عبدالرحمن عمری

مقیم حال – ریاض

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وسيد المرسلين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين أما بعد !

فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔

يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات (المجادلة – 11)

پگھلنا علم كی خاطر مثال شمع زيبا ہے

بغير اس کے نہیں پہچان سكتے ہم خدا كيا ہے

علم انسانی زندگی كا وه عظيم جوہر ہے جس کے بغير نہ فرد كا كردار بن سكتا ہے اور نہ صحت مند سماج كی تعمير ممكن ہے- علم دلوں كی زندگى ، آنكھوں كا نور اور جسموں كی طاقت ہے اسی علم كی بدولت دنيا اور آخرت كے بلند وبالا درجات تک رسائی ممكن ہے- علم ظلمت كی گھٹاؤں ميں روشنى كا مينار ہے نيز معرفت الهی كا ذريعہ بھی ہے-

معلم انسانيت صلى الله عليه وسلم نے تعليم كا مقدس سلسلہ سرزمين مكہ ہی سے شروع فرما ديا تھا اور دار ارقم پہلى درس گاہ قرار پائی جہاں نہ صرف اخلاقی ومذہبی تعليم دی جاتی تھی بل كہ عملی تربيت پر اچھا خاصہ زور تھا نيز آپ صلى الله عليه وسلم كے مدينہ تشريف آوری سے پہلے تين درس گاہیں (مسجد بنی زريق ، مسجد قبا والی جگہ اور نقيع الخصمات نامی علاقہ ميں) قائم ہو چکی تھيں جن ميں مختلف صحابہ كرام دینی تعليم پر مامور تھے-

معلم اعظم صلى الله عليه وسلم نے ديگر شعبوں كی طرح حصول علم كے معاملے ميں مرد اور عورت كے درميان كوئی تفريق نہيں كی ہے ارشاد مصطفى صلى الله عليه وسلم ہے "طلب العلم فريضة على كل مسلم” يعنى حصول علم ہر مسلمان مرد وعورت پرفرض ہے-

یہی وجہ ہے كہ عہد نبوی ميں بھی تعليم يافتہ خواتين كا ذكر ملتا ہے- ام المومنين عائشة صديقة اور سيده ام سلمه رضى الله عنهما علم حديث کے اسرار و رموز ميں اس قدر مہارت ركھتى تھیں كہ ان كا كوئی مد مقابل نہ تھا بہت سے تابعين نے ان سے اكتساب علم كيا- سيده ام الدرداء رضى الله عنها كا علوم ومعارف میں بہت بلند مقام تھا ان سے بھی ايک كثير تعداد فيض ياب ہوئی نيز شفا بنت عبدالله عدويہ ، حفصہ بنت عمر ، ام كلثوم بنت عقبہ ، عائشہ بنت سعد اور كريمہ بنت مقداد رضى الله تعالى عنهن زيور علم سے آراستہ و پيراستہ تھيں-

اسلام تعليم نسواں كی نہ صرف اجازت ديتا ہے بل کہ اسے ضروری بھی سمجھتا ہے ليكن وه تعليم اور اس كی غايت كيا ہونی چاہیے اس كا فيصلہ ضروری ہے- خواتين كو دين كی بنيادی تعليم سب سے پہلے دى جائے تاكہ وه اپنے واجبات وفرائض اور دين كے احكام ومسائل كو اپنی ضرورت كی حد تک سمجھ سكيں الله كے رسول صلى الله عليه وسلم صحابہ كرام كے لیے اكيلے معلم تھے ليكن آپ نے نو ازواج مطہرات كے ذريعہ خواتين كو نو معلمات ديں-

ایک مسلمان مرد يا عورت كے لیے اولين مطالبہ دين كا علم ہے جس سے وه اسلامی زندگی بسر كر سكے پھر دوسرے علوم كا درجہ آتا ہے- اسلام لڑكيوں كی عصری تعليم كا مخالف نہیں ہے البتہ مخلوط تعليم اور اسلامی طور طریقے سے عاری ہوكر تعليم حاصل كرنے كا سخت مخالف ہے-

عصر حاضر ميں لڑكيوں كی تعليم پر بہت زياده توجہ دی جارہى ہے نيز یہ عوام الناس كو باور كرايا جارہا ہے کہ دين كی تعليم اور عصري تعليم ميں اسلام كوئی تفريق نہيں كرتا- اس وقت بہت ساری مسلم لڑكياں عصری تعليم حاصل كركے سركاری اداروں ميں بے پردہ كام كررہى ہیں- مغربی تہذيب نے ان كو گھر كی چہارديواری سے نكال كر بازاروں ، دكانوں ، كلبوں اور ہوٹلوں ميں لاكھڑا كيا ہے نيز مخلوط نظام تعليم نے عورتوں كو غير شريفانہ زندگى گزارنے پر مجبور كرديا ہے اور يہ چيز ان كے ليے كافي خطرناک ہے بقول علامہ اقبال رحمة الله عليہ

جس علم كی تاثير سے زن ہوتی ہے نازن

كہتے ہيں اسی علم كو ارباب نظر موت

ايک عورت كے ساتھ اس سے بڑا ظلم كيا ہوگا کہ اسے کلرک ، ٹائپسٹ اور ايرہوسٹس بننے پر مجبور كيا جائے اسى صورت حال كا اندازه كرتے ہوئے شاعر اسلام علامہ اقبال نے فرمايا تھا-

لڑكياں پڑھ رہی ہیں انگریزی

ڈھونڈھ لی قوم نے فلاح كی راه

روش مغربی ہے مد نظر

وضع مشرق كو جانتے ہیں گناه

يہ ڈرامہ دكھائے گا كيا

سين پرده اٹھنے كى منتظر ہے نگاه

آج وقت كا تقاضہ ہے کہ عورتيں بھی تعليم كے زيور سے آراستہ ہوں اور ايک بیٹی ، ايک بيوی اور ايک ماں كی حيثيت سے اپنی ذمہ دارياں نبھاسكيں اور بچوں كي تربيت بہتر انداز سے كرسكيں- ماں كی گود كو انسان كی پہلی درس گاہ سے تعبير كيا گيا ہے اور يہ حقيقت ہے کہ دنيا ميں وارد ہوتے ہی اس كي تعليم وتربيت كا سلسلہ ماں كی آغوش سے شروع ہو جاتا ہے بچوں كی پرورش و پرداخت ميں اس كا سب سے بڑا كردار ہوتا ہے-

مسلم خواتين كے لیے ضروری ہے کہ وه اپنے دين کے تئيں حساس ہوں اور بلند كرداری كے ساتھ ايسی زندگی گزاريں جس ميں اطاعت و عبديت كی شان پائی جاتی ہو- اسلام كي عظمت سے دل معمور ہوں نيز كھانے پینے میں ، اٹھنے بیٹھنے میں، رہن سہن ميں، پہننے اوڑھنے ميں اور رفتار و گفتار ميں اسلامی شعار كا مكمل پاس ولحاظ ہو- بچوں كی اسلامی تربيت اسى وقت ممكن ہے جب ماں خود دين دار، صالحہ اور پاک طينت ہو عام طور پر كہا جاتا ہے كہ ہر کامياب شخص كے پیچھے كسى عورت كا ہاتھ ضرور ہوتا ہے- عبدالقادر جيلانی رحمة الله كی سچائی كی وجہ سے ڈاكؤوں كا گروه اپنے جرم سے تائب ہو جاتا ہے اس کے پيچھے ايک ماں ہی کا ہاتھ تھا کہ اس نے اپنے بيٹے كو سچائي كی تعليم دی تھی اور جھوٹ بولنے سے منع فرمايا تھا-

مسلم خواتين اولاد كی تربيت ميں اس بات كا مكمل اہتمام كريں كہ انہیں توحيد كی تعليم سب سے پہلے ديں ان كا عقيدہء توحيد زندگی كے كسى موڑ پر نہ ڈگمگائے غرض اينكہ ہر جگہ اور ہر عمل ميں بندگئ رب كی جلوه سامانياں دكھائی ديں نيز اللہ كے رسول صلى الله عليہ وسلم كي اطاعت اورفرماں برداری كا درس اس انداز ميں ديں كہ ان كے دل ودماغ ميں آپ كی سچی محبت راسخ ہو جائے-

علوم اسلاميہ كي اہميت وعظمت دلوں ميں اتاری جائے ، فكر ومزاج، تصوروخيالات، معاملات وعادات كو اسلامي و ايمانی رنگ ميں ڈهالا جائے نيز انہیں اخلاص و للہیت، تقوى و پرہيزگاری، اخلاق و كردار، شرم و حيا، عفت و عصمت كي تعليم دی جائے-

اولاد كے اندراخوت وبھائی چارگی ، ايثار و قرباني، عفو درگزر، جرأت و بہادري اور حقوق كی پاسبانی كی اہميت وفضيلت واضح كريں نيز انہیں معاشرتی آداب سے بھی روشناس کرائیں-

خلاصہ تحرير يہ ہے كہ عورتيں حدود وقيود ميں رہتے ہوئے دينى تعليم كے ساتھ ساتھ عصری تعليم سے بھی ليس ہوں نيز امورخانہ داری، كشيده كاری اور سلائی وغيره سے بھی واقفيت ہو- ايک تعليم يافتہ اور ہنرمند عورت باعزت طور پر زندگی گزارسكتى ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے بچوں کے مستقبل كو سنوارنے ميں اگر معاشى مسائل درپیش ہیں تو اس پركافی حد تک قابو پاسكتى ہے-

اللہ تعالى ہم تمام كو علم كی عظمت اور اہميت سمجھنے والا نيز اولاد كی اسلامی تربيت كرنے والا بنائے (آمين)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے