بیدر۔ 20؍اکٹوبر (پریس نوٹ): ملتِ اسلامیہ کا مقام ومنصب ایک داعی امت کا ہے۔ جب تک باشندگان ِ ملک کی اکثریت اسلام سے واقف نہیں ہوجاتی ، امکان ہے کہ اس وقت تک مسلمانوں کو اچھی نظر سے نہ دیکھاجائے گا۔اِس لئے مخاطب سے معقول رویہ کی توقع کرنا خام خیالی ہوگی۔ ضرورت ہے کہ اپنے مقام ومرتبہ کوپہچاناجانے ، اگر ایسا ہوگاتو ان شاء اللہ ہم دنیاوآخرت میں سرخرو ہوں گے۔ سورہ احزاب میں ہے ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا لیکن سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈرگئے ، مگرانسان نے اسے اٹھالیا، بے شک وہ بڑاظالم اور جاہل ہے ‘‘ ان خیالات کا اظہارجناب محمد اقبال الدین انجینئر نے تربیتی اجتماع منعقدہ مسجد تعلیم نورخان بیدر سے کیا۔ اور آگے کہاکہ رسول اللہ کاارشاد ہے ’’شیطان انسان کادشمن ہے ، جس طرح بھیڑیا ،تنہااور الگ تھلگ پھرنے والی بکری کو اچک لیتاہے ، (ایسا ہی معاملہ ہوگا)لہٰذا نماز قائم کریں اور اتحادواتفاق سے رہنا سیکھیں۔ اجتماعی اصلاح کے لئے مذہب ِ اسلام کا حقیقی اور جامع فہم وشعور حاصل ہو۔ محسن انسانیت ﷺنے فرمایاہے کہ لوگوں میں بہترین وہ ہے جو دوسرے افراد کو فائدہ پہنچائے۔ رحمت ِ الٰہی سے مایوس نہ ہو۔ مصیبتوں میں صبر اور ثابت قدمی اختیار کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ بے جاخواہشات اور رسومات سے بچ کر زندگی گزاریں کیوں کہ ہوس اور خواہشات انسان کی ہلاکت کا سبب بنتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ اسی لئے اسلام دین ودنیا کے حسین امتزاج کا شاہکار مذہب ہے۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دنیا کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا۔ عبادت دراصل اللہ کے سامنے اپنی بندگی کے نذرانے کو پیش کرنا اور اللہ کے احکام کوبجالانے کانام ہے۔ نماز عبادت کی ایسی جامع شکل ہے جس میں دل، زبان ، جسم ، فرد اور اجتماعیت سب شامل ہوجاتے ہیں۔ سورۃ العلق 12-9میں ارشاد ِ ربانی ہے ’’تم نے دیکھا اس شخص کو جو ایک بندے کومنع کرتاہے ، جب کہ وہ نماز پڑھتاہو؟ تمہارا کیاخیال ہے اگروہ بندہ پرہیزگاری کی تلقین کرتاہو‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے