راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کا پر زور مطالبہ 
سنگھ کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے عزت مآب وزیر تعلیم سمیت تعلیم، صحت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کمیٹی کے صدر کو سونپا میمورنڈم
حالیہ دنوں میں، حکومت نیپال کی جانب سے ایک جامع تعلیمی بل کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، جو تعلیم سے متعلق ملک کا اب تک کا سب سے جامع اور ہمہ جہت منصوبہ بندی کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا ہوا ایک آئیڈیل اور مستحکم ڈرافٹ تصور کیا جا رہا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں ملک کی دوسری بڑی اقلیت کے تعلیمی حقوق کو پورے طور پر ہضم کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک کے تابناک مستقبل کا نقشہ اتنی بڑی اقلیت کو ساتھ میں لئے بغیر کبھی بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی کوئی تعلیمی ڈرافٹ مذہبی تعلیم کی آزادی کے منشور پر عمل کرتے ہوئے اسے اعتبار میں لئے بغیر جامع ہو سکتا ہے،  اس لئے مدرسہ کی تعلیم کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مسلم کمیونٹی کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے، مدارس کے فلاح و بہبود کو بہتر بنانے اور ان مدارس میں پڑھانے والے علماء کرام اور دیگر اساتذہ عظام کی تقرری کو یقینی بنانے کے لئے اس ڈرافٹ میں ان کے حقوق کو شامل کرنا از بس ضروری ہے۔
موجودہ صورتحال میں حکومت نیپال کی جانب سے مدارس کو دی جانے والی مالی امداد، جو کہ تین لاکھ نیپالی روپے پر مشتمل ہے، انتہائی کم ہے۔ لہٰذا، اس امداد کو کم از کم اس سطح تک بڑھایا جانا چاہیے جو مدارس کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔
 راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے دارالحکومت کٹھمنڈو میں انہیں مضامین پر مشتمل ایک میمورنڈم عزت مآب وزیر تعلیم محترمہ بدیا بھٹرائی صاحبہ اور تعلیم، صحت اور اطلاعاتی کمیٹی کے صدر محترم *امر بہادر تھاپا* کی خدمت میں پیش کیا۔
واضح رہے کہ صدر کمیٹی کی صدارت میں دار الحکومت میں آج ہی ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں تعلیمی مسائل پر گفتگو کی گئی، اس اجلاس میں عزت مآب وزیر تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی محترمہ بدیا بھٹرائی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھیں۔
اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سکریٹری نے عزت مآب وزیر تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی محترمہ بدیا بھٹرائی صاحبہ اور تعلیم، صحت اور اطلاعاتی کمیٹی کے صدر محترم امر بہادر تھاپا سے بالمشافہ ملاقات کر کے بدست خود ان دونوں کی خدمت میں الگ الگ میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم کے مضمون پر گفتگو کرتے ہوئے راشٹریہ مدرسہ سنگھ کے صدر اور استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال *ڈاکٹر عبد الغنی القوفی* نے کہا کہ صدیوں سے مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ ومدرسین نیز علماء کرام کا مستقبل غیر یقینی اور خطرے میں ہے، جبکہ وہ عصری سکولوں کے بالمقابل کہیں زیادہ محنتی، پابند اور احساس ذمہ داری رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان علماء اور اساتذہ کی تقرری کو مستقل کرنے اور ان کی سروس کو پائیداری بخشنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
پہلے مرحلہ میں حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مدارس کو کم از کم دو اساتذہ کی ابتدائی تنخواہ کے برابر مالی امداد فراہم کی جائے، کیونکہ موجودہ امداد ناکافی ہے۔
راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے نائب صدر *مولانا جیش مکی* نے کہا کہ ہم نے اس موقعہ پر یہ وضاحت بھی کی کہ ہمیں تعاون صرف تین لاکھ دیا جا رہا ہے جبکہ مطالبہ سارے مضامین کو داخل کرنے کا ہے، جن سے ہمارا تشخص ہی خطرے میں پڑ جائے بلکہ مدرسہ کی شناخت ہی ختم ہو جائے، یہ کیسا مطالبہ ہے ہونا یہ چاہئے کہ حکومت تعاون کی رقم بڑھائے پھر جن عصری موضوعات کو مدارس کے اپنے مواد کے شانہ بشانہ چلایا جا سکتا ہے اس طور پر کہ ان کی شناخت کو کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو اس پر بات کی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر القوفی نے اس حوالے سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی ہمارے یہاں ضروری عصری مواد بہت سارے مدارس بلکہ سارے مدارس میں داخل نصاب ہیں۔ ان کے معیار اور کوالٹی پر بات کی جا سکتی ہے اور تعلیم وتربیت کا شعبہ عام طور پر خواہ عصری ہو یا دینی لگاتار نظر ثانی کا محتاج بھی ہوتا ہے۔ لیکن کوئی چیز جبرا تھوپنے کا مزاج قطعا ناقابل قبول ہے۔
مجموعی طور پر راشٹریہ مدرسہ سنگھ کے دونوں میمورنڈم کو بڑی اہمیت دی گئی اور متعلقہ جہت کی جانب سے اس سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے