ازقلم : ابوصالح دل محمد سلفی

جامعہ سلفیہ بنارس

سعودی حکومت کو یہ شرف وسعادت حاصل ہے کہ اس کی تاسیس امت کے ایسے مخلصین کے ہاتھوں عمل میں آئی ہے، اور اب تک اس ملک کو صلاحیت و صالحیت سے متصف ایسے رجال افراد کی قیادت و سیادت اور اشراف و نگرانی حاصل رہی ہے جنہوں نے احقاق حق اور ابطال باطل میں اپنی پوری زندگی وقف کردی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ گوناگوں دینی خدمات وکارنامے اس ملک کی نمایاں خوبی اور امتیازی خصوصیت رہی ہے ۔ ذیل کے سطور میں انہیں میں سے دو اہم کارناموں کا ذکر نذر قارئین کیا جارہا ہے ۔
(1) توحید کی حفاظت اور شرک و بدعات کی بیخ کنی: بلا شبہ سعودی حکومت ہمیشہ توحید کا بے باک حامی ملک رہا ہے، توحید کی حفاظت و حمایت اس ملک کی اولین ترجیحات میں سے رہی ہے، اس ملک نے توحید کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ روا نہیں رکھا، چنانچہ: جب امیر سعود بن عبد العزیز بن محمد رحمہ اللہ نے شیخ محمد بن عبدالوہاب اور ان کی دعوت کے بارے میں سنا تو اس کو قبول کرتے ہوئے ان سے یہ وعدہ لیا کہ آپ اس شہر کو چھوڑ کر کہیں اور نہیں جائیں گے تو شیخ رحمہ اللہ نے اس بات پر امیر رحمہ اللہ سے بیعت کرلی، اور اپنی دعوت کو عام کرنے لگے، مختصر عرصہ میں آپ کی دعوت درعیہ شہر میں پھیل گئی، اور وہاں سے شرکیہ اعمال کا خاتمہ ہوگیا، اور اس کے قرب وجوار میں بھی آپ کی دعوت تیزی سے پھیل گئی، آپ نے کئی بار حجاز کے امراء کے سامنے اپنی دعوت پیش کی، اسی اثناء شیخ رحمہ اللہ کا انتقال ہوگیا، لیکن امیر سعود رحمہ اللہ نے ان کی دعوت کو آگے بڑھاتے ہوئے طائف پھر حجاز کا رخ کیا، اور حجاز میں سب سے پہلے مکہ مکرمہ پر یکم محرم سنہ 1218 ہجری کو فجر کے وقت توحید کا جھنڈا بلند کیا، پھر اس کے دو سالوں کے بعد سنہ 1220 ہجری میں مدینہ پر توحید کا جھنڈا لہرایا، اور ان دونوں جگہوں سے جو مزارات یا خرافات کی چیزیں تھیں، سب کا خاتمہ ہوگیا، اسی اثناء ہندوستان سے علماء بریلویہ کی ایک جماعت امیر سعود کے پاس پہنچی یہ سوال لیکر کہ آپ نے ان مزارات کو کیوں ڈھا دیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے علماء ہیں، انہوں نے ہمیں یہ خبر دی کہ کتاب و سنت کی روشنی میں یہ تمام چیزیں ممنوع ( حرام) ہیں، اب تم ایسی دلیل لاؤ کتاب وسنت کی روشنی میں جو یہ بات ثابت کرے کہ یہ چیزیں صحیح ہیں، اگر تم نے ان چیزوں کے جواز کو کتاب و سنت صحیحہ کی روشنی میں ثابت کردیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں سونے کے مزارات بنا دوں گا، لیکن وہ لوگ ثابت نہ کرسکے، اور اپنا سا منہ لے کر واپس اپنے ملک لوٹ گئے، اس طرح سے اس بلد مقدس سے ہر قسم کے شرک و بدعات کا خاتمہ ہوگیا-( ماہنامہ محدث بنارس فروی 2016 )
توحید کی حفاظت اور شرک و بدعات کی بیخ کنی میں سعودی حکومت نے اب تک متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سے چبد کا ذکردرج ذیل ہے:
1- عقیدہ توحید میں اسلاف کرام کی کتابوں کی نشر و اشاعت۔
2- عقیدہ توحیدکے مسائل پر چھوٹے چھوٹے کتابچے ورسائل نیز بڑی بڑی کتابوں کی طباعت اور پوری دنیا میں مفت تقسیم۔
3- عقیدہ کے منافی امور پر تحقیقی مقالات اور رسائل کی طباعت و توزیع۔
4- پوری دنیا میں دعاۃ و مبلغين کا ابتعاث-
5- نصاب تعلیم میں عقیدہ توحید کو سر فہرست رکھنا وغیرہ…..
(1) قرآن اور اس کے تراجم وتفاسیر کی طباعت اور اس کی توزیع وتقسیم: سعودی حکومت کی دینی خدمات میں سے ایک انتہائی عظیم اور بے مثال خدمت قرآن اور مختلف زبانوں میں اس کے تراجم وتفاسیر کی طباعت اور پوری دنیا میں اس کی توزیع وتقسیم کرناہے۔ اس عظیم خدمت کے لیے سعودی حکومت نے کئی ادارے اور مراکز قائم کر رکھے ہیں جن کو دنیا کے بڑے بڑے اور ماہرِ فن علماء کرام کی سرپرستی وخدمات حاصل ہیں۔
(الف) ” الرئاسة العامة لإدارة البحوث العلمية والإفتاء ” یہ سعودی حکومت کے سب سے قدیم اور پرانے مراکز میں سے ایک ہے، اس ادارہ کے پہلے سرپرست اور نگراں علامہ ابن باز رحمہ اللہ تھے، اس مرکز کا ایک خاص اور اہم شعبہ ” وكالة الطباعة والترجمة” ہے، جس کے تحت مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کیے جاتے ہیں، اور پھر ” مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف بالمدينة المنورة” کے تعاون سے اس کی نشر و اشاعت عمل میں آتی ہے۔
( دور الترجمة في الدعوة ص 65)
(ب) "مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف بالمدينة المنورة ” قرآن مجید اور عام مسلمانوں کی خدمت کی لئے سعودی حکومت کے تعاون سے اس مرکز کا قیام عمل میں آیا ، 16 محرم سن 1403 ہجری کو خادم الحرمین الشرفین ملک فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے اس کی سنگ بنیاد رکھی، اور تقریباً دو سال بعد 6 صفر سن 1405 بمطابق 30 اکتوبر 1984 اس کی تعمیر مکمل ہوئی،اس مرکز کے اہداف و مقاصد درج ذیل ہیں:
1- قرآن مجید کی طباعت
2- مشہور و متداول زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر کرنا
3- مشہور قراء کی آواز میں قرآن مجید ریکارڈ کروانا
4- کتاب و سنت اور سیرت طیبہ سے متعلق تحقیقی مقالات و مضامین کا اجراء
5- مرکز کی مطبوع کتابوں کو عالمی پیمانے پر نشر کرنا
6 اندرون و بیرون ملک مسلمانوں کی ضروریات پر لبیک کہنا( تطور كتابة المصحف الشريف وطباعته وعناية المملكة العربية السعودية بطبعه ونشره وترجمة معانيه ص 72،73)اب تک مذکورہ مرکز سے تقریباً تیس زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم بشمول کئی سائزوں کے مطبوع ہو کر دور دراز مسلمانوں تک خالص لوجہ اللہ پہنچائے جا چکے ہیں، اور ہنوز یہ عمل جاری وساری ہے۔
اس مرکز کے تحت جن زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم وتفسیر عمل میں آئی ہے ان میں سے چند مشہور و زندہ زبان درج ذیل ہیں۔(1) اردو زبان (2) انگریزی زبان ( 3) جاپانی زبان( 4) انڈونیشین زبان (5) اسپینش زبان( 6) چائنیز زبان (7) فارسی زبان (8) کوریائی زبان( 9) یونانی زبان (10) بنغالی زبان وغیرہ( دور ترجمات:معاني القرآن الكريم في دعوة غير المسلمين إلى الإسلام مع بيان الجهود العملية للمملكة العربية السعودية ص 50،58) اللہ تعالی اس ملک کی حفاظت فرمائے اور اس کو دوام و مزید استحکام عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے