• جملہ 12,692 کروڑ روپیوں کے منصوبوں کو منظوری
  • کلیان کرناٹک کے منظورہ امور کے لئے کُل 11،770 کروڑ روپئے منظور
  • وزیرِ اعلیٰ سدارامیا کابینی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس 
کلبرگی 18/(ڈاكٹر ماجد داغی): گلبرگہ میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں علاقہ کلیان کرناٹک کے 46 امور کے لئے کُل 11،770 کروڑ روپے کی منظوری، بیدر اور رائچور کے قصبوں کو میونسپل کا درجہ دینے اور ان اضلاع کے گاؤوں کے لئے پینے کے پانی کے منصوبوں کو 7200 کروڑ روپیوں کے پروجیکٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کا اعلان وزیراعلیٰ ریاست کرناٹک مسٹر سدرامیا نے کلبرگی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پیش کئے گئے 56 امور پر 12,692 کروڑ روپیوں کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، نارائن پور ڈیم سے پانی لانے کا منصوبہ مرکزی حکومت کی شراکت داری کا منصوبہ ہے جس کے لئے ریاست آدھا خرچ 7200 کروڑ روپے منظور کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے گرانٹ کا ایک روپیہ بھی ہَنُوز ادا نہیں کیا۔
           وزیر اعلیٰ ریاست کرناٹک مسٹر سدرامیا کی زیرِ صدارت 17/ستمبر کی سہ پہر منی ودھان سودھا گلبرگہ میں کرناٹک کابینہ کے منعقدہ اجلاس میں اس علاقہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے، لیے گئے فیصلوں میں  * کلیان کرناٹک کے لئے علیحدہ وزارت قائم کرنے کی قرارداد * بیدر اور رائچور کے قصبوں کو میونسپلٹییوں میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں ترقی دی جائے. * بیدر اور کلبرگی کے گاؤوں کےلئے پینے کے پانی کی اسکیم. * علاقہ میں 45 پرائمری ہیلتھ سینٹرز کی تعمیر. * پسماندہ تعلقوں کی صورتحالِ کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی تشکیل. * مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے کے لئے اقدامات قابلِ ذکر ہیں. ان فیصلوں کا بنیادی مقصد ریاست کے پسماندہ ترین علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی بر وقت اور موثر عمل آوری کو یقینی بنانا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی راست نگرانی میں عمل آوری کے ذریعے ہر منصوبہ کو معینہ مدت میں تکمیل کرنا ہے. وزیر اعلیٰ نے مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کے کے آرڈی بی کو جہاں حکومت کرناٹک کی جانب سے سالانہ 5 ہزار کروڑ روپیوں کی امداد دی جا رہی ہے، وہیں پر 371 کے نفاذ کے بعد مرکزی حکومت سے بھی علاقہ کلیان کرناٹک کی ترقی کیلئے کے کے آرڈی بی کو سالانہ 5 ہزار کروڑ روپے امداد کی درخواست کا بھی کابینہ میں  فیصلہ لیا گیا ہے . مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ علاقہ کلیان کرناٹک میں 17439 سرکاری جائیدادیں مخلوعہ ہیں، کابینہ میں ان جائیدادوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے.
 2013 سے 2018 تک ہماری حکومت کی مُدتِ کار کے دوران 2014 میں کلبرگی میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اور آج علاقہ کلیان کرناٹک کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل فراہم کرنے کے لئےکلبرگی میں کابینہ کا اجلاس منعقد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2012 میں جب منموہن سنگھ وزیراعظم تھے تو آئین میں ترمیم کی گئی تھی۔ 2002 میں ننجنڈپا کی رپورٹ کے مطابق علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے. ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ فی الحال ڈاکٹر گووندا راؤ کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو علاقے میں تعلقوں کی صورتِ حال کا جائزہ لے گی اور کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد پسماندہ تعلقوں کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کلیان کرناٹک ریجن میں 45 پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور 31 کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز کی اپ گریڈیشن، 9 تعلقہ اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور 2 تعلقہ اسپتالوں کو ضلع اسپتالوں میں اپ گریڈ کرنے کی کابینہ نے منظوری دی ہے.
اس پر 890 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔
پریس کانفرنس میں نائب وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار، وزراء پریانک کھرگے ضلع انچارج وزیر کلبرگی،ایچ کے پاٹل، ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا،  ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل، ایشور کھنڈرے، رحیم خان، کے کے شیوکمار اور دیگر موجود تھے۔ کے کے آر ڈی بی کے صدر ڈاکٹر اجے سنگھ، محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام صدرنشین کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ ،مسٹر الم پربھو پاٹل رکن اسمبلی ، تپنپا کمکنور اور جگدیو گتہ دار موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے