تحریر: ڈاکٹر ابو تحریر، دہلی

1980 ء کی دہائی میں میرے تعلیمی سلسلے کے آغاز ہوا تھااور اسی دہائی کے اخیر میں مدرسہ عالیہ عربیہ (مئو ناتھ بھنجن)سے پرائمری اور منشی درجات کی تکمیل ہوئی تھی ۔اس وقت شہر میں دو دکانیں زیادہ مشہور تھیں جہاں پر کاغذ،کاپی اور کتابیں دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ ایک مرزا ہادی پورہ میں تھی جب کہ دوسری دکان صدر چوک پر ،پہلی دکان کا نام غالباً پانڈے بک اسٹور تھا اور دوسری دکان نعیم بک ڈپو کے نام سے جانی جاتی تھی۔ پانڈے جی کی دکان سے نوٹ بکس، روشنائی،قلم دوات اور ہندی و انگریزی کی کتابیں مل جاتی تھیں ۔ دینیات اور اردو کی کتابوں کے لیے عموماً ہماری منزل نعیم بک ڈپو ہوا کرتی تھی،اس وقت یہاں پر کرتا پاجامہ اور ٹوپی میں ملبوس ایک باریش بزرگ مرکز توجہ رہا کرتے تھے، جو اس دکان کے مالک مولوی فخرالعبید اعظمی(1915-2001 ء) تھے،انہوں نے اپنے والد محمد نعیم صاحب کے نام پر دکان کا نام رکھا تھا۔یہ دکان چوں کہ گھر سے قدرے فاصلے پر واقع تھی،اس لیے یہاں پر جانے کا موقع کم کم ملتا تھا،گھر کے بڑے بزرگ یہ ذمے داری اداکردیاکرتے تھے ۔ حافظہ اگر وفا کررہا ہے تو بچوں کے میگزین( نونہال اور کھلونا وغیرہ)کا دیدار اسی دکان کی رہن منت ہے اورکبھی کبھار نصاب کی کتابیں بھی ،کیونکہ کورس کی زیادہ تر کتابیں رشتے داروں کے پاس مل جایا کرتی تھیں اور ہم نے اسی وقت مانگے کے اجالے سے گھر روشن کرنے کا ہنر سیکھ لیا تھا،جو آج بھی کام آرہا ہے ۔
1990 ءکی دہائی میں میری عربی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا،جلدہی جامعہ عالیہ عربیہ کے طلبہ کی انجمن تہذیب البیان سے عملی رشتہ بھی استوار ہوگیا، انجمن کی لائبریری اور انعامی مقابلے کے لیے کتابوں کی خریداری کے لیے ہماری منزل یہی دکان ہوا کرتی تھی ،اس وقت بھی فخر العبید صاحب کواسی جگہ پر دیکھا لیکن بات چیت کا موقع کم ہی ملا کیونکہ ہمارے معاملات شاہد جمال صاحب سے طے ہوجایا کرتے تھے جو دوسری نسل کے ایک محنتی نوجوان کی حیثیت سے اس کاروبار میں اپنی جگہ بنارہے تھے بلکہ بنا چکے تھے۔چند سال کے بعد میں بنارس ہوتے ہوئے دہلی چلاگیا،پھر شہر میں واپسی نہیں ہوسکی اور غریب الوطنی مقدر بن گئی ،سال میں ایک آدھ بار مئو جانے کا موقع ملتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ میں اپنے گھر میں مانند مہماں آیا ہوں۔
دسمبر 2019 ءمیں محترم راشد حسن مبارک پوری، جامعہ اسلامیہ فیض عام کے شعبہء تدریس سے منسلک ہوگئے ، انہوں نے یہاں پر تدریسی نشاطات کے ساتھ تصنیف و تالیف کے پرانے سلسلے کو بھی باقی اور برقرار رکھا اور دیکھتے دیکھتے مضامین نو کے انبار لگاتے چلے گئے ۔ اسی دوران میں ان کی زبان سے بارہا مکتبہ دارالسلام اور عزیزم حذیفہ شاہد سلمہ کا نام سننے میں آیا،کتابوں سے تھوڑا بہت تعلق ہونے کی وجہ سے ان دونوں ناموں سے کان پہلے ہی آشنا ہو چکے تھے لیکن تفصیل نہیں معلوم تھی۔ راشد حسن صاحب جب دہلی میں مقیم تھے تو ہم نے سلمان بھائی کے تعاون سے ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ تعالی کے عربی مقالات کی ترتیب و اشاعت کا منصوبہ بنایا تھا ،انہوں نے مختلف علمی مصروفیات ، متنوع نشاطات اور عائلی جھمیلوں کے درمیان اس منصوبے میں بھی رنگ بھرنا شروع کردیا،ان کی مثالی محنت اور بے لوث محبت کی وجہ سے جلد ہی کچھ مقالات کے مجموعے تیار ہوگئے، انہوں نے ریاض،دمشق اور بیروت کے ناشروں سے رابطہ کر کے ان کی اشاعت کی منظوری بھی حاصل کر لی اور اللہ کے فضل سے کچھ کتابیں شائع کرانے میں کام یاب بھی ہوگئے ۔
اوراپنے متنوع نشاطات میں محو ،اس وقت بھی ان کی ہم نشینی جذبوں کو گرما دیا کرتی تھی ،اس کو مجھ جیسے” شعلہء نم خوردہ” سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے ۔اسی وقت راشد حسن صاحب نے جب اپنے حرف و ہنر اور علم ودانش کی خوش بو سے” شہر ہنروراں” کے ایک چمن کو مہکانے کا فیصلہ کیا تو مجھ کواندیشہ تھا کہ کہیں یہ نقل مکانی ہمارے مشترکہ علمی منصوبے کو متاثر نہ کردے،میں نے دبے لفظوں میں اس کا اظہار بھی کیا اور یہ واضح بھی کردیا کہ مجھے آپ پر اعتماد ہے لیکن میرا شہر اس معاملے میں کچھ زیادہ قابل اعتماد نہیں رہا، مئو کے مدارس میں معاشی آسودگی کا دروازہ کھل جانے کے بعد اساتذہ کے ڈکشن میں ہندی/انگریزی کی چنداصطلاحات کا اضافہ تو ضرور ہوا ہے لیکن شہر کی علمی شناخت کو تسلسل اور توسیع عطا کرنے کی سمت میں کوئی خاص پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے ۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بے پایاں مسرت کا احساس ہورہا ہہے کہ میرا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔انہوں نے اپنی حر کی شخصیت، خالص علمی مزاج اور تصنیف و ترجمہ کے اعلی ذوق سے مدراس مئو کے ماحول میں جس میں بقول اقبال”نہ زندگی ،نہ محبت،نہ معرفت ،نہ نگاہ”والی کیفیت تھی ،زندگی کی لہر دوڑادی ،جس طرح دہلی میں ان کی ہم نشینی جذبوں کو گرما دیا کرتی تھی،یہاں پربھی ان کی شوق انگیز رفاقت نے "شعلہء نم خوردہ” ہوچکے لوگوں میں حرکت و حرارت پیدا کردی ہے ،انہوں نے خود دہلی کی تازگی اور طراوت کو باقی اور برقرار رکھا بلکہ یہاں کی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاکر اسلاف کی علمی تراث کے احیا اور اشاعت میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ۔
نومبر2025 میں مجھے پہلی بار مکتبہ دارالسلام کی دید کا موقع ملا اوریہیں پر عزیزم حذیفہ سلمہ سے ملاقات بھی ہوئی،جن کو تیسری نسل کا نمائندہ کہاجاسکتا ہے،ان کو دیکھ کر تعجب ہوا کہ اتنی بھاری بھرکم کتابیں چھاپنے والا بندہ تو بالکل دھان پان نکلا۔مجھے اسی شہر کا ایک قصہ یاد آگیا،برسوں پرانی بات ہے،ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے معاصر اردوادیبوں،دانشوروں اور شاعروں کے ساتھ احمد جمال پاشا بھی مئو میں تھے اور بہتوں کی طرح فضا ابن فیضی کو دیکھنے کے مشتاق،جب فضا صاحب سے ملاقات ہوئی تو قدرے مایوس ہوئے کہ ان کی تخلیقات کے مطالعے کے بعد ذہن میں ان کی جو تصویر بنا رکھی تھی، فضا صاحب تو اس کے بالکل برعکس ہیں۔
مکتبہ دارالسلام ، نشرواشاعت کی دنیا میں نووارد ہے لیکن جس گھرانے سے اس کا انسلاک ہے ،اس نے کاغذ،کاپی اور کتابوں کے اس کاروبار میں دہائیاں بسر کی ہیں اور پرنٹنگ پریس نے سنگی طباعت سے ڈیجیٹل طباعت کا جو طویل اور دل چسپ سفر طے کیا ہے ،اس کا بھی تجربہ رہا ہے۔اس گھرانے نے شہر میں کتاب صنعت کو وقار اور وسعت عطا کی ہے ،وہ تعارف اور تعریف کا محتاج نہیں ہے ،اس نے کتابوں کی تجارت کو جس شان اور سلیقے سے تیسری نسل تک منتقل کیا ہے ، وہ بجائے خود خاصے کی چیز ہے ۔ راشد حسن صاحب کی توجہ سے جب ڈاکٹر ازہری کی بعض عربی کتابیں/مقالات کے مجموعے یہاں سے شائع ہو ئے تو ان کو دیکھ کر برجستہ میری زبان سے نکل گیا کہ مئو تو دوسرا بیروت لگ رہا ہے! (کتابوں کی اشاعت کے لحاظ سے،ورنہ روشنیوں کے اس شہر کے ساتھ استعمار اور احتلال نے جو سلوک روا رکھا ہے ،وہ جگ ظاہر ہے ) ہوسکتا ہے ،میرے تاثر میں مبالغہ ہو لیکن اس مکتبے کی کتابوں کے گٹ اپ،ٹائٹل،گردپوش اور رنگوں کے حسن انتخاب کو دیکھ کر ذہن کا بیروت کی طرف جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سےقبل بنارس کے عربی مجلے کا موازنہ بھی بیروت کی طباعت سے کیا جاچکا ہے ۔ستر کی دہائی کی بات ہے اور راوی ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری ہیں جو اس وقت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ۔ ڈی کر رہے تھے۔”ایک دن مولانا عبدالوہاب بخاری (مدیر دائرۃ المعارف،حیدرآباد) علی گڑھ میں پروفیسر مختار الدین احمد آرزو (صدرشعبہء عربی)سے ہندستان میں عربی کتابوں کی نشرواشاعت کے موضوع پر گفتگو کرتے وقت جامعہ سلفیہ ،بنارس کے عربی مجلے کا ایک شمارہ ان کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملاحظہ فرمائیے! یہ طباعت بیروت کی طباعت کا مقابلہ کرتی ہے ۔”
محترم راشد حسن کی توجہ سے مجھے بھی مکتبہ دارالسلام کی کتابیں ملتی رہتی ہیں اوردوچار کتابوں پر میرے ٹیڑھے ترچھے تبصرے بھی شائع ہوچکے ہیں لیکن یہ مکتبہ جس انداز اور رفتار سے اسلاف کی علمی تراث کو منظر عام پر لارہا ہے ،اس کا حق اس قسم کے تبصروں سے بالکل ادا نہیں ہو سکتا ۔ پچھلے دنوں مکتبے کی جانب سے ایک پیکٹ ملا ،اس کو کھولا تو اس میں موتیوں کی ایک مالا نکلی اور اس مالا کا ہر دانہ تاب دار ، مکتبے کی مطبوعات کو پڑھنے کے لیے توفراغت اور گوشہء چمن کی ضرور ت ہے جو سردست میسر نہیں ، اس لیے فہرست کتب کی مدد سے چند سطریں لکھ رہا ہوں جن کوآپ ’’رسید ‘‘ کہہ سکتے ہیں :
1۔مجموع رسائل الامام المحدث محمد نذیر حسین الدھلوی
مکتبہ دارالسلام کی یہ شان دار اور عظیم پیش کش سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالی کے متعدد اردو/فارسی رسائل کے عربی ترجمے کا بہترین مجموعہ ہے اور ترجمہ محترم راشد حسن مبارک پوری کی کلک زرنگار کی دین ہے۔ انہوں نے ترجمے کے ساتھ نصوص کی تحقیق و تخریج کی ہے اور تعلیقات انیقہ سے بھی سجایاہے۔ پہلی جلد 502 صفحات پر مشتمل ہے اوراس میں شامل رسائل کے عناوین یہ ہیں : (1 )زیادۃ الإ یمان و نقصانہ(2 )الإیضاح الوافی فی مسأ لۃ رؤیۃ الباری (3 ) ثبوت الحق الحقیق(4 ) إحکام النظر فی مسأ لۃ الذکر بالجھر(5 ) إنارۃ الدجی فی إقامۃ الجمعۃ فی القری(6 )تقویم النظر فی مسأ لۃ رفع الیدین والتامین بالجھر۔دوسری جلد 395 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں شامل رسائل کے عناوین ملاحظہ فرمائیں: (1 )رسالۃ فی تحليی النساء بالذھب(2 )الدلیل المحکم فی نفی أ ثر القدم (3 )واقعۃ الفتوی دافعۃ البلوی(4 ) درک الجنان فی أن خطبۃ الجمعۃ فی کل لسان(5 ) أقوال الحبر فی أحوال السحر(6 ) فتح الباب فی مسأ لۃ النطق بالضاد۔ عناوین سے رسائل کے موضوعات کے تنوع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔محترم راشد حسن نے اس کتاب پر ایک علمی مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے میاں صاحب کے سوانحی کوائف،تدریسی نشاطات اور ان کے ہمہ گیر اثرات پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور ہر رسالے کے محتویات کا خوب صورت انداز میں تعارف کرانے کے ساتھ اس کی عصری معنویت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے ۔ میاں صاحب کی شخصیت کا جیسا تعارف عربی دنیا میں ہونا چاہیے تھا ،شاید ابھی تک نہیں ہوپایا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اس میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہی مجموعہ ہے جس سے عر ب قارئین کو ان کے افکار سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا،ان شاء اللہ۔
2۔مساھمۃ السید النواب صدیق حسن خان القنوجی فی أدب الدعوۃ والاصلاح ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے مذکورہ بالا عنوان سے ایک مقالہ لکھا تھا جو مجلۃ صوت الامۃ،بنارس میں دوقسطوں میں چھپا تھا،اس کے علاوہ،ان کی عربی اوراردو نگارشات میں نواب صاحب کی علمی شخصیت سے متعلق کافی مواد موجود ہے۔
جن کو اس کتاب میں اکٹھا کردیا گیا ہے ۔ محترم راشد حسن نے اردو تحریروں کا عربی ترجمہ کرنے کے بعد سب کو سلیقے سے مرتب کر کے نواب صاحب پر ایک مکمل کتا ب کا رو پ دےدیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب پر جو مقدمہ لکھا ہے وہ نواب شناسی میں ایک اہم اضافہ ہے ، اس کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ فردوس معارف کے در کھل گئے ہیں۔یہ کتاب دعوتی اور اصلاحی ادب میں نواب صاحب کی خدمات کا بہترین انداز میں تعارف پیش کرنے کے ساتھ ڈاکٹر ازہری کی نواب شناسی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے ۔
3۔ علامہ نذیر احمد رحمانی املوی:نقوش،آثار،تاثرات
علامہ نذیر احمد رحمانی املوی کا شمار بیسیوں صدی کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے ،وہ حقیقت میں منقولات و معقولات کے جامع تھے،انہوں نے دہلی اور بنارس میں رہ کرجس انداز سے تحریک اہل حدیث کے احیا اور نئی نسل کی ذہن سازی اور فکری تربیت کی ،وہ معاصر جماعتی تاریخ کا ایک شان دار اور حوصلہ افزا باب ہے ،اس کے باوجود ابھی تک ان کے سوانحی حالات اور علمی خدمات پر کوئی شایان شان کتاب منظر عام پر نہیں آسکی تھی ۔ محترم راشد حسن مبارک پوری نے یہ کتاب لکھ کر اس قرض کو اتارا ہے جو جماعت اہل حدیث پر کئی دہائیوں سے واجب تھا لیکن مجھ جیسے قاری کو مقروض بھی کردیا ہے ۔اس کتاب کی پہلی جلد 601 صفحات پر مشتمل ہے جس میں علامہ املوی کے سوانحی کوائف،متنوع نشاطات اور علمی خدمات کا بہترین اسلوب میں جائزہ لیا گیا ہے ۔دوسری جلد663 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ان کی شخصیت،سیرت اور علمی فتوحات پر مشتمل مقالات ،کتابوں پر تبصرے /مقدمے / عرض ناشر،تاثراتی مضامین ،تعزیتی کلمات،منظوم تاثرات اور مکاتیب کے نمونے شامل ہیں اور متفرقات بھی ۔ اس کی تلاش اور ترتیب میں انہوں نے بڑی محنت کی ہے اور ان کی اس محنت سے نہ جانے کتنی کرم خوردہ نگارشات باذوق قارئین کی بک شلیف کی زینت بن گئی ہیں۔ جہان حرف و معنی میں "حرف آخر” نام کی کوئی شے نہیں ہوتی ہے ،تاہم میں یہ لکھنے کی جسارت کر رہاہوں کہ بہت دنوں تک اس کتاب پر کوئی قابل قدر اضافہ مشکل ہے اور یہ سوانحی ادب کا ایک شاہ کار ہے۔
4۔جامع المنقول و المعقول علامہ نذیر احمد رحمانی:حیات،آثار،مقالات 440 صفحات پر مشتمل یہ کتاب میرے ” جونیئر بزرگ ” مولانا صہیب حسن بن فضل حق مبارک پوری (لکچرر جامعۃ الھند اسلامیۃ ،کیرلا) کی طالب علمانہ محنت کا ثمرہ ہے جو انہوں نے جامعہ سلفیہ،بنارس میں استاذ محترم ڈاکٹر رضاء اللہ صاحب مبارک پوری کے اشراف میں ترتیب دیا تھا ۔اس کتاب کا ایک گوشہ علامہ املوی کی سوانح حیات اور ان کی تصانیف کے تعارف اور تبصرے پر مشتمل ہے جو سرسری اور سطحی بالکل نہیں بلکہ تجزیاتی ہے اور لگتا ہے کہ انہوں کتاب کا ایمان دارانہ مطالعہ کرنے کے بعد لکھا ہے جوکتاب کے محتویات اور اسلوب کے ساتھ ،علامہ املوی کے افکار کی تفہیم میں بھی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے دوسرے حصے میں ماہ نامہ محدث ،دہلی اور دیگر مجلات میں مطبوعہ مضامین / اداریے کو سلیقے سے ترتیب دیا ہے جس کے مطالعےسے علامہ املوی کے جہان تخلیق کی بوقلمونی اور رنگارنگی اور ان کے اسلوب کی شگفتگی کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔
5۔ اہل حدیث اور سیاست:یہ علامہ نذیر احمد رحمانی املوی کی مشہور کتاب ہے جس کے متعدد اڈیشن جامعہ سلفیہ ،بنارس سے شائع ہوچکے ہیں۔مصنف نے اس کتاب میں جماعت اہل حدیث کی ملی اورسیاسی خدمات کا جائزہ لیا ہے اور معاصر علما کے اعتراضات اور الزامات کا تحقیقی اور مدلل جواب بھی دیا ہے۔یہ کتاب 438 صفحات پر مشتمل ہے، اس میں مولانا صفی الرحمان مبارک پوری اور محترم محمد تنزیل صدیقی حسینی کے مفید حواشی اور تعلیقات بھی ہیں ،جس سے کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جماعت اہل حدیث کی تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے۔
قارئین کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔معاصر علمی منظر نامے میں جس انداز سے تاریخ نگاری کے پردے میں تاریخ سازی بلکہ پروپیگنڈے کا کاروبار پھل پھول رہا ہے ،سوشل میڈیا پر ہرکوئی اپنی دکان سجا کر کچا پکا مواد پروس رہا ہے ،ایسے ماحول میں اس کتاب کا مطالعہ بہت ضروری ہوگیا ہے تاکہ لا علمی اور بے خبری کی یہ کڑی دھوپ ہمارے ذہن و فکر کو جھلسا نے نہ پائے ۔
6۔ رد عقائد بدعیہ
علامہ املوی کی اس مشہور کتاب کے بھی متعدد اڈیشن جامعہ سلفیہ ،بنارس سے شائع ہوچکے ہیں۔ یہ اڈیشن معروف عالم دین مولانا اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ ،بنارس)کی تخریج اور تحقیق پر مشتمل ہے،انہوں نے احادیث کی تخریج اور اقتباسات کی توثیق کے ساتھ ان کے مصادر سے تقابل کر کے حسب ضرورت تصحیح کا کام بھی انجام دیاہے جس سے کتاب کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔علامہ املوی نے 1940 کی دہائی میں ماہ نامہ محدث،دہلی میں قسط وار مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جو گردش دوراں کی وجہ سے جاری نہیں رہ سکا تو انہوں نے مطبوعہ مقالات کو 1950 کی دہائی میں کتابی شکل میں شائع کرادیا تھا ۔اس وقت کے سیاسی حالات اور مسلمانوں کی کس مپرسی کو دیکھتے ہوئے کتاب کے مشتملات اور اس کی اشاعت پرکچھ لوگوں کی پیشانیاں شکن آلود ہوسکتی ہے لیکن مصنف جو خود گردش دوراں کے شکار تھے اور پس دیوار زنداں کی آزمایش بھی برداشت کرچکے تھے ، اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا جس کاسب سے واضح پیغام یہی ہے کہ عقائد کے موضوع پر گفتگو فصل گل و لالہ کی پابند نہیں ہے ۔ 230 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں علامہ املوی نے علم غیب،بشریت رسول ،سایہء رسول اور حاضر و ناظر جیسے اہم موضوعات پر علمی اسلوب میں روشنی ڈالی ہے اور موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔
7۔التحقیق الحسن فی الاطعام عن المیت بعد الدفن(تدفین کے بعد میت کی طرف سے دعوت طعام کی شرعی حیثیت)
یہ رسالہ بھی جامعہ سلفیہ، بنارس سے چھپ چکا ہے،کتاب کے نام سے اس کے محتویات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،علامہ املوی نے یہ رسالہ بریلوی فرقہ کے ایک شخص کی طلب پر لکھا تھا اور دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا تھا کہ پس مرگ دعوت طعام کا اہتمام درست نہیں ہے۔ 84صفحات پر مشتمل یہ جدید اڈیشن عزیزم حمید حسن سلفی (استاذ مدرسہ اسلامیہ انوارالعلوم ،املو،اعظم گڑھ) کی تخریج و تعلیق سے مزین ہے۔وہ ابھی اس میدان میں نووارد ہیں لیکن باذوق ہیں، بلند حوصلہ اور باہمت بھی ،امید ہے کہ اپنے برادران کی علمی صحبت اور رہ نمائی سے اسلامی ادب کی تخلیق میں قابل ذکر اضافہ کریں گے ،ان شاء اللہ
یہ مکتبہ دارالسلام کی چند نئی مطبوعات کا سرسری تعارف ہے ، اگر کشا کش غم پنہاں سے فرصت ملی تو بعض کتابوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے کی کوشش کروں گا، ان شاء اللہ۔ مذکورہ بالا مطبوعات کا غالب حصہ علامہ املوی کی نگارشات اور سوانح حیات سےمتعلق ہے اور ان کی ترتیب و تصنیف اور پیش کش میں” حسن برادران "کے علمی مزاج، جماعتی حمیت، پرخلوص جذبے اور شوق فراواں کا دخل ہے،اللہ تعالی اس جذبے اور شوق کو باقی اوربرقرار رکھے آمین ۔ان کتابوں کی حسن طباعت اوردیدہ زیب ٹائٹل کو دیکھ کر مجھے مہدی افادی کا مشہور جملہ یاد آرہا ہے،جس کو پہلے بھی لکھ چکا ہوں ،پھر بھی دہرانے کی اجازت چاہتا ہوں کیونکہ سردست اس کا نعم البدل میسر نہیں ہے "عروس جمیل در لباس حریر” اور یہ جملہ مکتبہ دارالسلام کی اکثر مطبوعات پر صادق آتا ہے ۔اللہ تعالی اس کے کام میں جمال اور عزم میں استقلال عطا فرمائے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے