مکرمی!
(۱) مغل بادشاہوں کا زمانہ ہے، بادشاہ وقت جہانگیر کی بادشاہت ہے، انگریزوں کا ایک وفد تجارت کی غرض سے ہندوستان آتاہے اور بادشاہ وقت کی خدمت میں قیام پذیر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے غالباًزمانہ۱۶۱۳ء کا ہے، مغل بادشاہ فطری طورپر جہاں سخی تھے وہیں رحم دل بھی،جہانگیر وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اجازت دیدیتا ہے، اس وقت انگریز اپنی تجارت کوفروغ کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد ڈالتا ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ اس کی تجارت کو ترقی ملتی ہے ،جس سے ان کے قدم مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے ،چونکہ یہ قوم مفاد پرست واقع ہوئی ہے اس لئے تجارت کے ساتھ بلکہ تجارت کی آڑ میں اپنی فوجی دفاعی طاقت اتنا مضبوط کردیا کہ آہستہ آہستہ ہندوستان پر قبضہ کرکے سرخ وسیاہ کا مالک بن بیٹھے،اس کے خلاف مغل بادشاہوں نے اپنی ملک کی حفاظت اور آزاد کرانے کے لئے ہرطرح کی قربانیاں پیش کی ،معرکہ خیزجنگوں میں فتح کا پرچم لہراتے رہے وہیں علماء ومشائخ نے بھی ملک کو آزاد کرانے کے لئے متعدد تحریکیں چلائیں اور انگریزوں کو ملک بدر کرنے کے لئے میدان میں سرپر کفن باندھ کر نکل پڑے، اور پھر ہندو،مسلم ،سکھ باہم متحد ہوئے اور اس باہمی اتحاد واتفاق نے انگریزوں کو ملک بدر ہونے پر مجبور کردیا،اور ہمارا ملک ہندوستان ۱۹۴۷ء کو آزاد ہوا۔
جن سرفروشوں اور جانبازوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں اپنی قربانیاں پیش کی وہ’’ مجاہدین آزادی‘‘ کے لقب سے نوازے گئے ، ان میں مولانا محمد علی جوہر،مولانا محمد شوکت علی، میسور کے بادشاہ ،ٹیپو سلطان، مولانا آزاد، مہاتماگاندھی ،بھگت سنگھ، سردار بلم بھائی پٹیل وغیرہ سرفہرست ہیں ،اگران حضرات اور ان کے احباب کی غیر معمولی قربانیاں نہ ہوتی تو ہمارا ملک عزیز انگریزوں کی غلامی سے آزاد نہ ہوا ہوتا، اس لئے اس جماعت کا ملک عزیز ہندوستان پر ایک بڑا احسان ہے ۔
(۲) اگر ہم مشرقی وسطیٰ کا جائزہ لیں تو بعینہٖ یہی صورت حال فلسطین کی ہے،۱۹۴۵۔۱۹۴۱ء کا زمانہ ہے کہ تاناشاہ ہٹلر نے جرمن میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام کیا اور جو یہودی بچ گئے وہ وہاں سے ہجرت کرگئے،دردر کی ٹھوکر کھاتے ہوئے ملکوں کا دورہ کرتے ہوئے ایک گروہ فلسطین پہنچتا ہے اور وہاں کے حکمراں سے پناہ طلب کرتا ہے ،عرب چونکہ طبعی طور پر سخی ہوتا ہے اس لئے یہ درخواست منظور کرلیتا ہے اور وہاں قیام پذیر ہوجاتا ہے، جس وقت یہوی فلسطین آئے تھے اس وقت ان کی تعداد دو درجن سے زیادہ نہیں رہی ہوگی، انگریزوں کی طرح انہوں نے اپنے دیگر یہودیوں کو بلانا شروع کردیا ،جب ان کی اچھی خاصی تعداد ہوگئی تو فلسطین جیسے متبرک وزرخیز سرزمین پر کتے کی طرح ان کی رال ٹپکنے لگی،اور جب ان کے قدم جم گئے تو’’ ایسٹ انڈیا کمپنی ‘‘ کی طرح انہوں نے اپنی دفاعی بلکہ فوجی طاقت اتنی مضبوط کرلی کہ امریکہ سے اسلحہ درآمد کرنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج باشندگان فلسطین کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دیا ہے، یہ قوم فلسطینیوں پر انگریزوں کی طرح ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے تو دوسری طرف ان کا قتل عام کررہی ہے، آج فلسطینی اپنے ملک کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں تو انہیں کو دہشت گرد قراردیا جارہا ہے،چونکہ میڈیا پر اسی قوم کا قبضہ ہے اس لئے مظلوم فلسطینیوں کو دہشت گرد باور کرانے میں کسی حد تک کامیاب ہے مگر اب حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ کون دہشت گرد ہے؟
(۳) کیا ہندوستان کی جنگ آزادی کا پس منظر،فلسطین کی جنگ آزادی کے پس منظر سے مختلف ہے؟ اگر انصاف کے ساتھ دونوں ملکوں کے پس منظر پر غور کیا جائے تو بڑی یکسانیت نظر آرہی ہے اگر ہمارا ملک عزیز۱۹۴۷ء تک انگریزوں کا غلام تھا توآج مشرقی وسطیٰ کا فلسطین، یہودیوں کے غلامی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے تو پھر فلسطینیوں کو اپنے ملک کی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھانا کیا دہشت گردی ہے؟
جنوں کا نام رکھدیا خرد، خرد کا جنوں
تراحسن جو چاہے کرشمہ ساز کرے
آپ کا
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاؤنسل آف انڈیا
کسیا،کشی نگر،یوپی
