بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): انجمن تعمیرِ ادب ردولی  کے زیرِ اہتمام شکیل ردولوی کے رہائش گاہ پر ایک عظیم الشان  طرحی مشاعرے کا اہتمام  کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت استاد شاعر مجیب صدیقی کرنیل گنجوی نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض شکیل ردولوی نے انجام دیئے۔
 مشاعرہ میں مہمانانِ خصوصی کے طور پر  چئر مین جبار علی اور ڈاکٹر ریحان علوی موجود رہے۔ مہمانانِ ذی وقار  عزم گونڈوی جبکہ مہمانانِ اعزازی کے طور پر قاری عقیل ضیا  اور مسٹر امیٹھوی نے شرکت فرمائی۔
 صدر مشاعرہ مجیب صدیقی نے ردولی کے ادبی منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ردولی دورِ قدیم سے علم و ادب کا  گہوارہ رہا ہے۔ یہاں شاعروں ادیبوں نے  وہ کار ہاۓ نمایاں انجام دیا جسکو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
مشاعرہ کی طرح تھی: "خون جگر سے اپنے نہانا پڑا مجھے”۔  مشاعرہ کامیابی کے ساتھ دیر رات تک چلا۔
  مشاعرہ میں پڑھے گئے پسندیدہ اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
دنیا میں آکے رونے سے ہوتا ہے جو شروع
وہ نغمۂ حیات بھی گانا  پڑا مُجھے
مجیب صدیقی گونڈا
بزم ادب سجا کے جو شہر مجاز میں
جب آپ نے بلایا تو آنا پڑا مُجھے
عزم گونڈوی
سچ بول کر کسی کو بچانا پڑا مُجھے
بدلے میں اپنی جان گوانا پڑا مُجھے
ڈاکٹر ریحان علوی بارہ بنکوی
بلوائیوں سے خود کو بچانے کے واسطے
مجبور ہو  کے ہاتھ اٹھانا پڑا مُجھے
قاری عقیل ضیا
پوچھا شہید آپ وطن پر کبھی ہوئے
پھر تو ہزاروں نام گنانا پڑا مُجھے
اُس مالکِ وجود سے کیا منحرف ہوئے، سر کو کہاں کہاں نہ جُھکانا پڑا مُجھے
مسٹر امیٹھوی
ہونے لگا جو سرد مری قوم کا لہو
تب کربلا کا ذِکر سنانا پڑا مُجھے
شکیل ردولوی
اک در کو چھوڑنے کی سزا مُجھ کو یہ ملی
ہر در پہ اپنے سر کو جھکانا پڑا مُجھے
مجیب ردولوی
لگنے لگا جو اپنے ہی پرچھائیوں سے ڈر
گھر کا ہر اِک چراغ بجھانا پڑا مُجھے
عظیم ردولوی
خونِ مجاہدین بھی میرے لہو میں ہے
اہلِ جہاں کو یہ بھی بتانا پڑا مُجھے
علیم کشش
عامر نہ پوچھو کیسے گُزرتی ہے زندگی
ہر آرزو  کو دِل میں  دبانا  پڑا  مُجھے
ؓعامر متین
زخمِ جِگر کو اپنے چھپانا پڑا مُجھے
غم ضبط کر کے سب کو ہنسانا پڑا مُجھے
ظفر اقبال
ان کے علاوہ شہیب کوثر، ڈاکٹر اشوک کوشل، محمد عمران ندوی اور جون خادم سمیت تمام دیگر شعراء نے بھی اپنا طرحی کلام پیش کیا۔
مشاعرہ کامیابی کے ساتھ دیر رات تک چلا ۔ مشاعرہ میں خاص طور سے  سرفراز نصراللہ خاں قومی سکریٹری اقلیتی سیل  سماجوادی پارٹی، ڈاکٹر فہیم خاں،صغیر خاں،  شبیہ الحسن سبھاسد یوسف اصغر،جمال قریشی،نسیم پرنس،  اشتیاق احمد خان  ماسٹر نثار، ماسٹر صادق، حاجی  مشکور، محمّد یونس، حافظ جلیس، مسیح الدین اور محمّد مبین عثمانی وغیرہ نے شرکت فرمائی۔
 آخر میں بزم کے جنرل سیکریٹری شہیب کوثر نے شعراء و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے