سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال کاجائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی سوال بار بارذہن وفکر کے دروازے پردستک دیتا ہے کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے ایک بڑی آبادی،جس کے پاس تاریخ وتہذیب کا سرمایہ ہے،دینی و اخلاقی تعلیمات کی رہنمائی موجودہے،باصلاحیت افراد کی کمی نہیں اور اجتماعی قوت کے امکانات بھی موجود ہیں،اس کے باوجود متعددمقامات پرعدم تحفظ،معاشی پسماندگی،تعلیمی محرومی،سیاسی بے اثری اورسماجی انتشار کا سامنا کررہی ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے جن بنیادی مسائل پرتوجہ دینا ضروری ہے،ان میں قیادت کا فقدان،باہمی انتشار،اجتماعی حکمت عملی کی کمی اور ادارہ جاتی کمزوری نمایاں ہیں۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی،تحفظ اور استحکام کے لیے محض تعداد کافی نہیں ہوتی،بلکہ اس کے لیے بصیرت رکھنے والی قیادت،مضبوط ادارے،مشترکہ مقاصد اورحالات کے مطابق درست فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔جب قیادت کمزور ہو،اجتماعی ترجیحات واضح نہ ہوں اورقوم اپنے وسائل کومنظم کرنے میں ناکام رہے تو اس کے نتائج مختلف شکلوں میں سامنے آتے ہیں۔مسلمانوں کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات کا جائزہ محض جذباتی ردعمل کی بنیاد پر لینے کے بجائے سنجیدہ تجزیے اورعملی حکمت عملی کے ساتھ لیں۔قیادت کسی قوم کے لیے محض ایک فرد،ایک عہدے یا ایک سیاسی چہرے کا نام نہیں،بلکہ یہ ایک مکمل فکری،اخلاقی اورتنظیمی نظام کا عنوان ہے۔حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جوقوم کو درپیش مسائل کی درست نشاندہی کرے،عوام کے جذبات کوتعمیری سمت دے،مشکل حالات میں حوصلہ پیدا کرے اورمستقبل کے لیے قابلِ عمل منصوبہ بندی کرے۔بدقسمتی سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں قیادت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ کہیں قیادت شخصی مفادات کی اسیردکھائی دیتی ہے،کہیں گروہی وابستگی اجتماعی مفادپرغالب آجاتی ہے،کہیں اختلافات اس قدرشدت اختیار کرجاتے ہیں کہ مشترکہ مسائل پس منظرمیں چلے جاتے ہیں اور کہیں عوامی مسائل کے حل کے لیے اعلانات تو بہت ہوتے ہیں لیکن مستقل جدوجہد،مؤثر پیروی اور جواب دہی کا نظام کمزور رہتا ہے۔مختلف علاقوں میں ایسے افراد،ادارے اورتنظیمیں بھی موجود ہیں جوتعلیم،سماجی خدمت،قانونی امداد،رفاہی سرگرمیوں اورعوامی حقوق کے لیے کام کررہی ہیں۔اصل مسئلہ ان کوششوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے،ان کی افادیت بڑھانے اور انہیں وسیع تر اجتماعی حکمت عملی کا حصہ بنانے کا ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں شہریوں کی جان،مال،عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ،ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہےجب کسی فرد یا گروہ کوتشدد،دھمکی،امتیازی سلوک یا املاک کے نقصان کا سامنا کرناپڑے تو یہ صرف متاثرہ خاندان کا مسئلہ نہیں رہتا،بلکہ قانون کی بالادستی اورمعاشرتی انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔مسلمانوں کوجہاں بھی ناانصافی یاتشدد کاسامنا ہو،وہاں متاثرین کی مدد،قانونی چارہ جوئی،شواہد کا تحفظ،مستندمعلومات کی فراہمی اورمتعلقہ اداروں سے جواب دہی کا مطالبہ اہم ہے،محض مذمتی بیانات جاری کردینا کافی نہیں،متاثرین کے لیے قانونی و مالی امداد،اہل خانہ کی بازآبادکاری اورمقدمات کی مسلسل پیروی بھی ضروری ہے۔اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ ہرواقعے کی حقیقت مستند شواہد کی بنیادپرسامنے لائی جائے،افواہوں،غیرمصدقہ خبروں اور اشتعال انگیز پیغامات سے گریز کیا جائے، کیونکہ غلط معلومات نہ صرف صورتِ حال کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں بلکہ بے گناہ افراد کے لیے مزید خطرات بھی پیدا کرسکتی ہیں۔قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کے دکھ دردکومحض تقریروں کا موضوع نہ بنائے،بلکہ ان کے لیے عملی تعاون کا ذریعہ بنے۔جس قیادت کے پاس عوام کےمسائل کا ریکارڈ،قانونی ماہرین کی ٹیم،امدادی وسائل اورمستقل پیروی کا نظام ہو،وہ مشکلات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔جمہوری نظام میں سیاسی نمائندگی عوام کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچانے،پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے اورحکومتی اداروں سے جواب طلب کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔لیکن نمائندگی کی حقیقی قدرصرف انتخابی کامیابی یا کسی عہدے کے حصول سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس کا معیار یہ ہے کہ نمائندہ اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کے لیے کس حد تک کام کرتا ہے۔
پوری دنیا میں نئی نسل بالخصوص جین زی ایک نئی کروٹ لے رہی ہے،سوچ ترجیحات اور ردعمل کے اعتبار سے یہ اپنے سے پہلی نسلوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے،ماضی میں نوجوان اپنی پسند و ناپسند کا بڑوں کےسامنے برملا اظہار کرنے سے گریز کرتے تھے اور کیریئر یا شریک حیات کے انتخاب جیسے اہم فیصلوں میں بھی ان کی رائے کومقدم رکھتے تھے مگر آج کے نوجوان اپنی زندگی پردوسروں کی مرضی مسلط کئے جانے کو آسانی سے قبول نہیں کرتے،وہ آزادانہ سوچ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کاحوصلہ بھی رکھتے ہیں،نظام حکمرانی کی خامیوں اور زیادتیوں کوخاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے سوال اٹھاتے ہیں،حکومتیں اگر ہٹ دھرمی اختیار کریں تو یہی نوجوان اپنی اجتماعی قوت کومنظم کرکے انہیں فیصلوں پرنظر ثانی کےلیے مجبور کرنے کی صلاحیت بھی دکھارہے ہیں،گزشتہ برسوں میں ہمارے ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں حکومت کی ناکامیوں پرسوال اٹھانے کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جانے لگا،بعض طبقات کے خلاف زیادتیوں کوقوم پرستی کا لبادہ پہنایا گیا اور اختلاف کرنے والوں کوعملا یہ پیغام دیا گیا کہ اقتدار کوچیلنج کرنے کی قیمت بھاری ہوسکتی ہے۔حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کی مذہبی آزادی پر قدگنوں کے باوجود مؤثر مزاحمت نہ ہونے سے حکمراں حلقوں میں یہ گمان پختہ ہو گیا کہ ناانصافیوں اور بدعنوانیوں کے باوجود ان کی گرفت کمزور نہیں ہوگی مگر جنترمنترسے شروع ہونے والے احتجاج نے کم از کم یہ بھرم ضرور توڑ دیا ہے کہ نوجوانوں کو ہمیشہ خوف اور خاموشی میں رکھا جاسکتا ہے۔ایسے میں مسلم نوجوان اورجین کی صورتحال ایک اہم سوال بن کرسامنے آتی ہے،مختلف طبقات کی نئی نسل میں سیاسی اورسماجی بیداری کے آثار نمایاں ہیں،مگرمسلم نوجوانوں کا ایک بڑا حلقہ اب بھی ملک و ملت کے اجتماعی مسائل سے نسبتا لاتعلق دکھائی دیتاہے،اس کی تمام ذمہ داری نوجوانوں پر ڈالنا بھی انصاف نہیں ہے،کیونکہ انہیں ایسا معاشرہ اور ایسی قیادت ورثے میں ملی،جس میں حقوق کی پامالی پرخاموشی،اجتماعی ذمہ داری سے گریز اورمصلحت کوحکمت کا نام دینے کا رجحان مدت سے رائج رہا ہے۔جب بڑوں نے سیاسی شعور،دستوری حقوق اور اجتماعی ذمہ داری کا عملی سبق منتقل ہی نہ کیا ہوتو نئی نسل سے اچانک غیرمعمولی بصیرت اور قیادت کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ہمارا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ نوجوانوں کو ملی فیصلوں میں شریک کرنے،سوال پوچھنے کی آزادی دینے اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی روایت مضبوط نہیں ہوسکی،نتیجتا نئی نسل اور روایتی قیادت کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا ہوا جومحض عمر کا نہیں بلکہ فکر اورترجیحات کا بھی ہے،پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ روزگار، کیریئر اورمستقبل خطرے میں نظر آئیں تو نوجوان سڑکوں پرنکل سکتے ہیں مگر جب کسی پوری برادری کے مساوی شہری مرتبے،دستوری حقوق،مذہبی آزادی اورعزت نفس کو زک پہنچ رہی ہوتو مسلم نوجوانوں میں اضطراب کیوں دکھائی نہیں دیتا؟ تعلیم، ملازمت،نمائندگی اورمساوی مواقع بھی تو انہی کے مستقبل سے وابستہ مسائل ہیں،اس لیے ملی مسائل کومحض بزرگوں یا مذہبی وسیاسی تنظیموں کا مسئلہ سمجھ کر ان سے لاتعلق رہنا بالآخرخود نوجوانوں کے مستقبل کومتاثر کرے گا۔اس خاموشی کا ایک سبب گزشتہ دو دہائیوں کا وہ تجربہ بھی ہے،جس میں ظلم و استبداد کےخلاف آواز اٹھانے والوں کو جیلوں اورمقدمات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہماری ملی و سیاسی قیادتیں اکثر ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہونے کے بجائے اقتدار کی خوشنودی اورمصلحت کی راہیں تلاش کرتی رہیں،اس طرزعمل نے نوجوانوں کو یہ سبق دیا کہ بولنے کی قیمت توہے مگرپشت پناہی کی کوئی ضمانت نہیں،قیادت جب خودخطرہ مول لینے سے گریز کرے تو نوجوانوں سے قربانی اور جرأت کا مطالبہ اپنی اخلاقی قوت کھودیتا ہے،اس کے باوجود تصویرمکمل طور پر مایوس کن نہیں ہے،ناانصافی،حق تلفی اور ملی مفادات پرشخصی مفادات کوترجیح دینے کے خلاف نئی نسل اب اپنے بڑوں کو ٹوکنے لگی ہے،غلطیوں اورخطاؤں کی نشاندہی کو بے ادبی نہیں سمجھتی اورسوال کرنے کو اپناحق تصور کرتی ہے،سوشل میڈیا اورمعلومات تک براہ راست رسائی نے اسے یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ روایتی قیادت کے بیانیے کوبلاچوں چراں قبول کرنے کے بجائے خود حالات کاجائزہ لے اور اپنے نتائج اخذ کرے،یہی وجہ ہے کہ ملی تنظیموں کی بےعملی،اکابرین کی جواب دہی سے اجتناب اور اکابرین کی مصلحت پسندی پر پہلےجیسی خاموشی باقی نہیں رہی بلکہ احتساب کا مطالبہ بتدریج قوت پکڑرہا ہے،اس ابھرتے ہوئےرجحان کودبانے یا اسے گستاخی سےتعبیر کرنے کے بجائے اس کی صحیح سمت میں رہنمائی ضروری ہے کیونکہ سوال کرنے والی نسل ہی زندہ معاشروں کوجمودسے نکالتی ہے،اگر ہمارے اکابرین اور ملی ادارے نوجوانوں کے اضطراب کوسمجھنے،ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور ان کے سوالات کا دیانت دارانہ جواب دینے میں ناکام رہےتوقیادت کا خلا زیادہ دیر باقی نہیں رہے گا،تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب قائم شدہ قیادتیں بدلتے ہوئے عہد کی آوازسننے سے انکار کرتی ہیں تو نئی قوتیں اپنی راہ خودبنا لیتی ہیں،مسلم جین زی بھی ہمیشہ خاموش رہنے والی نہیں یا تو موجودہ قیادت کو اپنا طرزفکر اورطریقہ کار بدلنے پرمجبور کرے گی یا ایسی نئی قیادت پیدا کرے گی جو اس کی امنگوں،مسائل اور زمانے کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہو۔
دہلی سمیت پورے ملک میں الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شامل نوجوانوں میں مسلم نوجوانوں اورطلبہ کی قابل لحاظ تعداد شامل ہے جو ملک اور دستور کی حفاظت کے لیے جدوجہد میں شامل ہے لیکن ملی،مذہبی اور نام نہاد مسلم سیاسی قیادت،مسلم نوجوانوں کے جذبات و احساسات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ان کی رہنمائی میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے،آر ایس ایس اور بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے مسلم نوجوانوں کو دور رہنے کا مشورہ دینے کے لیے اپنے ایجنٹوں کا نہ صرف استعمال کیا بلکہ نام نہاد ذمہ داران جومسلمانوں کے مسائل پربے لگام تبصرے کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے مسائل پیدا کرنے سے گریز نہیں کرتے،ان لوگوں کو خاموش کروانے میں بھی کامیابی حاصل کی،ملی،مذہبی و نام نہاد مسلم سیاسی قیادت کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج سے دوری بنائے رکھنے کے باوجودقابل لحاظ تعداد میں مسلم نوجوانوں کا دہلی میں جاری احتجاج میں شامل ہونا اور اس کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات سے دہلی پہنچنے سے قبل حراست میں لیاجانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب تعلیم یافتہ مسلم نوجوان اپنی نام نہاد قیادت کی رہنمائی کا منتظر نہیں رہا بلکہ وہ اپنے طور پرفیصلہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے مستقبل کے حق میں جوبہتر ہے وہ راستہ اختیار کرنے کے لیے آمادہ ہوچکا ہے،نوجوان نسل میں پیدا ہونے والی اس انقلابی تبدیلی کے بعد اگر اب بھی روایتی ملی،مذہبی اورسیاسی قیادت،انتہائی سنگین مسائل پرخاموشی اور نفرت پھیلانے والے معاملات میں صرف بیانات جاری کرتے ہوئے ذہنوں کوپراگندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ایسی صورت میں نوجوان نسل ادب و احترام کے دائرے کوبھی توڑنے لگ جائے گی،دہلی میں احتجاج سے ایک دن قبل ملک کی سرکردہ ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نام نہاد تنظیم ائمہ کے ذمہ دار کے بیان پرسوشل میڈیا پر جس انداز کے تبصرے مسلم نوجوان کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ مسلم مسائل پر بیانات جاری کرنے کے خود کو چمپین تصور کرنے والے قائدین کی تصاویر لگاتے ہوئے یہ استفسار کررہے ہیں کہ وہ آخر اب کہاں ہیں؟جبکہ امت کی رہبری اور رہنمائی درکار ہے،مسلم نوجوان ملی،مذہبی وسیاسی قیادت سے یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ ووٹرلسٹ سے 13 کروڑ ووٹ جوحذف کیے گئے ہیں کیاان میں مسلمانوں کے ووٹ شامل نہیں ہیں؟پھرکیوں اتنے حساس اور ایک سنگین مسئلے پرخاموشی اختیار کی گئی ہے؟ آخر اس خاموشی کاراز کیا ہے؟ اور اس پراسرار خاموشی کے وجوہات کیا ہیں؟
آج جبکہ ملک میں جمہوریت کو مذاق بنادیا گیاہے،اقلیتوں اور دلتوں پرحملوں اورمظالم کے واقعات میں 80 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوچکاہے،اسکے برعکس مقدمات میں بھی دلتوں اورمسلمانوں کو پھنسانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتاجارہاہے۔مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو یوٹیوب،فیس بک اور دیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر نشانہ بنایا جارہا ہے،دلتوں پر پانچ ہزارسالوں سے مظالم کی بات کہی جاتی ہے مگر اب مسلمان اور انکی مذہبی عبات گاہیں مسلسل نشانے پر ہیں،مسلمانوں پرظلم و زیادتیوں کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں،اس اضافے کی وجہ مسلم قیادت کا فقدان نہیں تو اور کیا ہے؟کسی نہ کسی کو تو آگے بڑھ کرقربانی دینی ہوگی اور قیادت کی ذمہ داری سنبھالنی ہوگی،اس وقت اپنے حقوق کے لیے مسلمانوں کوجدوجہد کرنے کی شدید ضرورت ہے،ہرمعاملے میں مسلمان دیر سے بیدار ہوتے ہیں،مسلمان اگر بدلتے حالات کا اندازہ قبل از وقت لگا لیتے تو جن صورتحال کا سامنا ملک میں مسلمان کر رہے ہیں،شاید وہ ایسے حالات کا سامنا نہیں کرتے۔یہ وقت مسلمانوں اورمسلم نوجوانوں سے تقاضہ کرتے ہیں کہ انھیں ذہنی طورپر ہرمحاذپر مقابلہ کرنے کےلئے ہمہ وقت تیاررہنے کی ضرورت ہے،جس قسم کا منفی پروپیگنڈا میڈیا اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف چلایا جارہا ہے اس کا جواب دینے کی قابلیت ہرمسلم نوجوان میں ہونی چاہیے۔کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔مسلمانوں میں بھی ایسے بے شمارنوجوان موجود ہیں جوتعلیم،صحافت،تحقیق،قانون،طب، کاروبار،ٹیکنالوجی اورسماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان صلاحیتوں کوپہچانا جائے،انہیں آگے بڑھنے کےمواقع فراہم کیے جائیں اورفیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی دی جائے۔قیادت کی تیاری محض تقریری مقابلوں یا سیاسی وابستگیوں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مطالعہ،تحقیق،اخلاقی تربیت،انتظامی تجربہ،عوامی خدمت اورمختلف طبقات کے ساتھ مکالمے کی صلاحیت درکارہوتی ہے۔نوجوانوں کو یہ سکھانا اور بتانا بھی ضروری ہے کہ اختلاف رائے کوکیسے برداشت کیا جائے؟معلومات کی تصدیق کیسے کی جائے؟قانونی اور آئینی اداروں سے کیسے رجوع کیا جائے اور کسی مسئلے کے حل کے لیے شواہد پرمبنی مؤثر مہم کیسے چلائی جائے؟ اسی طرح بزرگ قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کومحض کارکنوں کےطور پر استعمال کرنے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی،تنظیمی ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی قیادت کے مواقع فراہم کرے۔جوقیادت اپنے بعد آنے والوں کوتیار نہیں کرتی، وہ اپنے مستقبل کوغیر یقینی بنادیتی ہے۔
آج مسلمانوں کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جومحض جذباتی تقریروں سے آگے بڑھ کرعملی منصوبہ بندی کرے،مشکل حالات میں عوام کے ساتھ کھڑی ہو،جو قانونی،سیاسی،تعلیمی اورمعاشی میدانوں میں مسلسل جدوجہد کرے،جو اختلافات کے باوجودمشترکہ مسائل پرتعاون کا راستہ نکالے اور جو اپنے اختیارات و وسائل کے استعمال میں حد درجہ محتاط اور پوری طرح جواب دہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون نگار،معروف صحافی اورکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
