وقف املاک میں تبدیلی مذہب کے قوانین میں مداخلت
سہارنپور( احمد رضا): وقف بورڈ امت مسلمہ کیلئے ایک عظیم سرمایہ ہے جو ہمیں اپنے آباؤ و اجداد سے وراثت میں ملی زمین اور دیگر وقف اللہ املاک کی تحفظ کیلئے قائم کیا گیا ادارہ ہے!
تحفظ املاک وقف وقت کی اہم ضرورت ہے حفاظت وقف املاک عین حفاظت شعائراسلام ہے کیونکہ اس وقف بورڈ سے کثیر تعداد میں مساجد و مدارس خانقاہیں و قبرستان مربوط ہے حکومت اپنی غلط پالیسیوں و غلیظ حرکتوں و ناپاک سازشوں سے مسلمانوں کو ان کی جائیداد سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ اور یہ سیاہ بل لا کر ملک میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ کل دیر دن رات انجمن حمایت اسلام کے زیر اہتمام ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی عمران مسعود ممبر پارلیمنٹ ضلع سہارنپور تشریف لائے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کے اندر ترمیمات سے مسلمانوں کو حراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے!
ہم اور ہمارے رفقاء اپنی پوری کوشش کے ساتھ اس بل کے خلاف کھڑے ہیں اور ہماری حتی الامکان کوشش رہے گی کہ بل کو بالکلیہ واپس لیا جائے۔ ہمارا ارادہ یہ بھی ہے کہ ہم چند اراکین پارلیمنٹ بہت جلد نتیش کمار اور نائیڈو صاحب سے ملاقات کریں گے۔ ان حضرات نے ایک کثیر تعداد میں اقلیتوں کا ووٹ لیا ہے اور سرکار میں شامل ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ یہ بل پارلیمنٹ کی طرح جے پی سی کمیٹی سے بھی ناقص و غیر نتیجہ خیز ہوگا-
مفتی عطا ءالرحمان جمیل قاسمی صدر انجمن حمایت اسلام نے سبھی مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کہ یہ سیاہ قانون ہماری عزت نفس اور تحفظ اوقاف کا مسئلہ ہے امت مسلمہ کو اس نازک گھڑی میں بڑی سنجیدگی سے اس سیاہ قانون کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔
ای میل مہم میں بہت سارے علماء نوجوان حصہ لے رہے ہیں، ان کو اپنے اس کام میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ اس بل کے ذریعے وقف جائیدادوں پر خونی تلوار لٹکانے جیسا ہے۔ ہم ایک ایک مسجد کے لیے سالہا سال عدالتوں میں لڑتے ہیں، ایک مسجد تو دور کی بات مسجد کا ایک کونہ کسی کو دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس وقت تمام خانقاہوں، مدرسوں، مسجدوں، قبرستانوں، درگاہوں کو خطرہ لاحق ہے۔ بل میں ترمیم کر کے کلکٹر کو حق دیا جا رہا ہے۔ واقف کے لیے نئی شق بڑھائی جا رہی ہے کہ اس کو گزشتہ پانچ سالوں میں اپنا مسلمان ہونا ثابت کرنا پڑے گا۔ اوقاف کا چھ مہینے کے اندر اندراج کرایا جائے۔ حالانکہ ایسی بھی چیزیں ہیں جو بہت زیادہ پرانی ہیں، ان کے مکمل کاغذات موجود نہیں اور وہ آج تک واقف کی مرضی کے مطابق استعمال کی جا رہی ہیں۔
مفتی صاحب نے سبھی حضرات سے اپیل کی کہ زیادہ سے زیادہ ای میل کے ذریعے اپنی رائے بھیجیں اور J.P.C کو اپنی طاقت اور وجود کا مظاہرہ کرائیں اور اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یقینا یہ ہم سب کی اہم ذمہ داری ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جمعیت علمائے ہند اس میں کام کر رہی ہے، ای میل کے علاوہ جو ہوسکتا ہے، کر رہے ہیں، اپوزیشن کے لیڈران سے ملاقات کی جا رہی ہے جس کے فی الوقت تک مثبت نتائج آرہے ہیں۔ اور اگر اس سب سے بھی کام نہ چلا تو بزرگوں کے باہمی مشورے سے آئین کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے ملک گیر تحریک چلائیں گے جو ہمارا آئینی حق ہے۔
اخیر میں صدر مجلس الحاج فضل الرحمان نانکوی کی دعاؤں پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ مجلس میں ارشد انصاری اکرم انصاری قاری زبیر عالم حاجی گل رحمان حاجی احسان عمران قریشی پردھان سلیم عمران پدھان ذولفان پردھان مستقیم انگریز مولانا نوید مظاہری قاسم انصاری پردھان فیضان انصاری غیور قاری مطیع الرحمان قاسمی قاری عبدالماجد مفتی عثمان قاسمی قاری برہان قاری دانش قاری چاند مدثر وکیل محمد مستقیم وغیرہ شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے