قدر ہم میں غصہ تھا لوگو
ہم نے پھینکی نجات آپس کی
ہم نے آپس میں کچھ ہی دن پہلے
لانگھ لی تھی وفات آپس کی
آؤ دیکھانہ تاؤ ،یہ کیامیرؔ
دیکھ لیتے صفات آپس کی
