نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مدرسہ ایکٹ 2004 کو آئینی قرار دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے 22 مارچ 2024 کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ جس پر سپریم کورٹ نے کامل اور فاضل کی ڈگریوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے کیونکہ یہ یو جی سی سے منظور شدہ نہیں ہیں۔ اس معاملے پر مرکزی درخواست گزار انجم قادری، مولانا نور الحسن خان ازہری اور کیس کے پیروکار نیتا ماسٹر محمد حسن رضا سے بات چیت ہوئی۔

پرنسپل مولانا نورالحسن ازہری صاحب کا کہنا ہے کہ کامل و فاضل کا سرٹیفکیٹ مدرسہ بورڈ نے دیا تھا نہ کہ ڈگری۔ جس کا مطلب ہے کہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والا شخص متعلقہ مضامین پڑھنے اور پڑھانے کی اہلیت رکھتا ہے یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کے لئے دئے جاتے تھے اور جہاں تک ڈگری کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے اور یہ پیچیدگی جو کامل اور فاضل کی درپیش ہے اس کے لیے قانونی راستہ تلاش کیا جائے گا اور ریاستی حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کرکے اس کا حل ڈھونڈھا جائے گا ۔اس کے لئے اساتذہ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تعلیم نظام کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ میڈیا کے افراد کے ذریعہ مدارس کی امیج خراب کرنے کی جو کوشش کی جارہی ہے ہمیں اسے اپنی اچھی کارکردگی کے ذریعہ مٹانے کی ضرورت ہے ۔

کیس کے پیروکار نیتا محمد حسن رضا بلرام پوری کا کہنا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اس فیصلے سے اقلیتی برادریوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ لیکن کامل و فاضل کی ڈگریوں کو تسلیم نہ کرنا بدقسمتی ہے جس کو آگے نہ لے جانے میں ہماری تنظیموں کی بہت سی کوتاہیاں رہی ہیں۔

سنسکرت اسکول اور مدرسہ کی تعلیم مشرقی زبانوں کی حفاظت پر مبنی ہے جیسے کہ عربی اور فارسی۔ اسی طرح سنسکرت اسکولوں میں سنسکرت زبان کو زندہ رکھنے کے لیے زبان پڑھائی جاتی ہے اور سنسکرت زبان کو زندہ رکھنے کے لئے دھارمک کتابوں کا سہارا لیا جاتاہے ،افسوس ہے کہ مدارس کے ساتھ پچھلی حکومتوں کا افسوس ناک اور سوتیلا رویہ رہا ہے کیونکہ اگر کامل اور فاضل کی ڈگریاں یو جی سی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی یونیورسٹی سے منسلک ہوتیں تو یہ مسئلہ ہمارے سامنے نہ آتا ، مدارس کی تنظیموں کی لاپرواہی واضح طور پر نظر آرہی ہے ۔ ہم سب اساتذہ کا ایک وفد حکومت سے ملنے اور اس پر بات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مرکزی درخواست گزار انجم قادری کی جانب سے مذکورہ فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مدرسہ کو بہتر تعلیم اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے قانون بنا کر اس پر عمل درآمد کرے۔

اس وقت اتر پردیش کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کے ساتھ خوشی کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے