مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
نائب صدر، تنظیم أبناء ندوہ بہار

عروس البلاد ممبئی کے ایک مال میں بالآخر وہ کمرہ منہدم کردیا گیا جو نماز کے مخصوص کیا گیا تھا۔ کس نےایساکیا یہ واضح نہیں ہے اخبار میں چھپی خبر یہی ہے کہ” ممبئی کے علاقے ملاڈ میں واقع ان آر بٹ مال میں قائم مخصوص نماز کے کمرے کو ہندوتو تنظیموں کے احتجاج کے بعد منہدم کردیا گیا ” یہاں تو ایک کمرے کا مسئلہ ہےجبکہ روز مساجد کے بلڈوز کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس خبر پر خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اور انہدامی کاروائی کے بعد بھی ردعمل کی خبرکہیں سے نہیں ہے۔مقام حیرت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہمیں گوارا ہےجبکہ دوسری طرف معاملہ اس کےبرعکس ہےاورنماز کے لئے خاص کیا گیا ایک کمرہ بھی انہیں برداشت نہیں ہے۔آج مسجد اور نماز گاہیں خاص طور پر زد میں ہیں، کسی نہ کسی بہانے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے یہ بات واضح ہے کہ پریشانی کمرے اور مسجد سے نہیں ہے بلکہ نماز سے ہی ہے۔اب کھلے ہی میں نہیں بلکہ کسی مخصوص کمرے میں چھپ کربھی نماز پڑھنے سے دقت ہے۔ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے،یہاں ہرشہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔مسلمانوں کا آئینی حق ہے کہ وہ نماز پڑھے، ایک اللہ کی عبادت کرے ،اس کے لئے رکوع کرے اور ایک خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے۔ آرٹیکل ۲۵/کے تحت ہرکسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور مذہبی امور انجام دینے کی آزادی ہے،اس لئے کسی کو نماز سے اگر دقت ہے تو یہ صریح آئین ہند کی خلاف ورزی ہے،یہ ایک جمہوری ملک کےلئے نہایت تشویشناک وافسوسناک امر ہے۔ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ گویا ہم اسلام کے ابتدائی دور سے گزر رہے ہیں جسمیں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی میں سخت مخالفت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مشرکین مکہ صرف اسلام کے مخالف نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کی نماز سے بھی انہیں سخت عداوت تھی۔ مسجد حرام میں نماز ادا کرنا اس وقت سب سے سنگین جرم تصور کیا جاتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر حالت رکوع میں اونٹ کی اوجھڑی رکھی گئی، اس کا سرغنہ ابوجہل تھا، سورہ علق میں اس کا ذکر ہے:”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو ایک بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے”۔
مسجد حرام میں جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کہ کہیں کوئی مسلمان پہونچ کر نماز نہ پڑھ لے،قرآن نے اس عمل کو ظلم سے تعبیر کیا ہے اور ایسے لوگوں کو بڑا ظالم قرار دیا یے،چنانچہ ارشاد ربانی ہے:اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون یےجو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لئے جانے سے روکے اور اس کی ویرانی کی کوشش کرے (سورہ البقرہ ۱۱۴)
ایک سوال یہ ہے پیدا ہوتا ہے کہ آخر نماز سے انہیں دقت کیوں ہے؟
بھولے بھالے لوگوں کے پاس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے،بانٹو اور راج کرو کی پالیسی اور اقتدار کا حصول ہے۔اسی لئے نماز، مسجد، اذان، حجاب اور دیگر مذہبی امور کوآج کل موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ یہ آدھی ادھوری بات اور ناقص جواب ہے۔یہ معاملہ اتنا سطحی نہیں ہے جتنا ہم سمجھ رہے ہیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ اسلام کی دعوت کوروکنا اور مذہب اسلام کی تبلیغ میں ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔مشرکین مکہ کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں تھا باوجود اس کے انہوں نے نماز کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اس کی خاص وجہ بھی یہی ہے،اور آج اسی کی نقل اور پیروی میں یہ سب کچھ ہورہا ہے۔مخالفین نماز کی اہمیت ہی نہیں بلکہ اس کی حقیقت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ عبادت کس بات کی عملی شہادت ہے۔
نماز کلمہ توحید کی عملی دعوت ہے، یہ پانچ وقت کی نمازیں وقفے وقفے سے ایمان کی تجدید کرتی رہتی ہیں، مسجدیانمازگاہ میں ایک اللہ کا نعرہ لگایا جاتاہے اور اس کاترانہ گایا جاتاہے،دن رات ایک اللہ کی بات ہوتی ہے۔صبح کی ابتدا فجر کی نماز سے ہوتی ہے یہ نماز دن کا آغاز اللہ کے یاد سےکرنے کا سبق دیتی ہے، ظہر دنیاوی مصروفیات کے درمیان اللہ تعالی کی طرف رجوع سکھاتی ہے، عصر وقت کی قدر اوربندگی کا احساس پیدا کرتی ہے، مغرب دن کے اختتام پر شکر گزاری کا موقع دیتی ہے، عشاء رات کو اللہ تعالی کی یاد کے ساتھ مکمل کرنے کا ذریعہ ہے،گویا نماز انسان کے ایمان کی مسلسل تجدید کرتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے اور توحید کی شہادت کے بعد نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے (بخاری )ترمذی شریف کی ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:جس نے نماز چھوڑدی گویا اس نے کفر کیا۔مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہےکہ آدمی اور شرک وکفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز کا ترک کرنا ہے۔گویا نماز ہی ایک صاحب ایمان اور کلمہ گو ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔یہ مسلمانوں میں اتحاد و بھائی چارہ اور مساوات پیدا کرتی ہے،اسی لئے مشرکین مکہ کو نماز سے بڑی پریشانی تھی اور اس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے