(تصویر: قاری شبیر احمد قاسمیؒ)
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھر وار ہ کے ناظم اعلیٰ، وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ کے نائب صدر، درجنوں مدارس کے سرپرست، نامور خطیب، عمدہ شاعر، بہترین منتظم اور استاذ الاساتذہ قاری شبیر احمد حافظ کا 2/اکتوبر 2026ء مطابق 20/ ربیع الآخر 1448ھ روز جمعہ بوقت نماز عصر پٹنہ کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا، انہیں برین ہیمرج کے بعد پٹنہ لایا گیا تھا، دماغ کا آپریشن میدانتا میں ہوا تھا، بعد میں سینہ میں انفیکشن ہو گیا، علاج جاری رہا، لیکن ملک الموت کو کون روک سکتا ہے، چنانچہ اس نے اپنا کام کیا اور قاری صاحب کی روح کو لے کر چلتا بنا، جنازہ پٹنہ سے ان کے آبائی گاؤں قاضی محلہ بھر وار ہ منتقل کیا گیا اور دوسرے دن بعد نماز ظہر ڈھائی بجے دن میں مشہور بزرگ ماسٹر محمد قاسم صاحب نے جنازہ کی نماز پڑھائی، ہزاروں کی تعداد میں علماء، صوفیاء، اکابر، بزرگان دین، اہل اللہ، مدارس کے ذمہ داران اور قرب و جوار کے مسلمانوں کے ساتھ دور دراز سے آئے قاری صاحب کے مخلصین اور معتقدین جنازہ اور تدفین میں شریک ہوئے، امارت شرعیہ کا ایک مؤقر وفد جواحقر(محمد ثناء الہدیٰ قاسمی) مولانا مفتی محمد سہرا ب ندوی قاسمی، مولانا احمد حسین قاسمی مدنی، مفتی وصی احمد قاسمی، مولانا ارشد صاحب قاسمی قاضی شریعت دربھنگہ پر مشتمل تھا، شریک ہوا، جنازہ کے قبل حضرت امیر شریعت اور ناظم امارت شرعیہ کے پیغام کو پہونچانے اور تعزیت کی غرض سے میرا، مفتی محمد سہراب صاحب اور مفتی وصی احمد صاحب کا خطاب ہوا، جنازہ کی نماز ان کے دروازہ سے متصل جنازہ گاہ میں پڑھی گئی اور دروازہ کے سامنے موجود قبرستان میں ان کے بڑے لڑکا ضمیر احمد کاشف (م 28/نومبر 2002ء) کی قبر کے قریب تدفین عمل میں آئی، تھوڑے وقت کے لیے قاری صاحب کا جنازہ ان کے خون و پسینے سے سینچے ادارہ مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھر وار ہ عام دیدار کے لیے لے جایا گیا، پس ماندگان میں اہلیہ، تین صاحب زادے اور ایک صاحب زادی کو چھوڑا۔
قاری شبیر احمد بن محمد مسلم (م 1999ء) بن عبد اللہ بن بقاء اللہ کی ولادت سرکاری شناخت نامہ کے مطابق 10/ دسمبر 1948ء کو قاضی محلہ بھر وار ہ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم ناخد ا مسجد محمد علی روڈ ممبئی میں پائی، ان کا قیام یہاں چار سال رہا، وہاں سے دار العلوم دیو بند چلے گئے، جہاں حفظ و قرأت کی تکمیل کی، اس مرحلہ میں ان کے استاذ، قاری عبد الخالق صاحب استاذ دار العلوم دیو بند تھے، حفظ و قرأت سے فراغت کے بعد باضابطہ دار العلوم دیو بند میں داخل ہو کر عربی ششم تک کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد انہوں نے دار العلوم دیو بند میں ہی بخاری شریف کے درس کی سماعت کی، سند فراغت وہاں سے نہیں حاصل ہوئی، حضرت قاری صاحب اس تفصیل کو ایک جملہ میں بیان کرتے تھے کہ ’’میں دار العلوم سے فارغ تو ہوں، فاضل نہیں ہوں‘‘۔
مولانا بدر الحسن قاسمی لکھتے ہیں: ’’انہوں نے کبھی درس نظامی کا کورس مکمل کرنے یا باقاعدہ فراغت کی سند لینے کی کوشش نہیں کی، لیکن ان کی معلومات بہت سے سند یافتہ علماء سے کسی طرح کم نہیں تھی‘‘۔
قاری صاحب کی نانی ہال سنہ پور، ضلع در بھنگہ اور سسرال پٹھان ٹولی بھر وار ہ تھی، خسر محترم محمد یونس بن محمد یوسف تھے، یہ رشتہ قاری صاحب نے حضرت مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی کے اصرار پر قبول کیا تھا اور مولانا اعجاز صاحب نے ہی نکاح پڑھایا تھا، دیوبند سے واپسی کے بعد میرٹھ میں مولانا محمد فاروق صاحب کے مدرسہ سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا، جہاں وہ کم وبیش تین سال رہے، وہاں سے مولانا اعجاز احمد صاحب کی تحریک پر جو ان دنوں مدرسہ دینیہ غازی پور میں استاذ تھے، غازی پور چلے آئے اور مدرسہ دینیہ غازی پور کے دائرۃ التربیت سے منسلک ہوکر نئے فضلاء کی تربیت کرنے لگے، کم وبیش تیرہ، چودہ سال یہاں گذارنے کے بعد قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے اصرار پر ناظم کی حیثیت سے مدرسہ اسلامیہ شکرپور آگئے اور یہی کے ہوکر رہ گئے، مدرسہ اس زمانہ میں تین جھونپڑی نما کمروں پر مشتمل تھا، میں اس زمانہ میں مدرسہ احمدیہ ابابکرپور میں استاذ تھا اور مدرسہ کے پہلے سالانہ اجلاس میں بحیثیت مقرر شریک ہوا تھا، وہ دن اور آج کا دن قاری صاحب نے بینائی سے معذور ہونے کے باوجود اپنی بصیرت کا استعمال کیا اور مدرسہ کو ترقی کے بام عروج پر پہنچایا، قاری صاحب کی رہنمائی میں مدرسہ کے اساتذہ ان کے دست وبازو بن گئے، خصوصاً سابق صدر مدرس مولانا صفی الرحمن صاحب مدظلہ اور دیگر اساتذہ ان کے کاموں کو آگے بڑھانے میں معین ومددگار رہے، ان کی آنکھ بن کر مولانا غلام ربانی قاسمی سفر وحضر میں ان کے رفیق سفر ہوا کرتے تھے۔
قاری صاحب کا حافظہ انتہائی قوی اور مطالعہ بہت وسیع تھا، ہزاروں کتابیں انہوں نے پڑھوا کر سنی تھیں، لیکن اپنی سماعت اور حافظہ پر اس قدر اطمینان تھا کہ فرماتے تھے یہ کتاب میں نے پڑھی ہے، بہت سارے شعراء کے دیوان ان کے ذہن کے نہاں خانے میں محفوظ تھے اور بروقت وہ اس کو حافظہ کی گرفت سے باہر لے آیا کرتے تھے، خود بھی وہ اچھے شاعر تھے، حافظؔ تخلص کرتے تھے، دیوبند کے زمانہ قیام میں مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی اور مولانا ریاست علی ظفر بجنوری سے مشورۂ سخن لیا کرتے تھے، بعد کے دنوں میں ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب سے رجوع کا معمول بن گیا تھا، ان کے منتشر کلام کو دارالعلوم کے دیواری پرچے ”افکار“ اور ان کی بیاض سے ان کے صاحب زادہ مولانا دبیر احمد قاسمی کارگزار ناظم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ نے جمع کرلیا ہے، امید ہے کہ جلد ہی وہ طبع ہوکر منظرعام پر آئے گا۔ قاری صاحب کا ادبی ذوق ان کی تقریروں اور خطابت میں بھی نمایاں رہتا تھا، وہ بہت ہی مرتب، موضوع پر محیط اور تعبیرات و جملوں میں ادبیت کے ساتھ تقریر کرتے تھے، ان کی خطابت میں تصنع نہیں ہوتا تھا، یہی انداز ان کا مکاتیب میں ہوتا، وہ املا کراتے اور کاتب لکھتا رہتا، کاتبین میں ایک حضرت مولانا بدر الحسن قاسمی مقیم کویت بھی ہوا کرتے تھے، لکھتے ہیں: ”ان کی زبان پر فصاحت وبلاغت کا فرشتہ بولتا رہتا اور میں قلم بند کرتا چلا جاتا، الفاظ، معلومات، برجستہ اشعار، محل فقروں کا ایک سیل رواں ہوتا اور میں انہیں کاغذ پر سمیٹتا رہتا، قاری صاحب کے مکاتیب کو جمع کیا جاتا تو ”غبارِ خاطر“ کا ایک دوسرا جلوہ نگاہوں کے سامنے آجاتا۔“
قاری صاحب کی حیات جہدِ مسلسل اور استقامت کی ایک روشن مثال تھی، کئی بار ابتلاء و آزمائش سے گزرے، مگر ان کے پائے ثبات میں کبھی لغزش نہیں آئی ، بچپن سے نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے جس ہمت ، حوصلے اور عزمِ مصمم کے ساتھ مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھرواراکو پروان چڑھایا، وہ ان کی عملی جدوجہد اور اللہ پر توکل کی روشن دلیل ہے، مرحوم کی شخصیت گوناگوں خوبیوں کی حامل تھی ، ان کے دل میں امت کا درد اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے گہری فکر ہمیشہ موجزن رہتی تھی، وہ قومی وملی جذبے سے سرشار ایک سچے داعی، بیدار مغز اور بہترین منتظم تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزار دی، انہیں امارت اور اکابرِ امارت سے گہری محبت تھی، وہ امارت کے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے، وفاق کے کاموں میں انکی بڑی معاونت رہتی تھی وہ اس کے نائب صدر تھے، انہوں نے اپنے مدرسہ میں وفاق کے مدارس کے اساتذہ کا تربیتی پروگرام اور زونل مدارس کی میٹنگ کا انعقاد بھی کرایا تھا، پسماندگان، متعلقین، مدرسے کے اساتذہ و تلامذہ سے گہرے صدمے کے ساتھ تعزیت پیش کرتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے حسنات کو قبول کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

