اعظم گڑھ/ پھول پور (پریاگ راج): حکومت کی طرف سے دیا گیا نعرہ اور سلوگن بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ اس وقت تک معنی خیز ثابت نہیں ہوتا جب بیٹیوں کو پیٹ میں ہی مار دیا جاتا ہے یا بیٹیوں کو جہیز کے بنا پر تمام طرح کی پریشانیوں میں مبتلا کر انہیں حیران اور پریشان اور ہر طرح سے ہراساں کیاجاتا ہے یا جب بیٹیوں کو درندے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ کُچھ اسی طرح کا واقعہ اعظم گڑھ میں پیش آیا ہے۔
فردوس قمر عرف اقصٰی بنت قمر حسین محلہ-باز بہادر، تھانہ کوتوالی، ضلع اعظم گڑھ کی شادی سال 2019 میں سید محمد حسین ولد درمحشر محلہ-مولانہ، تھانہ پھول پور، ضلع پریاگ سے ہوئی تھی۔ . دونوں کے نطفے سے یشرا نامی لڑکی پیدا ہوئی۔ وہ دونوں خوشی سے رہتے تھے لیکن اس کے سسرال والے جیسے سوتیلی ساس عرشیہ شفق، سوتیلی بہن علیشا پروین، نندوئی کمیل اور سسر درمہشر اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے فردوس قمر کو جہیز کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے اسے ہر روز مارنا شروع کر دیا اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس کے والدین سے 20,000 روپئے یا 50,000 روپئے مانگے۔ جب فردوس نے انہیں بتایا کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے بھائی کو برین ہیمبرج ہے۔ ایسے میں ہم پیسہ کہاں سے لائیں؟
اس دوران اس کے سسرال والے مشتعل ہو گئے اور 3 ستمبر 2024 کو رات 10 بجے کے قریب فردوس اور اس کی شیرخوار بیٹی کو لات گھونسے اور تھپڑ سے  بے دردی سے مار کر اُس کو بچی سمیت گھر سے نکال دیئے اور جان سے مارنے کے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تم اپنی بیٹی کو لیکر یہاں سے بھاگ جاؤ نہیں تو تم دونوں کو قتل کر دیں گے۔ ساتھ ہی اس کے سارے زیورات بھی چھین کر اپنے پاس رکھ لیے، جس کی اطلاع تحریری شکل میں مقامی تھانے میں دی گئی جس کے تحت لڑکی کے سسرال والوں کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے