حیدر آباد 30 /ستمبر (مشرقی آواز جدید): حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر خادم جمعیتہ علماء تلنگانہ نے گزشتہ چند ماہ سے شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں بڑھتے ہوئے قتل کے واردات میں اضافہ کے سبب اپنے گہرے تشویش کا اظہار کیا ۔ اور انہوں نے محکمہ پولیس سے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اسی سلسلہ میں ریاستی جمعیتہ علماء کے صدر محترم اور جزل سکریٹری صاحب نے آنے والے جمعہ کے موقع پر علماء ائمۂ خطبۂ حضرات اور مشائخین عظام سے گزارش کی ہے کہ وہ قتل کے واردات کی روک تھام اور اسلام نقطہ نظر سے انسان کا مقام اور مرتبہ کے عنوان پر عوام میں شعور بیداری لائیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حید آباد اور اس کے اطراف میں پانی مہنگا اور خون ستا ہو گیاہے۔ چھوٹی بات پر یا محض چند روپیے کیلئے بدلہ لینے کے ارادہ سے قتل کیا جا رہا ہے۔ جس مذہب میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا۔ جب کے کھلے عام یہاں بے دردی کے ساتھ انسانوں کا قتل ہو رہا ہے۔ پہلے کبھی کبھار ایک آد واقعہ سنے میں آتا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ اب ہر روز کوئی نہ کوئی علاقہ میں قتل کے واردات پیش آرہے ہیں۔ اور حیرت کی بات ہے کسی روز دوہرے قتل کے واردات بھی ہو رہے ہیں۔ اسی چیز کے پیش نظر حضرات علماء کرام ائمہ اور خطیب حضرات مشائخین سے گزارش ہے کہ جمعہ کے موقع پر اسکو موضوع بنا کر عوام کے اندر شعور لا یا جائے ۔ اور ریاستی جمعیۃ علماء حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ جن علاقوں میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں ان علاقہ پر خاص نظر رکھی جائے۔ اور لوگوں کے اندر جو خوف اور ہراس کا ماحول ہے اسکو دور کیا جائے ۔ ورنہ ہر آدمی ہر چھوٹی بات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے لگے گا ۔ تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوگا اور عوام کے اندر سے پولیس پر سے بھروسہ ختم ہو جائیگا آئندہ اور بڑے مسائل کھڑے ہونگے ۔ ایک طرف مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستی حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کو منشیات پاک حکومت ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ دوسری طرف قتل کرنے والوں میں اکثر لوگ نشہ کی حالات میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اس لئے شہر حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں قتل کے واردات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے