کلبرگی 18/ ستمبر. (محمدیوسف رحیم بیدری): کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی نے منگل کے روز کلبرگی شہر میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کابینہ سے اظہارِ تشکر کیا ہے. اور فیصلوں کے مقررہ وقت میں عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے اور ان فیصلوں کو نافذ کرنے کے لئے فنڈز کی تقسیم کے ذرائع کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی ہے۔
بدھ کے روز کلبرگی شہر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سمیتی کے اعزازی صدر جناب بسوراج دیش مکھ، جو شرن بسویشور ودیا وردک سنگھ کے سکریٹری اور سمیتی کے صدر ڈاکٹر لکشمن دستی نے کہا کہ آرٹیکل 371 (جے) کے نفاذ کے لئے ایک علیحدہ سکریٹریٹ کی تشکیل کے لئے علاقے کے لوگوں کے دیرینہ مطالبہ کو ریاستی کابینہ کے اجلاس میں قبول کرلیا گیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے اجلاس میں آرٹیکل 371 (جے) کے لئے علیحدہ وزارت کی منظوری دی ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی تاخیر بغیر اندرون ہفتہ علیحدہ سکریٹریٹ تشکیل دی جائے گی تاہم کسی بھی ناکامی کی صورت میں سمیتی ایک ہفتہ بعد مستقل جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوگی ۔
مسٹر دستی نے کہا کہ اگرچہ کئی کروڑ روپیوں کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن سے علاقہ کے مسائل میں کمی ہوگی، لیکن ان فیصلوں کو نافذ کرنے کے لئے فنڈز مختص کرنے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے اور کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی جاننا چاہتی ہے کہ آیا ان منصوبوں کے لئے باقاعدہ فنڈز بھی منظور کی ہے یا ان منصوبوں کے لئے فنڈز کو کلیان کرناٹک ریجن ڈیولپمنٹ بورڈ (کے کے آر ڈی بی) کے مختص فنڈز سے حاصل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان پروجیکٹوں کے لئے فنڈز باقاعدہ فنڈز سے دیئے جائیں اور کے کے آر ڈی بی کے لئے مختص فنڈز کو ریاستی کابینہ میں منظور شدہ نئے پروجیکٹوں کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ مسٹر دستی نے کہا کہ کے کے آر ڈی بی فنڈز کو علاقہ کی پسماندگی کو ختم کرنے کے خصوصی مقصد کے لئے منظور کیا گیا ہے اور اسے صرف اسی مقصد کے لئے ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔
مسٹر لکشمن دستی نے گلبرگہ یونیورسٹی اور کوپل ضلع کے تالکل میں واقع یونیورسٹیوں کے ملٹی اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز کے قیام کے لئے کے کے آر ڈی بی فنڈز کا استعمال کرنے پر بھی اعتراض کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معزز گورنر جن کے پاس 350 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اختیار ہے انہیں لازمی طور پر ان فنڈز کا استعمال صرف کلیان کرناٹک علاقہ میں اپنی پسند کے ترقیاتی پروجیکٹوں کے لئے کرنا چاہئے. مگر چیف منسٹر کے کسی بھی پروجیکٹ کے لئے ہرگز فنڈز منظور نہیں کرنا چاہئے۔ مسٹر لکشمن دستی نے کہا کہ سمیتی اس کے لئے پورے علاقے میں مرحلہ وار احتجاج شروع کرے گی۔ اگر کسی قسم کی غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے تو تمام فیصلوں پر بروقت عمل درآمد ریاستی حکومت کی طرف سے کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ سمیتی نے ایک ماہ کے اندر رائچور ضلع سے دفعہ 371 (جے) اور پسماندگی سے متعلق بیداری پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور بعد میں اسے گاؤوں تک وسیع کیا جائے گا تاکہ عوامی حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کی جاسکے۔
سمیتی کے عہدیداران پروفیسر آر کے ہوڈگی، ڈاکٹر ماجد داغی صحافی و سکریٹری انجمن ترقی اردو ہند کلبرگی، پروفیسر بسوراج گلشیٹی اور شرن بسوا یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر انل کمار بڈوے بھی اس موقع پر موجود تھے۔

