مسجد کے قریب شیواجی مجسمہ نصب کرنے پر مسلمانوں کی تحصیلدار کو یاداشت
کوہیر دکن 23 اکتوبر (نمائندہ): موچی ریڈی پلی گاؤں میں مسجد کے بالکل قریب سڑک پر چھترپتی شیواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کیے جانے پر مقامی مسلمانوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
موچی ریڈی پلی مسجد کمیٹی اور مسلم بزرگوں نے منڈل تحصیلدار کو ایک تحریری عرضی پیش کی ہے جس پر 23 اکتوبر 2026 کو ایم پی پی آفس کوہیر میں انوارڈ کی مہر لگی ہے۔
عرضی میں لکھا گیا ہے کہ مورخہ 20/10/2026 کو گاؤں کے کچھ لوگوں نے مسجد کے عین سامنے اور درمیان میں سڑک پر مجسمہ نصب کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ ہمیں مجسمہ نصب کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن جس جگہ پر نصب کیا گیا ہے وہ جگہ بہت تنگ ہے۔ شام کے وقت گاؤں کے لوگ وہیں بیٹھتے ہیں، وہاں درخت لگے ہوئے ہیں اور پہلے ہی سے سڑک چھوٹی ہے۔
کمیٹی کو اندیشہ ہے کہ مسجد کے بیچ میں مذہب مخالف نعرے بازی اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور جھگڑا فساد پیدا ہو سکتا ہے۔
اس لیے مسجد کمیٹی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجسمے کو مسجد کے قریب سے ہٹا کر گاؤں کی کسی دوسری کھلی اور کشادہ جگہ پر منتقل کیا جائے تاکہ گاؤں میں ہندو مسلم سب مل جل کر امن و شانتی کے ساتھ رہ سکیں۔
کمیٹی نے تحصیلدار سے فوری کارروائی کرکے گاؤں میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔۔۔۔۔
