کاوش قلم: عبد الرحیم ہاشم سراجی
زد میں سیلاب کے میں تو گمنام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
میرے رب کیسا یہ وقت آیا یہاں
ہر طرف غم کا بادل ہے چھایا یہاں
درد کی داستاں اور پیغام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
کشتیاں نہ ملیں اور ڈرتے گئے
سانس تھمتی گئی لوگ مرتے گئے
موج میں سہ رہا سارا الآم ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
کیسے تم کو سناؤں میں اب داستاں
اڑ گئے باغ میرے اب کہکشاں
اشک میں ڈوبتا میں سر عام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
لوگ سیلاب سے اب پریشان ہیں
بہ گئی زندگی سب تو حیران ہیں
بے بسی میں چھلکتی ہوئی جام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
ٹوٹ کر خواب سارے بکھرنے لگے
ماں بہن بھائی بیوی بچھڑنے گے
جیسے مغرب میں ڈوبی ہوئی شام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
ماؤں کی گود پھر آج خالی رہی
میری ماں مجھسے وہ پیار کرتی رہی
غم کی تصویر ہوں غم میں بدنام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
آؤ بڑھ کر سہارا بنو اب مرا
مستحق ہوں مدد تم کرو اب مرا
جیسے دکھ کے سمندر کا اقوام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
کر عطا ہم کو ائے رب سکوں کی گھڑی
دور کر اب مصیبت دکھوں کی گھڑی
میں تو ہاشم خدا کا ہی انعام ہوں
ہاں میں آسام ہوں ہاں میں آسام ہوں
