مسلم محمود
مسقط (عمان)
حفظان صحت اور ماحولیاتی آسودگی انسانی حیات کے اہم جزو ہیں۔ اسلام نے چود ہ سو (1400) سال پہلے طہارت کو دین کا اہم رکن قرار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ صفائی نصف ایمان ہے‘‘ یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام صرف عقائد کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ مکمل طرز زندگی ہے ۔
مسلمان دن میں پانچ بار نماز سے پہلے وضو کرتے ہیں، جس میں ہاتھ، منھ، چہرہ، ناک، بازو اور پاؤں دھونا ضروری ہے جو نہ صرف جسمانی طہارت ہے بلکہ طبی اعتبار سے بھی نہایت مفید ہے۔
اسلام میں پیشاب کے قطرے، خون اور دوسری نجاستیں ناپاک قرار دی گئی ہیں اور ان کے جسم یا کپڑوں پر لگ جانے سے نہ وضو ہوتا ہے نہ نماز قبول ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر فراغت کے بعد پانی سے طہارت لازمی قرار دی گئی ہے۔
غسل کرنا، صاف ستھرا لباس پہننا، ناخن تراشنا، مسواک کرنا، غیر ضروری بالوں کو صاف کرنا اور خوشبو لگانا وغیرہ جیسے سارے فعل سنت نبویؐ ہیں۔ یہ سارے اعمال نہ صرف معاشرتی آداب بلکہ عبادت قرار دیے گئے ہیں۔
اسلام ذاتی صفائی سے لے کر گھر، گلی، محلہ اور مسجد کی صفائی پر زور دیتا ہے۔ اسلام اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی ایسا کام کیاجائے جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہو۔ حدیث کے مطابق مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کے لیے و ہی پسند کرے جو خود اپنے لیے پسند کرے۔ لہٰذا یہ کیسے ہوسکتاہی کہ مسلمان خود کے لیے صفائی ستھرائی پسند کرے اور دوسرے کے لیے نہیں، یہ کیسے ہوسکتاہے کہ خود کا گھر صاف کرکے کوڑا کرکٹ دوسرے کے راستہ میں یا گھر کے سامنے ڈال دے۔
مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ خود کو صاف ستھرا رکھے تاکہ اس کی بدبو کی وجہ سے دوسروں کو زحمت نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں لہسن کھاکر نہ آؤ، تاکہ دوسرے نمازیوں کو برا نہ لگے۔ صاف کپڑے پہننا اور خوشبو لگانا سنت رسولؐ ہے اور اس کے نہ صرف دوسروں پر بلکہ خود پر بھی خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ہم سب رسول ؐ کی تعلیمات اور طرز زندگی سے بخوبی واقف ہیں، مگرصد افسوس کہ مسلمانوں کے بیشتر علاقے ان کی گندگی اور صفائی کے فقدان سے پہچانے جاتے ہیں۔قدم قدم پر کوڑا کرکٹ ،تھوک ، پیک اور بلغم سے بچ کر نکلنا راہگیر کے لیے امر محال ہوتا ہے۔ جب کہ اسلامی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کے برعکس ہوناچاہیے تھا۔
جس دین میں صفائی نصف ایمان ہو اس دین کے ماننے والے صفائی میں سب سے پیچھے کیسے ہوسکتے ہیں۔ گھر کی صفائی سے لے کر گلی کوچہ، محلہ اور شہر کی صفائی ہر شہری کی اور خصوصاً مسلمانوں کی ذمہ داری اور اخلاقی فرض ہے۔
اسلام میں ذاتی طہارت، بیت الخلاء کے آداب سے لے کر غسل کے آداب تک بیان کیے گئے ہیں۔ باتھ روم اور ٹائلٹ کی صفائی کے بغیر ذاتی طہارت کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ ضروری ہے کہ باتھ روم کو استعمال کے بعد خشک رکھا جائے، غلاظت بہادی جائے اور بعد میں آنے والے کے لیے قابل استعمال بنایا جائے۔ فلش کیا جائے، باتھ روم کے فرش سے کپڑوں کو اونچا رکھا جائے تاکہ وہ فرش کے پانی سے لگ کر گیلا نہ ہوں۔ باتھ رو م میں ننگے پاؤں نہ پھرا جائے۔
انسان کے لیے ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی بھی انتہائی اہم ہے۔ حسد، تکبر، بغض اور منافقت جیسے امراض انسان کی روح کو آلودہ کردیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن دونوں آلودگیوں سے پاک ہو۔
ظاہری طہارت کے اثرات مزاج پر دیکھنے کے لیے غور کریں کہ شرارتیں کرنے والے بچے کو جب نہا دھلا کر صاف کپڑے پہنا دیے جاتے ہیں تو بچہ مہذب ہوجاتا ہے۔کیوں کہ طہارت انسان کا فطری تقاضاہے۔
دل کی طہارت کے لیے توبہ کو روحانی غسل قرار دیا گیا ہے۔ جب بندہ صدق دل کے ساتھ اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اللہ سے سچی معافی مانگتا ہے تو اس کا دل پاک صاف ہوجاتا ہے۔
صاف ستھر انسان مہذب اور بااعتمادنظر آتا ہے۔ صفائی نظم وضبط اوروقار کی علامت ہے۔ جب صفائی عادت بن جائے تو زندگی کے ہر شعبہ میں ترتیب اور سلیقہ عیاں ہوتاہے۔
صفائی نصف ایمان ہے، یہ صرف ایک قول ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات اورطرزِ زندگی ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آنا چاہیے۔
جب مسلمان طہارت کے اصول کو اپناتے ہیں توو ہ نہ صر ف دینی تقاضے پورے کرتے ہیں، بلکہ دنیا کے لیے ایک مثالی قوم اورمعاشرہ تشکیل کرتے ہیں۔اللہ پاک صاف اور طاہر لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے’’ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے ‘‘ اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ’’اپنے کپڑے پاک رکھو۔‘‘
آئیے عہد کریں کہ صاف ستھرے رہیں گے اور قرب و جوار کو صاف رکھ کر معاشرے کو صاف رکھنے میں تعاون کریں گے۔
٭٭٭
