محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ گٹھلی
خوشبودار اور خوش ذائقہ آم سے گٹھلی رہ جانے تک کے سفرکو زندگی کہتے ہیں۔ اصل آم نہیں اس کے اندر کی گٹھلی ہوتی ہے۔ ایک عمر گزارنے کے بعد جو گٹھلی ملی ہے ، وہی انعام ہے۔ اس انعام کی حفاظت فرمائیے گا
۲۔ انسانی مزاج کی ہار
سفرسے ڈرتاکوئی نہیں تھا۔ تیزرفتارگاڑیاں اڑی چلی جارہی تھی ۔ اورکہیں نہ کہیں بے احتیاطی کے نتیجہ میں حادثات ہورہے تھے۔ لوگ مررہے تھے بلکہ ایک ایک گھر کے 7-8افراد بیک وقت دنیا سے جارہے تھے مگرتیزرفتار سفر کاجنون کم نہیں ہورہاتھا۔
تیزرفتاری پر قابوپانے میں محکمہ پولیس لگاہواتھا۔ دوسری طرف ایک دوسرے پر جان لیوا حملوں کے نتیجہ میں جانے والی جانوں کودیکھتے ہوئے پوری طاقت شوٹرس کی گرفتاری پر لگانی پڑرہی تھی۔اسلئے تیزرفتاری پر قابوپانے کا خیال صرف خواب بن کررہ جاتا۔ گزشتہ پانچ سات سال سے یہی کچھ ہورہاتھا۔
اس کے علاوہ کوئی صورت نظر نہیںآتی ہے۔ نکال سکیں تو لوگ ہی کوئی صورت نکالیں تاکہ اپنوں کی صورت کو تادیر دیکھ سکیں۔محکمہ بھلے ہارنہ ماناہو، مگر جانوں کاجانا صاف طورپر انسانی مزاج کے ہارکو تسلیم کرناہے۔
۳۔ ضائع ہوتا اثاثہ
گیارہ بجے کاپروگرام 11:45کو شروع ہواتھا، صرف 45منٹ کی تاخیر ہوئی تھی۔تین دن بعد غیرمسلم بھائیوں کاایک عظیم الشان جلوس تھا، اس کے لئے 12؍بجے دن کاوقت دیاگیاتھامگر وہ 5؍بجے شام کوشروع ہواتھا۔ اس طرح کوئی 45منٹ لیٹ تھااور کوئی پورے 5؍گھنٹوں کی تاخیر کے ساتھ میدان میںسرگرم ِ عمل تھا۔وقت دور کھڑا آنسوبہارہاتھاکیوں کہ کوئی اس کی اہمیت سے واقف نہیں تھا۔ اوروہ بیچارا ضائع ہوتاچلاجارہاتھا۔
۴۔ اپنے حق میں
ہرکوئی ایک دوسرے کے لئے فرعون یاپھر موسیٰ نما ہے۔ زندگی کی بے حساب مشغولیت میں آدمی یہ بات بھول جاتاہے۔ سوچاکہ یاد دِلاتاچلوں ۔ویسے آپ اپنے حق میں کیاہیں ؟وہ بھی بتادیں
۵۔ ایوارڈ کے بغیر
کوئی کہہ رہاتھا’’سیاست دان کے بازوکھڑے ہونے سے قد اونچا نہیں ہوجاتا‘‘مولوی فصیح الدین لاری نے کہا ’’ ایوارڈ حاصل ہوجانے سے قابلیت اور کردار میں اضافہ ممکن نہیں‘‘ سینئر صحافی لالہ بلوچ نے کہا’’عین ممکن ہے کہ قابلیت ظاہر ہوجائے مگر کردار کی ہر روز حفاظت کرنی پڑتی ہے‘‘
وہ لوگوں کی باتیں سن سن کرتنگ آچکاتھا۔ پھر اس نے سبھی کاجائزہ لیاتو معلوم ہواکہ نصیحت کرنے والوں کے پاس کوئی ایوارڈ نہیں تھااور نہ ہی وہ مختلف سیاست دانوں سے رابطے میں تھے۔
