مسلم برادری دنیا کے حالات دیکھ کر بھی ضمیر کو بیدار کرنے میں ناکام کیوں؟
سہارنپور ( احمد رضا): ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بر اعظم کے ہزاروں علماء کرام نے ضمیر کی آواز پر اپنے ایمان کی طاقت سے ظالم سے ظلم حکمراں کو جھکنے اور راہ فرار اختیار کر نے پر مجبور کر دیا مگر ظلم و جبر اور بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے بزدلی كا مظاہرہ نہی کیا آج ملت اسلامیہ کافی بڑی تعداد میں ہونے کے بعد بھی ظلم اور فرعونیت کا مقابلہ کرنے سے کترا رہی ہے !*ہماری ملت قدم بہ قدم شرمندہ ہو رہی ہے نہ جا نے کیوں حق کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے کیوں ایمان کے تقاضے کو پورا کرنے میں ناکام ہے آج ضرورت ہے کہ ہم خد کا جائزہ لیں اور تبدیلی لائیں آگے بڑھیں یاد رکھیں حاکم الحاکمین صرفِ اور صرفِ اللہ رب العالمین کی ذات گرامی ہی ہے* بڑی حیرت کی بات ہے کہ جس قوم کو اللہ رب العزت نے قرآن مجید جیسا پر نور اور حکمت سے لبریز کلام عطا کیا ہو اس کے باوجود بھی وہ قوم پست اور بزدل ہو کر دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہی ہے اور دنیا کے حالات حاضرہ دیکھ کر بھی اپنے ضمیر کو بیدار کرنے میں مکمل طور سے ناکام بنی ہوئی ہے غور طلب حقیقت ہے کہ جس کلام اللہ سے سبق حاصل کرنے کے بعد دیگر اقوامِ کے انسان جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں اور اپنی دینی اور دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کا خواب مکمل ہوتا دیکھ رہے ہیں وہیں آج خود دین اسلام میں آنکھ کھولنے والی قوم دین اور دنیا میں پست ہوتی جا رہی ہے یہ بڑا خطرناک رحجان ہے وقت تیزی سے گزر رہا ہے اگر وقت رہتے بیدار نہی ہو سکے تو جہنم آپکا مقدر بنِ جائیگا ؟ عام جائزہ لیں تو یہ بات بلکل درست اور صحیح ہے کہ ان دنوں اہل ایمان پوری دنیا میں خد کو پست اور لاچار محسوس کر رہے ہیں دنیا بھر میں خد پرستی ، ذات برادری اور مسلکی منافرت کے سبب ہماری ملت اسلامیہ کا تماشا بنا ہوا ہے ہم ہر ملک اور علاقہ میں مٹھی بھیر حاسد ظالم اور جابر گروہ کا شکار بن کر ذلیل و خوار ہیں اس کے بعد بھی ہم ایک دوسرے کی برائی تنقید اور غیبت کرنے میں پیش پیش ہیں ہمکو ستر سالوں سے اپنے حق اور ملک کے لئے جنگ میں شریک فلسطینی عوام کی شہادتیں نظر نہیں آ رہی ہیں ہمکو شہید ہوئے بچوں مرد اور خواتین سے تھوڑی بھی ہمدردی نہیں بس اپنے آپ میں مگن ہیں لعنت ہے ایسی سو چ اور فکر پر کہ جس میں حق اور انصاف کا ساتھ دینے اور سچ بولنے کی ہمت بھی نہ ہو لگاتار 13 ماہ سے حماس تن تنہا ظالم جابر اسرائیل کا مقابلہ کرتا آرہا ہے بہت سے مغربی اور مسلم ممالک نے اور اپنے ہندوستان کے درجن بھر مسلم علماء کرام اور سوشل تنظیم کے افراد نے اپنی اپنی تنظیم کی جانب سے فلسطینی ریاست کے لئے کھانے ،کپڑے اور دوائیوں کا بندوبست کیا جسمیں اہل سنت ، اہل تشیع اور بریلوی مسلک کے پیروکار سب سے زیادہ ہمت دکھا رہے تھے آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے کوئی مسلک يا ذات برادری سامنے نہی آئی اسرائیل کی فرعونیت کو للکارنے کی کسی بھی مسلم ملک نے ہمت نہیں دکھائی جن افراد نے ملت اسلامیہ کے اتحاد اور سدھار کے لئے کچھ بھی تعاون کیا وہ لائق تحسین کارکردگی کا مستحق ہے آج اگر ایران نے 1800 كلو میٹر کا سخت ترین سفر طے کرتے ہوئے اسرائیل کے سینہ پر لات مار دی تو اس بات کو شیعہ اور سنی کے نظریہ سے پیشِ کرنا ملت اسلامیہ میں موجود آپسی خلوص اور بھائی چارے کو ضرب لگانے جیسا عمل ہے آج پستی سے نکلنے اور ظالموں کو سبق سکھانے کے لئے* لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ* پر ایمان رکھنے والوں کو متحد ہو نا ہی پڑیگا مسلکی منافرت پھیلانے والے بیان اور تحریریں ملت اسلامیہ کو خسارہ پہنچانے کے سوائے کچھ بھی نہیں دے سکتی ہیں خدارا صرف صرفِ اہل ایمان کی حیثیت سے زبان کا استعمال کریں یہی بہتر ہوگا یہ موقع ایک دوسرے کی تنقید یا مخالفت کا نہی خدارا اپنا وزن اور اپنی حیثیت کا وزن جانچ پڑتال کرو اپنی حیثیت سے انجان مت بنو پستی اور بزدلی سے باہر نکال کر پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے سیکھ حاصل کرتے ہوئے سچ اور جھوٹ میں فرق محسوس کرتے ہوئے حق اور انصاف کے لئے باہر نکل کر مظلوموں کی مدد کریں اور ظالم کو ظالم کہنے کی ہمت پیدا کریں زندگی اور موت پر اللہ رب العزت کی قدرت کار فرما ہے جب تک حکم ربِ کائنات نبی ہوگا ہمکو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچے گا اس لئیے لازم ہے کہ حق اور جان مال کی حفاظت کے لئے متحد ہو جائیں موت کے خوف سے باہر نکلیں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے اللہ اکبر اور حق کا نعرہ بلند کریں یہ حاسد جابر اور اہل ہنود آپکے ایمان کی طاقت سے تھر تھر کانپنے لگے گیں ضروری ہے کہ خد میں بدلاؤ پیدا کرو اور پھر دیکھو وقت کیسے کروٹ بدل تا ہے!
