ماڈل کمیونٹی سینٹر کی سے کورس مکمل کرنے والی بچیوں و خواتین کو سرٹیفکٹ اور پوزیشن ہولڈرز کو ایوارڈ دیا گیا
لکھنؤ: زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ماڈل کمیونٹی سینٹرز سے مختلف ہنرمندی کے کورس مکمل کرنے والی بچیوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے اعزاز میں ارم کانونٹ کالج، بھولاناتھ کنواں، اکبری گیٹ میں ایک پروقار اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں کورس مکمل کرنے والی بچیوں کو سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا، جبکہ مہندی ڈیزائن اور سلائی کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پوزیشن ہولڈرز کو ایوارڈ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب کی نظامت ندا فاطمہ نے کی، جبکہ قرآن مجید کی تلاوت بشرا خاتون نے پیش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر آفرین عثمان نے زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور فاؤنڈیشن کی جانب سے مختلف علاقوں میں چلائے جا رہے ماڈل کمیونٹی سینٹرز کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کا بنیادی مقصد بچیوں اور خواتین کو ایسے مفید اور عملی ہنر سکھانا ہے، جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی خود کفالت کی جانب بڑھ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر پانچ ماڈل کمیونٹی سینٹرز چلائے جا رہے ہیں، جن سے اب تک 600 سے زائد بچیاں اور خواتین استفادہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کا مقصد صرف کورسز کرانا نہیں بلکہ تربیت حاصل کرنے والی بچیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور باعزت روزگار کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
زکوٰۃ اینڈ چیریٹیبل فاؤنڈیشن کے سکریٹری مولانا زبیر ملک فلاحی نے اپنے خطاب میں تعاون اور خدمت خلق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی نابینا شخص کو سہارا دے کر منزل تک پہنچا دیا جائے اور دوسرا یہ کہ اس کا تعاون اس طریقہ سے کیا جائے کہ اس کی بینائی ہی لوٹ آئے تاکہ وہ خود اپنے راستے پر چل کر اپنی منزل حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کی کوشش بھی اسی دوسرے طریقۂ کار پر مرکوز ہے کہ بچیوں اور خواتین کو ایسے ہنر اور صلاحیتیں فراہم کی جائیں، جن کے ذریعے وہ دوسروں کی محتاج نہ رہیں بلکہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں اپنی آنکھوں سے جو خواب دیکھیں، انہیں حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت، جذبہ اور حوصلہ ان کے اندر موجود ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور ہنرمندی انسان کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے اور یہی اعتماد آگے بڑھنے کی بنیاد بنتا ہے۔
شاہین اسلام نے خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر پاورپوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنی شرعی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کریں، بلکہ اسلام نے خواتین کو عزت، تکریم اور حقوق عطا کرنے کے ساتھ انہیں معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کا حق بھی دیا ہے۔ قرآن مجید نے خواتین کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس لیے بچیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ڈیجیٹل ہنر بھی سیکھیں۔
تقریب میں ماڈل کمیونٹی سینٹر کی جانب سے منعقد کیے گئے مہندی ڈیزائن اور سلائی کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بچیوں کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مہندی ڈیزائن مقابلے میں فاطمہ شاہد نے اول، روشنی نے دوم اور گلفشاں ادریس نے سوم مقام حاصل کیا، جبکہ سلائی کے مقابلے میں سارہ تاج نے اول، کائنات بشر نے دوم اور نادیہ زیدی نے سوم مقام حاصل کیا۔ اس موقع پر تمام پوزیشن ہولڈرز کی حوصلہ افزائی کی گئی اور کورس مکمل کرنے والی دیگر بچیوں میں بھی سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔
تقریب سے ڈاکٹر عظمیٰ مبشر، تبسم قدوائی، حنا جعفری، صبوحی علوی، رضوانہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
