ریاض ، 25 اكتوبر 2024 (پریس ریلیز): سعودی عرب میں اپووا کی طرف سے استراحہ مکہ میں تفریحی ، ثقافتی اور ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں اپووا کے سر پرست انجینیئر عبدالمعین خان نے کردار سازی کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ معاشرہ چونکہ افراد کے کردار پر منحصر ہے اس لیے اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے کردار سازی پر توجہ ضروری ہے آپ نے مزید یہ کہا کہ اخلاقیات جب عمل میں ڈھلتی ہے تو کردار بنتا ہے اپنی گفتگو کو مدلل کرنے کے لیے قرآن اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی-

جامعہ ملیہ اسلامیہ الومنائی ریاض کے صدر انجنیئر غفران احمد نے تجارت کی اہمیت اور فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس وقت مملکت میں تجارت کرنا انتہائی آسان ہے اور اس کے کچھ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ کہا کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بھی یہ عمل محبوب تھا-

اپووا کے خازن حافظ عبدالصمد سلفی کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا-

حافظ زہیر احمد (صدر اپووا) نے حاضرین کا استقبال کیا اور آپسی اخوت و بھائی چارگی کو پروان چڑھانے پر زور دیا اور عرض کیا کہ آج کے پروگرام میں تفریحی ، ثقافتی اور ادبی چیزوں کو اس لیے جگہ دی گئی جس کا مقصد ہر قسم کے لوگوں کو لطف انداز اور محظوظ کرنا تھا-

یاد رہے کہ LKG سے بارہویں کلاس کے بچوں اور بچیوں میں پینٹنگ ، لیمن اسپون اور فٹ بال کا میچ کرایا گیا جس میں طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا-

اس موقع پر شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں چھ شعراء کرام نے حصہ لیا اور ان تمام کا تعلق ہندستان سے تھا- شعراء کو شہ نشیں پر مدعو کیا گیا جس کے بعد ان کی گلدستوں سے تہنیت کی گئی- جنرل سکریٹری عبدالرحمن عمری نے شعراء کا خیر مقدم کرتے ہوئے عرض کیا کہ شاعری روح کی ایسی سرشاری ہے جس سے ہر شاعر اپنے ذوق کے مطابق لطف اٹھاتا ہے آپ نے مزید کہا کہ شاعری سخن کی معراج ہے-

سابق اپووا جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبدالاحد چودھری نے مختلف اشعار پیش کرتے ہوئے اپنے منفرد انداز میں بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دیئے- حمد بذات خود ناظم مشاعرہ نے پیش کیا:

یا رب تری قدرت کی یہ جلوہ نمائی ہے

تو نے بڑی حکمت سے یہ بزم سجائی ہے

ہم جب کبھی گھرتے ہیں طوفان و حوادث میں

ہم سب کی زبانوں پر تیری ہی دہائی ہے

 

نعت عبدالرحمن ناقد عمری نے پڑھی:

بے نام زندگی کو ملی اک نئی شناخت

جب سے رسول پاک کی نسبت میں آگئی

ناقد نبی کے چاہنے والوں میں آگیا

مدح رسول اس کی بھی قسمت میں آگئی

جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا وہ یہ ہیں-

 

سراج عالم زخمی:

غم کی دہلیز پر ہم کھڑے رہ گئے

خواہشوں کے جنازے پڑے رہ گئے

ہم نے جھک کر زمیں پر خدا پالیا

لوگ ضد پر اڑے تھے اڑے رہ گئے

 

علاؤ الدین اسد بلرام پوری:

ایک ہے مذہب ایک ہے قرآن ایک ہی رب اور ایک رسول

الجھے ہیں ہم پھر نہ جانے کیوں مسلک کی زنجیر کے ساتھ

اٹھو ہلالی پرچم لے کر پھر سے اسد لکھ دو تاریخ

صرف تمہیں ہو قوم مبلغ آگے بڑھو تکبیر کے ساتھ

 

عبدالاول سنگرامپوری:

نظر پڑتی ہے جب میری جمال روئے جاناں پر

خرد اپنا میں رکھ دیتا ہوں فورا طاق نسیاں پر

محبت میں اصالت کا تقاضہ ہے یہی اول

سر تسلیم خم کیجئے ہر اک احکام خوبان پر

 

ملک عبدالنور بیلن بلرام پوری:

بجھتا ہوا شرارہ لیے گھوم رہا ہوں

خالی جو ہے پٹارہ لیے گھوم رہا ہوں

اوروں کی چار چار ہوئی شادیاں مگر

میں ایک ہی کھٹارہ لیے کھوم رہا ہوں

 

عبدالرحمن ناقد عمری:

وہ محافظ ونگراں اس سے لو لگاؤ تم

جس نے اٹھتی لہروں سے راستہ نکالا ہے

منزلیں انہیں کی ہیں جن کے عزم پختہ ہیں

کامیاب لوگوں کا بس یہی حوالہ ہے

 

اپووا کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالرحیم خان نے اپووا کا منظوم تعارف پیش کیا-

کوئی اک گھر ہو ایسا جس میں سب ساتھ آجائیں

ہنسیں بھی ساتھ روئیں ساتھ اور سب ساتھ ہی کھائیں

ہمارے اس انوکھے گھر کو اپووا لوگ کہتے ہیں

بہت چھوٹا ہے گھر پھر بھی بہت سے لوگ رہتے ہیں

(اپووا کے سابق صدر ڈاکٹر عبدالرحیم خان سامعین سے مخاطب)

اس موقع پر شہر ریاض کی علیگ، جامعی، سلفی، قاسمی، ندوی اور فلاحی برادری کی ایک بڑی تعداد موجود تھی نیز مسعود عالم خان، عبدالمبین ندوی، وصی اللہ ندوی، محمد عرفان خان، محمد اکمل، محمد یعقوب، حسان ابو المکرم، عتیق الرحمن خان، محمد شاہد خان، محمد اسجد فلاحی، ملک عزیر فلاحی، ڈاکٹر عرفات انیس، ڈاکٹر رضوان خان، ڈاکٹر نوشاد احمد، محفوظ الرحمن، محمد وسیم انصاری، عبدالمعید، عبدالکریم، وحیدالدین سلفی، ہاشم خان، ارشد، عبدالوحید، ارشاد، عبدالحق، ظفر عالم، ایوب خان اور شکیل شمس وغیرهم بھی موجود تھے- پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر نعیم الحق نائب صدر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور عشائیہ کی دعوت دی-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے