طلبہ و طالبات کی تعلیمی و تربیتی صلاحیتوں کا حسین مظاہرہ
ابوالحسنات قاسمی
دارالثقافہ، اسونجی بازار
الحمد للّٰہ وحدہٗ، والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہٗ۔ اما بعد!
مکتب دینیات (کوئیں بازار، اسونجی بازار) کے زیرِ اہتمام، مولانا الحافظ محمد شاداب حلیمی صاحب کی زیرِ نگرانی، اسونجی بازار، کوئیں بازار اور موضع برنولی کے ان طلبہ و طالبات کا، جو اس مکتب کے تحت دینی تعلیم و تربیت سے وابستہ ہیں، ایک پُروقار انعامی پروگرام مورخہ 6 نومبر 2026ء، بروز جمعہ، بعد نمازِ مغرب منعقد ہوا۔ یہ تقریب محض تقسیمِ انعامات کی ایک رسمی مجلس نہ تھی، بلکہ ننھے منے نونہالانِ ملت کی تعلیمی استعداد، دینی ذوق، فکری بالیدگی اور تربیتی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک دل نشیں مظہر تھی۔
تقسیمِ انعامات سے قبل طلبہ و طالبات نے مختلف موضوعات پر اسلامیات و عقائد سے متعلق مختصر تقاریر اور مکالمے پیش کیے۔ اسلامی معلومات پر مشتمل سوال و جواب، نعتیہ کلام، نظمیں اور دینی ترانے سمیت متعدد دل چسپ اور سبق آموز مظاہرے پیش کیے گئے، جن سے حاضرینِ مجلس نہ صرف محظوظ ہوئے، بلکہ بچوں کی علمی و عملی استعداد کا بھی اندازہ ہوا۔ کم سن بچوں کی زبان سے دینی حقائق کی ترجمانی، اسلامی تعلیمات کی وضاحت اور عقائد و معمولات سے متعلق پُراعتماد اظہارِ خیال یقیناً قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا تھا۔
مجلس میں طلبہ و طالبات کے والدین، سرپرستوں اور ذمہ داران کے علاوہ علماءِ کرام اور علم دوست حضرات کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ حاضرین نے بچوں کے مختلف النوع پروگراموں کو نہایت انہماک اور دل چسپی سے دیکھا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
بچوں کی پیش کشوں اور ان کے اندازِ اظہار سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مولانا محمد شاداب حلیمی صاحب نے ان کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں قابلِ قدر محنت، مسلسل جدوجہد اور غیر معمولی دل چسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بلاشبہ بچوں کی زبان و بیان، خود اعتمادی اور دینی معلومات پر ان کی گرفت کسی بھی مربی کی محنت اور حسنِ تربیت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
اس بابرکت پروگرام کے روحِ رواں مولانا محمد شاداب حلیمی صاحب تھے، جب کہ مقامی سطح پر نگرانی و معاونت کی ذمہ داری جناب ڈاکٹر احمد ندیم صاحب اور مولانا جمیل الرحمٰن قاسمی صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی۔ ان حضرات کی مخلصانہ کاوشوں اور باہمی تعاون نے اس تقریب کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پروگرام کی نظامت کا فریضہ حضرت مولانا غفران احمد قاسمی صاحب، استاذ مدرسہ عربیہ انجمن اسلامیہ، قصبہ انول، نے انجام دیا۔ آپ کا اندازِ نظامت نہایت شستہ، برجستہ، دل نشیں اور نادر المثال تھا۔ موقع و محل کی مناسبت سے کلمات کی ادائیگی، جملوں کی موزونیت اور پروگرام کے مختلف مراحل کو مربوط رکھنے کی آپ کی صلاحیت نے مجلس میں ایک خاص لطف و کشش پیدا کردی۔ یہی وجہ تھی کہ سامعین آخر وقت تک پوری دل جمعی کے ساتھ پروگرام سے وابستہ رہے۔
اسی اثنا میں حضرت مولانا مفتی اظہر الدین حلیمی صاحب اور حافظ محمد اسلم صاحب اسونجوی نے اپنے اپنے منفرد اور دل آویز انداز میں مدحتِ خیر الانام ﷺ پیش کی۔ ان حضرات کے نعتیہ کلام نے مجلس کی فضا کو عقیدت و محبت کی خوشبو سے معطر کردیا اور سامعین کو ایک وجد آفریں کیفیت سے ہم کنار کیا۔ اس موقع پر حاضرین کی ہمہ تن گوشی اور جذبۂ عقیدت دیدنی تھا۔
بچوں کے تعلیمی و تربیتی مظاہروں کے بعد خطاب کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس موقع پر مکتب دینیات کے نگرانِ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی مطیع الرحمٰن صاحب قاسمی ندوی، قاضیِ شہر گورکھپور، نے تعلیم و تربیت، اسلام و عقائد سے آگاہی اور بچوں کی کردار سازی میں خواتین کے مؤثر کردار کے موضوع پر نہایت مفصل اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ آپ نے اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت، دینی شعور کی ضرورت اور مکتب دینیات کی افادیت پر بھی روشنی ڈالی اور اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ نئی نسل کی دینی و اخلاقی آبیاری کے لیے تعلیم و تربیت کا منظم اور مسلسل اہتمام ناگزیر ہے۔
حضرت مولانا کے فکر انگیز خطاب کے بعد تقسیمِ انعامات کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ مرحلہ بچوں کے لیے مسرت و شادمانی کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر مزید آگے بڑھنے اور دینی تعلیم کے حصول میں شوق و رغبت پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنا۔
الغرض! یہ تقریب اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک کامیاب، بامقصد اور یادگار تعلیمی و تربیتی اجتماع تھا، جس میں بچوں کی علمی صلاحیتوں کے اظہار، دینی معلومات کی ترویج، والدین و سرپرستوں کی شرکت، علماءِ کرام کی سرپرستی اور منتظمین کی مخلصانہ کاوشوں کا ایک حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔
شام چھ بجے شروع ہونے والا یہ پروگرام رات دس بجے تک، تقریباً چار گھنٹوں پر محیط رہا اور اس دوران اپنی تمام تر سرگرمیوں کے ساتھ نہایت تزک و احتشام سے جاری رہا۔ اس کی کامیاب تکمیل اس حقیقت کی غماز تھی کہ اگر اخلاص، حسنِ تدبیر اور جذبۂ خدمت کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے تو مختصر وسائل میں بھی نہایت مؤثر اور قابلِ قدر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس مکتب کے جملہ منتظمین، اساتذہ، معاونین اور سرپرستوں کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبول عطا فرمائے، اس ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی سے نوازے اور اس کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے نونہالانِ ملت کو علمِ نافع، عملِ صالح اور اخلاقِ حسنہ کا پیکر بنائے۔ آمین!
