پکارتے ہوئے سب آب آب مرنے لگے، ہمارے شہر کے سارے گلاب مرنے لگے
- دنیا میں دو لوگوں کا مزاج کبھی ایک جیسا نہیں ہوتا، دونوں کی سوچ اور عادت میں فرق رہتا ہے! علیم کوثر
سہارن پور( احمد رضا): گزشتہ شب شہر کے معروف علاقہ آنند نگر کے حمید ہاؤس میں فخرسہارنپور قابل احترام اورلائق تحسین ادبی شخصیت کے مالک حمید قریشیؒ کی یاد میں تشکیل شدہ ادبی تنظیم انجمن عروجِ ادب سہارنپور کے زیر اہتمام دل تاج محلی کے اعزاز و اکرام میں اور طلعت سروہہ کی خوبصورت نظامت میں ایک شاندارادبی تقریب اور محفلِ مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ پروقار انداز میں منقد ہوئے اس پر رونق محفل مشاعرہ کی صدارت عالمی سطح کے شہرت یافتہ ادیب دانشور اور شاعر 11 کتابوں کے مصنف آگرہ کی سرزمین سے تشریف لائے دل تاج محلی ادبی، تقریب میں مہمان خصوصی کے فرائض اسسٹنٹ کمشنر جی ایس ٹی آگرہ جناب علیم کوثرنے نبھائے۔
اس موقع پراعزازی مہمان پروفیسر تنویر چشتی موجود رہے پروگرام کی نظامت مشہور ناظم خرّم سلطان نے انجام کی اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جی ایس ٹی اور پروگرام کے مہمان خصوصی علیم کوثر نے کہا کہ شاعری کبھی چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی، شاعری صرف شاعری ہوتی ہے۔ دنیا میں دو لوگوں کا مزاج کبھی بھی ایک جیسا نہیں ہوتا، کہیں نہ کہیں فرق ضرور ہوتا ہے اس لیے ضروری نہیں جو شعر یا غزل یا کلام شاعر نے کہا ہو وہ سب کو پسند ضرور آ ئے کسی کے لیے کوئی شعر بہت بڑا ہوتا ہے اور کسی کے لیے وہی مضمون ناقص اور بیکار ہوتا ہے اس لیے کبھی بھی داد وصول کرنے کے لیے شاعری نہیں کی جاتی شاعری ایک عبادت ہے اور عبادت میں بدلے کا کوئی تصور نہیں ہے اس موقع پر اعزازی مہمان پروفیسر تنویر چشتی نے کہا اولیاء، علماء اوراُردو ادب کے اساتذہ کی سرزمین کا نام سہارنپور ہے اس سر زمین نے ہمیشہ گوہرِ نایاب پیدا کئے ہیں اور ان سے ہمشہ لوگوں نے فیض اٹھایا ہے یہ دنیا موبائل اور انٹرنیٹ کی وجہ سے بہت مختصر ہو گئی ہے آپ موبائل یا کمپیوٹر پر جب سہارنپور سرچ کریں گے آپ کو معلوم ہوگا کہ سہارنپور میں کتنے بزرگ،علماء اور ادباء نیز مجاہدِ آزادی گزرے ہیں جن کا کردار اور کارہائے نمایاں کسی طور بھلایا نہیں جا سکتا۔

اس موقع پر صدارت کرتے ہوئے مصنف و مفکر و صاحبِ کلیات شاعر دل تاج محلی نے کہا مجھے سہارنپور آنے کا اور سہارنپور کے شعراء و ادباء سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا میری خوش نصیبی کہ دانش کمال اور طلعت سروہہ کی معرفت اور انجمن عروجِ ادب کی دعوت پر یہاں آنے کا موقع ملا اور مجھے پروگرام کی صدارت کی بھی سعادت میسر آئی اس محبت اور عقیدت کے لئے میں تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں اور آپ سب کے لئے نیک خواہشات بھی رکھتا ہوں!
اس موقع پر تمام مہمانانِ کرام کا ڈاکٹر خالد بلال اور شعور خالد نے گل پوشی کے ساتھ استقبال کیا تنظیم کی صدر ڈاکٹر صدر قدسیہ انجم نے پرگرام کی شمع روشن کی اس موقع پر انجمن عروجِ ادب کی جانب سے دل تاج محلی،علیم کوثر اور پروفیسر تنویر چشتی کا بر وقار انداز میں استقبال کیا گیا ساتھ ہی شعرائے سہارنپور کی جانب سے طلعت سروہا اور ڈاکٹر قدسیہ انجم کے دست مبارک سے دانش کمال کو بھی اعزاز و اکرام سے نوازا گیا صدرِ مشاعرہ دل تاج محلی کی حمد سے پروگرام کا آغاز ہوا جن شعراء کو زیادہ پسند کیا گیا انکا ایک ایک شعر حاضرِ خدمت ہے۔۔۔۔۔۔
اور چھیڑو گے اگر تم تو ابھی رو دیں گے
ضبط کی حد پہ ہیں اس وقت ہمارے آنسو
دل تاج محلی
کاش یہ مقدور بھی ہوتا تجربے کے واسطے
میں تری زلفیں تو کیا خوشبو کو چھو کر دیکھتا
پروفیسر عنوان چشتی
مانگی جو اس نے بھیک تو روٹی نہ مل سکی
پردہ ہٹا تو جیب سے سکے نکل گئے
ہارون صابر فریدی
کوئی ممنون نہیں ہے کوئی مشکور نہیں
گھر کا بیٹا ہوں بڑا میں کوئی مزدور نہیں
خرم سلطان
غصہ سے نگاہ اور شرم سے رخ انگار ہوئی انگار ہوا
وہ مجھ سے خفا میں اس پہ فدا ہر بار ہوئی ہر بار ہوا
عاصم پیرزاد ہ
کاش یہ مقدور بھی ہوتا تجر بے کے واسطے
میں تری زلفوں تو کیا خوشبو کو چھو کر دیکھتا
پروفیسر تنویر چشتی
تم کو دکھائی دیتے ہیں اس تن کے پیچ وخم
آتی نہیں کسی کو نظر میری چشمِ نم
ڈاکٹر قدسیہ انجم
خلوص نام کی اک چیز تھی کبھی پہلے
میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈتا زمانے میں
دانش کمال
پکارتے ہوئے سب آب آب مرنے لگے
ہمارے شہر کے سارے گلاب مرنے لگے
سکندر حیات کیلاش پوری
بحال رکھی ہے دیرینہ دوستی ہم نے
کسی کے طنز کو پھر ہنس کے ٹال آئے ہیں
فیّاض ندیم
مجھے جو علم کی دولت ملی ہے بانٹتی ہوں میں
نہیں سوچا کبھی کہ میرا انعام کیا ہوگا
طلعت سروہا
آگیا خواب بھی آنکھوں سے اتر کر مجھ میں
چیخ گزری ہے کوئی رات ٹھہر کر مجھ میں
عدیل تابش کرتپوری
غربت کی ہے نشانی یہ تہذیب کی نہیں
پردے پڑے ہوئے ہیں گھروں میں جو ٹاٹ کے
ارشد قریشی
کسی کو فخر ہوتا ہے کوئی محروم جاتا ہے
میں سب کو مطمئن کیسے کروں بازار جو ٹھہرا
فراز احمد فراز
نہ ہوگا حوصلہ کم کر لے تو کچھ بھی ستم ظالم
دیوانہ پن دیوانوں کا کہ تم کیسے مٹاؤ گے
نصرت انصاری
شرکاء میں ڈاکٹرخالد بلال صاحب، ڈاکٹرشعورخالد صاحب، طارق جمال صاحب، محمد روش کمال صاحب، محمد آرائش صاحب، محمد عظیم صاحب، محمد شعیب صاحب، اخلاق احمد صاحب، الحمد صاحب، عبدآلہادی صاحب کے علاوہ دیگر معزز حضرات موجود تھے۔
