آئندہ کئی ایک پروگرام طلبہ وطالبات ہی نہیں اردو ادب کے لئے بھی منعقد کئے جائیں گے: ڈاکٹر ماجد میاں 
چٹگوپہ۔ یکم اکتوبر (محمد عبدالقدیر لشکری): آج یکم اکتوبر بروزمنگل سرکاری اردوہائیرپرائمری اسکول بگدل میں ادارہء ادبِ اسلامی ہند بگدل کی جانب سے پہلی تقریب کاانعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ایس ڈی ایم سی چیرمین محترم لیاقت علی صاحب نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے محمدیوسف رحیم بیدری ، نائب صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک شریک رہے۔ دیگر مہمانوں میں فضل الرحمن معلم ہمدرد پرائمری اسکول بگدل ، جناب پنڈت اور پرنسپل محمد مزمل مولانا آزاد ماڈل ہائی اسکول بگدل شامل تھے۔
جناب محمدیوسف رحیم بیدری نائب صدرادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے اپنے خصوصی خطاب میں طلبہ سے مختلف سوالات کئے اور دریافت کیاکہ کون کون کیاکچھ بننا چاہتاہے۔ طلبہ وطالبات نے دولت مند بننے،IPSافسر، پولیس، ٹیچر، ڈاکٹر، بینک مینجر، اور سائنس دان بننے کاعندیہ ظاہرکیا۔ طلبہ وطالبات میں بیشتر طلبہ خصوصاً طالبات نے دولت مند بننے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے طلبہ سے کہاکہ افسوس کی بات ہے کہ طالبات دولت مند بننا چاہتی ہیں جبکہ ان پر دولت کمانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہیں ڈالی۔ نان و نفقہ یعنی دولت کے حصول کے لئے گھر سے نکلنا مرد کی عین ذمہ داری اورنکاح کی شرط ہے۔ ان سوالات میں آخری سوال یہ تھاکہ کون رائٹر (مصنف ) بننا چاہتاہے؟ کسی ایک طالب علم ؍طالبہ نے بھی اپناہاتھ نہیں اٹھایا۔ تب جناب یوسف رحیم بیدری نے رائٹر کی ضرورت اور اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ رائٹر کسی بھی طبقہ کادماغ اور چہراہوتاہے ۔ اگر کسی بھی زبان میں رائٹر پید انہ ہوں تو وہ زبان بانجھ ہوکر رہ جائے گی۔ لہٰذا طلبہ وطالبات رائٹر بننے پرتوجہ دیں ۔ طلبہ کے والدین سے بھی یہی گذارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو رائٹر بننے کی ترغیب دیں۔ ادارۂ ادبِ اسلامی ہند رائٹر بننے کی تربیت دینے والا ادارہ ہے۔ ڈاکٹر ماجد میاں سکریڑی ادارہء ادبِ اسلامی ہند بگدل نے اپنے خطاب میں طلبہ وطالبات سے کہاکہ دوسال کے درمیان یہ ہمارا پہلا پروگرام ہے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم آئندہ سے طلبہ وطالبات کے لئے، لکھنے اور شعر کہنے والوں کے لئے کئی ایک دلچسپ پروگرام پیش کرتے رہیں گے۔
فضل الرحمن معلم ہمدرد پرائمری اسکول بگدل نے اپنے خطاب میں اخلاق پر زور دیااور کہاکہ دنیا پردین مقدم ہے۔ ہمیں اپنی چند سالہ زندگی میں اپنے اخلاق اور اخروی زندگی پر توجہ دینا چاہیے۔ پروگرام کاآغازسرکاری اردو ہائیرپرائمری اسکول کی طالبہ چاہت بیگم (چہارم ) ،اور مولانا آزاد کے طالب علم فیضان دانش کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ زینت بانو (مولانا آزاد) ، فاطمہ فردوس، چاہت بیگم، ثانیہ بیگم، عارضہ بیگم،شمیم بیگم ، نے نعت شریف کانذرانہ پیش کیا۔ مولانا آزاد کے محمد عفان ، بسم اللہ بی ،امت النور حسنہ اور صفیہ محوش نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر تقاریر کیں۔ نیہا فیض نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر تقریر کی ۔ افشاں انجم نے انگریزی میں تقریر کی۔آج کی تقریب میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو ایک کاپی اور ایک پن کاتحفہ دیاگیا۔ اس کے علاوہ جناب محمدیوسف رحیم بیدری کے افسانچوں کی کتاب ’’چیں‘‘ بھی طلبہ اور اساتذہ میں تحفتاً پیش کی گئی۔
پروگرام کی نظامت معلمہ محترمہ روبینہ نے بخوبی انجام دی۔ محترمہ نوشا دبیگم صاحبہ انچارج صدر معلمہ اردو سرکاری ہائیر پرائمری اسکول بگدل نے اظہار تشکر کیا۔ شہ نشین پر چیرمین ایس ڈی ایم سی  محترم لیاقت علی صاحب، نائب چیرپرسن محترمہ فرحانہ بیگم ، عبدالقدیر لشکری خازن ادارۂ ادبِ اسلامی ہند بگدل، معلم پنڈت صاحب، معلم محمد صابر وغیرہ موجودتھے۔ جبکہ معلمات میں فاطمہ بیگم، مسکان بیگم، شاہانہ بیگم، معلمہ کاویری صاحبہ کے علاوہ محمد فہیم الدین، دلشاد مہک حناء اور دیگر شریک رہے۔ جملہ 150سے زائد طلبہ وطالبات پروگرام میںحاضر تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے