سلسلۂ قادریہ چشتیہ کمالیہ کے ایک روزہ اصلاحی وتربیتی اجتماع سے علمائے کرام اور مشائخین عظام کے روحانی خطابات 
بیدر۔ 2؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): اپنے جسم پر محنت کرتے ہیں لیکن اپنے دِل کوسنوارنے کی فکر نہیں کرتے۔ دنیا کے جتنے قوانین اور دساتیر اور محکمے ہیں، ان سب کاپہلا عنوان ہے ’’لوگوں کافائدہ‘‘ لیکن دیکھاجارہاہے کہ چوطرف نقصان ہی نقصان ، بگاڑہی بگاڑ ، ہرقسم کاشر ہرجگہ عام ہے ۔ اس کاسبب ہے اللہ جل شانہ نے کامیابی جس چیز میں بتائی انسانوں کی توجہ اس سے ہٹ گئی ہے۔اسی لئے اصحاب قلوب نے اور اخلاق کے حاملین نے سب سے پہلے انسانی دِل کونشانہ بناکر کام کیا‘‘۔
یہ باتیں مفکر ملت ،اور امیرِ ملت ِ اسلامیہ حضرت شاہ جمال الرحمن دامت برکاتہم نے کہیں۔ وہ آج پیر کو جامع مسجد بیدرمیں منعقدہ سلسلہ ء قادریہ چشتیہ کمالیہ کے ایک روزہ اصلاحی وتربیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اللہ جل شانہ نے کامیابی کادارومدار نفس کے تزکیہ پررکھاہے۔ جس آدمی کا نفس پاک ہوا وہی شخص کامیاب ہوا۔ یہ فرمان ِ رب العالمین ہے۔ قیامت میں نہ مال کام آئے گا، نہ اولاد کام آئے گی ، اگر کوئی کام آئے گا وہ قلب سلیم کام آئے گااور بس ۔ اللہ کے ذکر میں روح کوسکون ملتاہے ، اس کی طرف سے عالم ِ انسانیت کاذہن پھرگیاہے،اب روح پر محنت کرنے کی ضرور ت ہے۔ کیوں کہ جنت ہر اس شخص کیلئے آراستہ کی گئی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو، اللہ کی مرضیات کی حفاظت کرنیو الا ہو۔ اللہ کوبغیر دیکھے ڈرنے والا ہو۔ اللہ کی طرف توجہ والا دِل لے کر دنیا سے جانے والا ہو‘‘۔
صبح کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہاکہ’’ عبد یعنی بندہ بننا آسان کام نہیں ہے۔ جو کوئی محمدﷺ کا طریقہ اختیا ر کرے گا وہی بندگی اور عبادت ہے۔حدیث ہے کہ تم نماز ایسی پڑھوتم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔ عبادت کے نام پر صرف نمازکے بارے میں سوچے ہیں۔ایسا نہیں ہے بلکہ نماز بھی ایک عبادت ہے۔ ہروہ طریقہ عبادت ہے ، ہروہ عمل عبادت ہے جو حضورﷺ کے طریقے کے مطابق ہو۔ نما ز، تسبیح ، ذکر وغیرہ عبادت کے چند مظہر ہیں۔ جب کہ نبی کریم  ﷺ کے طریقے کے مطابق سونا اور جاگنا بھی عبادت ہے۔ اس ایک روزہ اجتماع کے روح ِ رواں ،نوجوان لیکن معروف عالم دین مولانامفتی محمد ایوب سلیم حسامی صاحب نے اپنی مختلف ہدایات کے تحت اس ایک روزہ اجتماع کے بارے میں بتاتے شرکائے سے کہاکہ ’’بارش کی وجہ سے لگ رہاتھاکہ دیگر تنظیموں اور لوگوں نے اپنے پروگرام کینسل کئے ہیں توکیا ہم بھی پروگرام کینسل کریں ۔ بزرگوں سے مشورہ کیاگیاتو جواب ملا۔اللہ اپناکام کریں گے ہمیں اپنا کام کرنا ہوگایعنی تم اپنا کام کرتے رہو ۔الحمد للہ دس دن کی مسلسل محنت کے بعد آج ہمار ایہ ایک روزہ اجتماع منعقد ہوا۔لیکن افسوس کہ آج شہر بیدرکاحال یہ ہے کہ بارہ تیرہ سال کالڑکاسگریٹ پیتا ہے۔اس لئے (ان نوجوانوں کی )اصلاح کے لئے اللہ والوں سے، بزرگوں سے جڑنے کی ضرورت ہے۔ اگر بزرگوں سے نہیں جڑے توایسے ہی زندگیوں میں فساد برپاہوگا۔ موبائل اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ فتنے آرہے ہیں ، اس پر فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی مسلم نوجوان چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے  خودکشی کررہے ہیں۔ہوٹلوں کے اندر کمرے بنے ہیں جہاں پیسے لگاکرموبائل پر گیمس کھیلے جارہے ہیں۔ ان سب تباہی کے راستوں سے بچنے کے لئے ہم سب منظم ہوں ۔ بزرگوں کے سایہ میں چلے آئیں۔
شولاپور، گلبرگہ، رائچور، حیدرآباد سے کئی ایک علمائے کرام اور مشائخین عظام بطور ِمہمان اس تقریب میں شریک رہے۔ اوراپنے روح پروربیانات سے اہل ضلع بیدر کو مستفید فرمایا۔ مختلف نوجوانوں نے کئی ایک نعتیں پیش کیں ۔ اجتماع گاہ یعنی جامع مسجد کی پہلی منزل پر خواتین کے جمع ہونے کانظم کیاگیا تھا۔ اور اس مقام کی ایک خوبی یہ دیکھی گئی کہ پہلی منزل کے فرنٹ ویو کی جانب پوری طرح پردہ لگادیاگیاتھا۔ اور اوپر کی منزل میں بیانات ملاحظہ کرنے کے لئے ایل سی ڈی( بڑے پردے) کااہتما م تھاجس پر واعظین کے وعظ اور علمائے کرام و نعت خوانوں کی نعتیں خواتین اور ان کے ساتھ آئے بچے سن رہے تھے۔ اجتماع میں شریک افراد کے اسمائے گرامی رجسٹرڈ کرائے جانے کاانتظام تھا۔ اور  والنٹیرس کے گلے میں بیاچس کا اہتمام تھا۔ چھوٹے چھوٹے طلبہ چپل اور جوتوں کو خوبی سے جماکر رکھ رہے تھے۔ کھاناکھلانے کانظم نیچے زمین پرکیاگیاتھا، کم سے کم کرسیوں کااستعمال دیکھاگیا۔ پارکنگ بھی سلیقے سے کرنے کے لئے بیسیوں والنٹیر موجودتھے۔ کافی بڑی تعداد آج دن بھر کے اس خصوصی روحانی اجتماع میں شریک رہی۔ نوجوان کافی بڑی تعداد میں اجتماع کے انعقاد میں لگے ہوئے تھے۔مدرسہ کے طلبہ بھی صافہ باندھے بڑے خوبصورت لگ رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے