سید مقصود
سکریڑی بام سیف اور صدر راشٹریہ مسلم مورچہ، نئی دہلی 
عظیم بھارت کا اگر کوئی سب سے بڑامسئلہ ہے تو وہ ہے منوواد۔ جس کی بنیاد ہی عدم مساوات ، بھائی چارہ سے دشمنی ، انصاف سے نفرت پر رکھی گئی ہے جس کے نتیجہ میں ابن ِ آدم کی ناقدری ، بے عزتی ،اور غیرانسانی سلوک یہاں کے انسانوں سے رکھاگیاہے۔
ایسا کرنے کے لئے اس کاجواز فراہم کرتاہے ۔ شودروں کی غلامی ، اتی شودروں کو گاؤں سے باہر رکھنے ، ان میں سے کچھ کو جنگلوں میں رہنے ، عورتوں کو دوہری غلام بنانے ، شوہر کے انتقال پر خوشی خوشی چتا پر لیٹ کر جل جانے کاماحول بناتاہے۔
عظیم بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ منوواد ہی ہے۔ اس منوواد کی جڑیں ، برہما کے تصور سے جڑی ہوئی ہیں۔ ’’برہما محیط ِ کل ہونے کے بعد برہماہے‘‘ (بحوالہ ’’ستیارتھ پرکاش ‘‘ دیانند سرسوتی ، صفحہ نمبر 11، اردو ترجمہ ۔ چموپتی ، ایم اے)
اس قدیم برہما کے تصو ر کو تبدیل کرکے متبادل برہما اور اس کے سات بیٹے سبت پرجاپتی جو سبت رشی کے نام سے معروف ہے۔ یہ سبت رشی کاظہور اصلاًبرہمن نسل ہوگئی۔ اور اس کے چاروں طرف فلسفوں ، روایات ، تصانیف ، ثقافت ، تہذیب کا مردہّ کاجال بن گیا ہے ۔(ہندتوا ۔ اسرارعالم ۔ صفحہ 9، اشاعت :فروری 2000، دارالعلوم نئی دہلی )
اس جال کو توڑنے کے لئے کئی تحریکیں چلیں ۔ مذہب بنے ، مسلمانوں کے دورِ اقتدار میں اسلامی تعلیمات کے اثرات سے بھکتی تحریک شروع ہوئی۔جو درحقیقت ذات پات کے نظام (ورن ویوستھا) کے خلاف تھی۔ عزت نفس کی تحریک تھی۔ اپنے آپ کو مہذب انسان منوانے کی کوشش تھی۔ ابن ِ آدم کی بے وقعتی ، بے عزتی کی جگہ ، انسانی عظمت کا احترام منوانا تھا۔ صوفیائے کرام بھی اس کا حصہ تھے۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ، بابافرید ؒ، سنت کبیر، سنت روی داس، دکن میں گروبسویشور ، پنجاب میں گرونانک اہم ہیں۔ ان سب کی تعلیمات میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ گرونانک نے اسی بنیاد پر ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی ، جو مساوات ، بھائی چارہ ، انصاف کی بنیاد پر سماج کی تشکیل چاہتے تھے۔ جو ایسا کرنا چاہے یقینا اس کارویہ منوواد(برہمن واد، ہندتوا) کے خلاف ہی ہوگا۔
سکھ مذہب کاتاریخی پس منظر :۔ محمد بن قاسم کی سندھ 712؁ء میں آمد اور پہلی مسلم ریاست کاقیام بھارت کے سماجی نظام میں بڑی ہلچل مچی ۔ ذات پات کے نظام نے جو پابندیاں یہاں کی اکثریت یعنی شودروں پر لگائی تھیں، وہ سب دھیرے دھیرے ختم ہونے لگیں۔ مگر یہ کام دہلی سلطنت کے قیام تک سندھ تک ہی محدودرہا۔ دہلی سلطنت 1290سے 1526جس میں خاندان ِ خلجی ، 1290سے 1320؁ء خاندان تغلق ، 1320سے 1414؁ء سید خاندان ، 1414؁ء سے 1451؁ء خاندان ِ لودھی ، 1451؁ء سے 1526؁ء ، خاندان لودھی کے بعد 1526؁ء سے 1857؁ء تک مغلوں کی حکومت رہی۔ اس دوران اسلامی تعلیمات کے اثرات(۱) جن کوصوفیائے کرام کی کوششوں کی وجہ سے یہاں کے وہ طبقات جن کو ورن ویوستھا میں پڑھنے لکھنے، حکومت چلانے ، تجارت کرنے کی قانونی پابندی تھی۔ صرف غلامی ہی ان کا مقدر بنادیاگیاتھا۔ اس نظام میں بڑی تبدیلی آئی۔ (۲)ظالمانہ نظام کے خلاف آواز اٹھانے کا شعور بیدار ہوا۔ (۳)انسانیت سے گرے ہوئے انسانوں کو اپنی غلامی کااحساس اور بغاوت پر آمادگی ۔ بھارت میں جہاں جہاں اسلام پہنچا ، اور مسلم ریاستیں قائم ہوئیں، سب سے پہلے وہیں پر اس نظام کے خلاف آواز اٹھی۔ آوازاٹھانے والے کئی انقلابی شخصیات میں اس ظالمانہ نظام کوچیلنج کیا۔ایسے حالات میں برہمن اپنے مخالف کو ختم کرنے کے لئے پرانا اور آزمودہ نسخہ استعمال کیا۔
(۱) نظر انداز کرو،(۲) بدنام کرو، کردارکشی کرو (۳) ختم کرو(۴)پوجاکرو
سنت تحریک کے سب ہی بزرگوں کے ساتھ یہی کیاگیا۔ اسلام کی بنیاد ی تعلیمات کے اثرات کے سبب سنت تحریک برپا ہوئی۔کبیر اور روی داس جیسے ہزاروں سنتوں نے اپنے اپنے زمانہ اور علاقوں میں کام کیا۔دکن میں گروبسویشور نے لنگایت دھرم کی بنیاد ڈالی ۔ توپنجاب میں گرونانک نے سکھ دھرم قائم کیا۔
گرونانک :۔ گرونانک 1469؁ء کو ایک کاشتکار ، تاجر محکمہ مال کے اہلکار ، مہنت کالوجی کے گھر رائے بھوکے تلاونڈی میں پیدا ہوئے۔ جسے اب نانکانہ صاحب کے نام سے جانا جاتاہے۔ جو آج کل پنجاب لاہورکے نزدیک پاکستان میں ہے۔ ان کے ترک ِ دنیا اور دنیا بیزاری کے خیالات کو دیکھ کر ان کی توجہ ہٹانے کے لئے 18سال کی عمر میں ان کی شادی ماتا سولنکھی سے کردی گئی ۔ ان کے بطن سے دولڑکے ہوئے ، بڑے صاحب زادے کانام سری چند ، طبعیتاً گوشہ نشین تھے۔ آگے چل کر انھوں نے اداسی فرقہ کی بنیادرکھی ۔ ان کے پیروکار راہبانہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے دوسرے لڑکے لکی داس تھے ۔ انھوں نے شادی کی ، اور ان کی اولادیں ’’بیدی ‘‘صاحب زادوں کے لقب سے مشہور ہیں۔گرونانک کے سوانح نگار کہتے ہیں،گرونانک دیو پر روحانی اثرات منکشف ہوئے۔ ایک صبح جب وہ سلطان پور کے نزدیک بہنے والی ایک چھوٹی سی ندی میں غسل فرمارہے تھے وہ حسب ِ معمول مراقبہ میں چلے گئے۔ جب واپس آئے تو ان کی زبان پر تھا ’’نہ کوئی ہند و ہے اور نہ کوئی مسلمان‘‘ اس سے مرا دیہ تھی کہ مذہبی تفریق انسانوں کی اپنی اختراع ہے۔ خداکی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ اس کے بعد وہ خدا کاپیغام لوگوں تک پہنچانے کے لئے مکمل طورپر اپنی زندگی وقت کردی ۔
بنیادی تعلیمات :۔ سبھی مذہب کے رہنماؤں اور مقدس مقامات کادورہ کیا۔ جس میں بدھ ، ہندو، اور مسلمانوں کے پاس گئے۔ سب کو اپنے اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بات کہی۔ جو ان کی تعلیمات کی بنیاد ہے۔ ایک خدا کی پرستش ، مساوات ، ذات اور ورن کی بنیاد پر اونچا اور نیچا سمجھنے کے بجائے ،کردار کی بنیاد پر بڑاچھوٹا ، اچھا برا ہوتاہے۔وہ توحید پرستی کے بارے میں بڑے سخت تھے۔ چپ جی صاحب کا منتر ، اس طرح شروع ہوتاہے ۔ یہ دعائیہ منتر جس کو ہرصبح سکھ دھرم والوں کو لازماً پڑھنا پڑتاہے۔ اس کو سکھ دھرم والے مول منتر مانتے ہیں۔ اس کاترجمہ اس طرح ہے
’’پیداکرنے والا ، روزی دینے والا ، مارنے والا ایک ہے‘‘
’’اس کا نام سچا ہے ،کبھی کم وبیش نہیں ہوتا،
دنیاکو پیدا کرنے والااسی میں موجودہے۔
وہ کسی بھئے کے بغیریعنی اس کو کسی کا ڈر نہیں،
وہ کسی دشمنی کے بغیر ہے یعنی اس کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے
اس کاسروپ کسی وقت کی پابندی میں نہیں ہے یعنی وہ جنم مرن میں نہیں آتا۔ اس کی صورت وشکل ، (کسی ماتاکے) گربھ میں نہ آیا۔ وہ ازخود موجودہے۔ اپنے آپ پید اہواہے ۔ اس کا کوئی موجدیاپید اکرنے والا نہیں ہے۔ (بحوالہ’’سند رگٹکا ‘‘سوڈھی تیجاسنگھ جی ، اشاعت :بھائی جواہر سنگھ کرپال سنگھ اینڈ کمپنی ، باغ رامانند ، گلی نمبر 8، امرتسر، صفحہ نمبر 5)
اس کے آگے کہتے ہیں ، ’’پہلے بھی سچا تھا ، جگوں (جگ کی جمع) کے شروع میں بھی سچاتھا۔ اب بھی سچا ہے۔ گروفرماتے ہیں ’’آگے بھی سچاہی ہوگایعنی برہماتما کا سروپ تین کال ، اور اس سے پہلے بھی سچاتھا، وہ کبھی غیرموجودنہیں ہوتا۔ وہ یکساں رہتاہے۔ (ایضا ً۔ صفحہ نمبر 6)
علامہ اقبال نے ایک نظم ’’گرونانک ‘‘ کہی تھی۔ اس کاآخرشعر اس طرح ہے جو گرونانک کی شخصیت ، ان کی عظمت ، اور ان کی توحیدپرستی کی مثال ہے    ؎
پھر اٹھی آخری صد اتوحید کی پنجاب سے
ہند کو ایک مردِ کامل نے جگایاخواب سے (اقبال کی نظم ’’نانک‘‘)
ذات پات کے تصور میں سماج کاوہ طبقہ ، جو اپنے آپ کو خداؤں کی اولاد ، برہما کے منہ سے پید اہونے کی وجہ سے خود کو سب سے عظیم سمجھتاہے۔ اور ایساغرور ان کے اندر پید اہوگیا، وہ پیدائش کی بنیاد پر ، عظیم ہے ، ہمارے علاوہ جو ہیں، وہ سب رذیل ہیں۔ یہ انداز ِ مغرورانہ ، بھارتیہ سماج کے لئے سب سے بڑا ناسور ہے۔ گرونانک نے اس غرور کوتوڑنے کے لئے کئی سوالات کھڑے کئے ، وہ پوچھتے ہیں، مذہب اور ذات کی اہمیت ، اور حقیقت کو جاننے کے لئے کیوں نہ ایک امتحان لیاجائے ، ہاتھ میں زہر لے کر چکھنے کے بعد ذات پات کا غرو ر کس طرح مرنے سے بچاسکتاہے؟(شری گروگرنتھ صاحب ، مرتبہ :نانک سنگھ نشتر، انٹرنیشنل سکھ سنٹر فار انٹرفیتھ ریلیجن ، سنت بھون ، 15-3-137، گاولی گڑا چمن حیدرآباد ۔ صفحہ نمبر 62-63)
خدا کے وجود کا احساس اگر صدقِ دل سے کیاجائے ، اور اس کو یاد کریں ، تو گرونانک جی کہتے ہیں،
صدق کر سجدہ ،من کر مقصود
جہہ دھر دیکھا، تہہ دھر موجود (۱) شبد(۴)
ترجمہ :۔ اپنے صدق کو سجدہ بنا، آدماغ سے گیان حاصل کرنے کو زندگی کامقصد بنا۔ پھر جس طرف دیکھے گاہر طرف خدا کی موجودگی کااحساس ہوگا۔ (شری گروگرنتھ صاحب ، مرتبہ :نانک سنگھ نشتر۔ صفحہ نمبر 36-37)
برہمن دھرم میں جہاں اوتار کاتصور ہے ، اس کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں، سکھ مذہب میں کوئی اوتار نہیں ہے۔ خدا کو مادی شکل میں دنیامیں آنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آجائے تو وہ خدا نہیں۔ بیکراں خدا محدودیت کاشکار ہوجائے گا۔ اوتارواد کے خلاف اسلام نے بھی رسولوں کاتصور دِیا۔ جو خدا کے احکامات کو انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس سے ان کی ہدایت کا سامان ہوتاہے۔گرونانک جی کہتے ہیں،
  دوزخ پوندا کیوں رہے
جاں چت نہ ہوئے رسول
ترجمہ :۔ جو دِن رات روٹی روزی کے چکر میں بھٹکتا پھرتاہے ۔ وہ دوزخ جانے سے کیسے بچ سکتاہے۔ جس کے دل میں رسول کی ہدایت نہیں ہے۔
گروگرنتھ صاحب کی تاریخ ِ تدوین وترتیب :۔ عام طورپر گروگرنتھ صاحب کے بارے میں ایک نظریہ ہے کہ پنجابی زبان میں گرونانک کے ذریعہ کہاگیاکلام کامجموعہ ہے ۔ حقیقت کچھ اور ہے ۔ جب کہ فارسی ، سنسکرت کے علاوہ سارے ملک کی بول چال کی مختلف زبانوں پر مشتمل ہے۔ گروگرنتھ صاحب کو تحریر میں لانے کے لئے پانچویں گرو، گروارجن داس نے گرمکھی زبان میں اس کو تحریر کیا۔ جس میں 36بزرگوں کاکلام ہے۔ جن میں 6سکھ گرو، 2اچھوت ، 7صوفی سنتوں ، اور ہندووںکے مختلف طبقات پر مشتمل ہے۔ مسلمانوں میں شیخ کبیر جولاہا(اب تک یہ طئے نہیں ہوسکاکہ یہ مسلمان تھے یاہندو) ، شیخ بھیکن (اترپردیش)، ستناجی قصاب، بھائی مردانہ ، اور سب سے اہم باباشیخ فرید ؒ ہیں۔
خالصہ کی پیدائش :۔ گروتیغ بہادر کے اور گروگوبند صاحب کے زمانے میں سکھ مذہب ہتھیار بند ہوگیا۔ گروگوبند صاحب نے خالصہ کی تشکیل دی ۔ جس میں پانچ لوگ گروکے نام پر جان دینے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان میں سے صاحب چندر ان کاتعلق بیدر سے تھا، اور یہ پانچ لوگ پنچ پیارے کہلائے ۔ جوگرو کی بات پر جان دینے کیلئے تیار ہوگئے۔ اسی لئے خالصہ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
سکھ دھرم اور برہمن :۔ گرونانک نے سماج کے لئے ایک نظریہ دیا، جو منودھرم کے خلاف تھا۔ اسی لئے چھ گروؤں کے بعد سکھ ہتھیار بند ہوگئے۔ اور ان کی طاقت بڑھ رہی تھی۔ سکھ مذہب سے آئی اس تبدیلی کو اس طرح کہہ سکتے ہیں۔ منودھرم کے حساب سے کسی غیر چھتری کو ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ مگر گرو نے سب کو ہتھیار بند کرکے جنگ لڑنے کی اجازت دی۔دھرم کا پرچار صرف برہمن کرسکتاتھا، مگر گرونے اس کام پر غیربرہمنوں کولگایا۔ سکھوں کے دس گروہوئے جن میں سے ایک بھی برہمن نہیں تھا۔ اس طرح سماج میں سکھ دھرم کی وجہ سے بڑی تبدیلی آئی۔ اور ذات پات کانظام کمزور ہوا۔ یہ ایک بڑی خوش آئند تبدیلی تھی بھارتیہ سماج میں جس کو ہم محسوس کرکے دوست اور دشمن کی پہچان کرسکتے ہیں۔ جس سے ہمارے رویہ میں تبدیلی کے قوی امکانات ہیں۔ اس موقع پر گرونانک جینتی پر یہی پیغام ہم کو پہنچانا چاہیے۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے